مستضعفين كى كاميابي

مستضعفين كى كاميابي

جلالى : آپ دنيا كى حالت كو جانتے ہيں كہ زمين كے ہر گوشہ ميں مستضعفين و كمزورلوگوں پر ظالم و ستمگر و مستكبرين حكومت كررہے ہيں ، ان كى تمام چيزوں پر مسلط ہوگئے ہيں اور انھيں اپنى طاقت سے مرعوب كرركھا ہے _ ان حالات كے پيش نظر حضرت مہدى كيسے انقلاب لائيں گے اور كيونكر كامياب ہوں گے؟

ہوشيار: مستكبرين پر امام مہدى (ع) كى كاميابى دنيا كے مستضعفين كى كاميابى ہے _ جو كہ اكثريت ميں ہيں اور سارى قدرت انھيں كى ہے _ مستكبرين كى تعدا د بہت ہى كم ہے جس كى كوئي حقيقت نہيں ہے _ اسى لئے امام مہدى كى كاميابى كا امكان ہے يہاں ميں ايك بات كى تشريح كردوں تا كہ مدعا روشن ہوجائے _

قرآن و احاديث سے يہ بات سمجھ ميں آتى ہے كہ دنيا بھر كے مستضعفين آخر كار اس عالمى انقلاب ميں مستكبرين پر كامياب ہوں گے كہ جس كے قائد امام مہدى ہونگے اور طاغوتى نظام كو ہميشہ كيلئے نابود كركے دنيا كى حكومت كى زمام سنبھاليں گے _ قرآن مجيد ميں خداوند عالم كا ارشاد ہے:

'' ہم نے ارادہ كرليا ہے كہ دنيا كے مستضعفين پر احسان كريں اور انہيں امام بنائيں اور زمين كا وارث قرارديں اور زمين كى قدرت و تمكن ان كے دست اختيار ميں ديديں ''_(1)

جيسا كہ آپ نے ملاحظہ فرمايا كہ مذكورہ آيت اس بات كى حتمى نويد دے رہى ہے كہ دنيا كى طاقت اور جہان كا نظام مستضعفين كے ہاتھوں ميں آئے گا _ اس بناپر امام مہدى كى كاميابى مستكبرين پر مستضعفين كى كاميابى ہوگى موضوع كى وضاحت كيلئے درج ذيل نكات پر توجہ فرمائيں :

استضعاف كے كيا معنى ہيں اور مستضعفين كون لوگ ہيں ؟

مستكبرين كى كيا علامتيں ہيں؟

مستضعفين مستكبرين پر كيسے كامياب ہوں گے ؟

اس عالمى انقلاب كى قيادت كوں كرے گا ؟

قرآن مجيد ميں مستضعفين كو مستكبرين و طاغوت كے ساتھ بيان كيا گيا ہے اس لئے ان دونوں كى ايك ساتھ تحقيق كرنا چاہئے _ قرآن مجيد ميں مستكبرين كى كچھ علامتيں اورخصوصيات ذكر ہوئے ہيں ايك جگہ فرعون جيسے مستكبرين كے لئے فرماتا ہے :

'' بے شك فرعون نے زمين ميں بہت سر اٹھا يا تھا اور لوگوں ميں اختلاف و تفرقہ پيدا كيا تھا ايك گروہ كو كمزور بناديا تھا ان كے لڑكوں كو قتل كرتا تھا اور لڑكيوں كو زندہ چھوڑ ديتا تھا كيونكہ وہ مفسدوں ميں سے تھا _(2)

مذكورہ آيت ميں فرعوں كيلئے جو كہ مستكبرين ميں سے ہے ، تين علامتيں بيان ہوئي ہيں : اول بڑا بننا اور برترى چاہنا _ دوسرے لوگوں ميں اختلاف و تفرقہ پيدا كرنا تيسرے فساد پھيلانا _ دوسرى آيت ميں فرماتا ہے كہ :

'' فرعون نے زمين ميں بہت سر اٹھايا تھا كہ وہ اسراف كرنے والوں ميں سے تھا''_ (3)

اس آيت ميں اسراف اور سر اٹھانے كو بھى مستكبرين كى صفات قرار ديا گيا ہے دوسرى آيت ميں ارشاد ہے:

'' فرعون نے موسى كى تحقير كى اور لوگوں نے اس كى اطاعت كى كيونكہ لوگ فاسق تھے'' (4)

اس آيت ميں لوگوں كى تو ہين كرنے كو مستكبرين كى صفات ميں شمار كيا گيا ہے اور يہى معنا لوگوں كى اطاعت كے ہيں _

دوسرى آيت ميں ارشاد ہے :

''موسى نے قارون ، فرعون اور ہامان كے سامنے واضح دليليں پيش كيں ليكن انہوں نے روئے زمين پر سر اٹھايا اور تكبّر كيا ''( 5)

مذكورہ آيت ميں حق قبول نہ كرنے كو استكبار و سركشى كى علامت قرار ديا  گيا ہے _ دوسرى جگہ ارشاد فرماتا ہے :

''قوم صالح كے مستكبرين مومن مستضعفين سے كہتے تھے: كيا تم يہ گمان كرتے ہو كہ صالح خدا كے رسول ہيں ؟ مومنين جواب ديتے تھے ہم صالح كى لائي ہوئي چيزوں پر ايمان ركھتے ہيں _ مستكبرين كہتے تھے جس چيز پر تمہارا ايمان ہے ہم اس كے منكر ہيں '' (6)

دوسرى آيت ميں كفر و شرك كى ترويج كو مستكبرين كى علامت شمار كيا گيا ہے : ''مستضعفين مستكبرين سے كہتے ہيں تمہارى رات ، دن كى فريب كارياں تھيں كہ تم ہميں خدا سے كفر اختيار كرنے اور اس كا شريك ٹھرانے كا حكم ديتے تھے'' (7)

جيسا كہ آپ نے ملاحظہ فرمايا مذكورہ آيت ميں مستكبرين كى چند علامتيں بيان ہوئي ہيں :

1_ بڑا بننا اور برترى چاہنا

2_ تفرقہ و اختلاف پيدا كرنا_

3_ اسراف

4_ لوگوں كو كمزور بنانا_

5_ فساد پھيلانا

6_ حق قبول كرنے سے منع كرنا _

7_ كفر و شرك كى ترويج و اشاعت_

مذكورہ تمام آيتوں سے يہ بات سمجھ ميں آتى ہے كہ مستكبرين ان لوگوں كا گروہ ہے جو خواہ مخواہ خود كو دوسرں سے برتر بناكر پيش كرتے ہيں _ لوگوں سے كہتے ہيں : ہم سياست داںں ، عاقل اور ماہرہيں _ ہم تمہارے مصالح كو تم سے بہتر سمجھتے ہيں تمہارى عقل تمہارے مصالح كے ادراك كيلئے كافى نہيں ہے _ تمہيں ہمارى اطاعت كرنا چاہئے تا كہ كامياب ہوجاؤ استكبار كا اہم كام اختلاف و تفرقہ پيدا كرنا ہے _ كالے گئے مذہبى ، نسلى ، لسانى ، قومى ، ملى ، ملكى ، شہرى ، صوبائي اور دوسرے سيكڑوں اختلاف انگيز عوامل كے ذريعہ لوگوں ميں تفرقہ اندازى كرتے ہيں _ صرف اس لئے تاكہ لوگوں پر حكومت كريں ، كفر و شرك كى ترويج كرتے ہيں اور اس طرح لوگوں كو فريب ديتے ہيں اور ان كے سارے منافع ہڑپ كر ليتے ہيں _ ان كے سارے امور كو اپنے ہاتھ ميں لے ليتے ہيں _ عمومى اموال پر قابض ہوجاتے ہيں _ اپنى مرض سے جہاں چاہتے ہيں خرچ كرتے ہيں _ ملك سے دفاع كے نام پر اسلحہ اور ايٹمى توانائي خريدتے ہيں عمومى ضرورتوں كو پورا كرنے او رامن و امان برقرار ركھنے كے نام پر قضاوت اور ديگر دفاتر كى تشكيل سے ذاتى فائدہ اٹھاتے ہيں ، بيت المال كو اپنى مرضى كے مطابق خرچ كرتے ہيں ، اپنے ہمنواؤں كے دريچے بھرتے ہيں _ ان كا مقصد صرف حكمرانى اور خودہواہى ہے _ مستكبرين بڑے نہيں ہيں ان كى اپنى كوئي طاقت نہيں ہے بلكہ فريب كارى سے لوگوں كى عظيم طاقت'' كو اپنى بتاتے ہيں اور انھيں حقير سمجھتے ہيں _

يہاں سے مستضعفين كے معنى بھى روشن ہوجاتے ہيں _ مستضعف كے معنى ضعيف و ناتوان نہيں ہيں بلكہ مستضعف وہ لوگ ہيں جنہوں نے مستكبرين كے غلط پروپيگنڈے اور حيلہ بازيوں سے اپنى طاقت كو گنوا ديا ہے اور غلامى و ذلت ميں مبتلا ہوگئے ہيں ،حقيقى طاقت عام لوگوں كى ہے _ زمين ، پانى ، قدرتى خزانے ، پبلك دالشور اور موجد سب ہى تو عام لوگ ہيں ، مزدور ، موجد ، پوليس و فوج ، انتظاميہ ، عدليہ اور ادارے سب ہى ملّت كے افراد سے تشكيل پاتے ہيں _ صاحبان علم و اختراع اور صنعت بھى ملت ہى كے افراد ہوتے ہيں _ اس بناپر قدرتى خزانے پورى قوم كے ہوتے ہيں نہ كہ مستكبرين كے _ اگر لو گ مدد و تعاون نہ كريں تو مستكبرين كى كوئي طاقت بن سكتى ہے؟ ليكن مستكبرين نے حيلے و فريب او رغلط پروپيگنڈے سے لوگوں كو اپنے سے بيگانہ اور مستضعف بناديا ہے وہ خود ہى اپنے كو كچلتے ہيں اور استعمارى طاقتوں كى بھينٹ چڑھتے ہيں _ مستكبرين اقليت ميں ہيں جنہوں نے ہميشہ لوگوں كو اندھيرے ميں ركھنے كى كوشش كى ہے اور انھيں كمزور بناكر ان پر حكومت كى ہے _

ليكن خدا كے پيغمبر اس بات پر مامور تھے كہ ان لوگوں كو بيدار كريں جنھيں كمزور و مستضعف بناديا گيا ہے تا كہ وہ اپنى عظيم طاقت و توانائي سے آگاہ ہوجائيں اور مستكبرين كے چنگل سے نجات حاصل كريں پيغمبروں نے ہميشہ مستكبرين كے حقيقت كا پردہ چاك كرنے اور ان كى جھوٹى طاقت اور جلال كو پاش پاش كرنے كى كوشش كى ہے اور مستضعفين كو مستكبرين كے خلاف اٹھ كھڑے ہونے اور ان كے استعمارى پھندوں سے نجات حاصل كرنے كى جرات دلائي ہے _

حضرت ابراہيم (ع) نے نمرود كى طاغوتى حكومت كے خلاف قيام كيا _ حضرت موسى (ع) نے فرعون كى حكومت كے خلاف قيام كيا اور حضرت عيسى (ع) اپنے زمانہ كے ظلم و سمتگروں كے خلاف اٹھے اور محروموں كونجات دلانے كے لئے قيام كيا _ حضرت محمد مصطفى صلى اللہ عليہ و آلہ و سلّم نے ابو جہل ، ابولہب ، ابوسفيان اور قيصر و كسرى كے خلاف قيام كيا او ردنيا كے مستضعف و محروم لوگوں كى نجات كے لئے اٹھے _ پيغمبر مستكبرين كے خلاف لوگوں كو بيدار كرتے تھے _ شرك و بت پرستي

اور فساد سے مبارزہ كرتے تھے_ لوگوں كو وحدانيت ، خداپرستى اور وحدت كى دعوت ديتے تے ، ظلم و ستم اور استكبار كى مخالفت كرتے تھے _ قرآن مجيد ميں خداوند عالم كا ارشاد ہے :

يقينا ہم نے ہر قوم ميں رسول بھيجا كہ وہ خدا كى عبادت كريں اور طاغوت سے اجتناب كريں '' (8)

فرماتا ہے '' جو بھى طاغوت سے اجتناب كرتا ہے اور خدا پر ايمان لاتا ہے وہ خدا كى رسى كو مضبوطى سے تھام ليتا ہے '' (9)

قرآن مجيد مستضعفين كى نجات كے لئے راہ خدا ميں جہاد كرنے كو مسلمانوں كا فريضہ قرار ديتا ہے _ چنانچہ ارشاد ہے :

'' مستضعفين كى نجات كے لئے راہ خدا ميں جہاد كيوں نہيں كرتے ؟ مرد عورتيں اور بچے فرياد كررہے ہيں _ ہمارے خدا ہميں اس ظالموں كے قريہ سے نكال لے اور اپنى طرف سے ہمارا سرپرست مقرركردے اور ہمارا مددگار معين فرما _ مومنين راہ خدا ميں اور كفار راہ طاغوت ميں جنگ كرتے ہيں _ لہذا شيطان كے طرف داروں سے جنگ كرو كہ شيطان كا مكر چلنے والا نہيں ہے '' (10)

 

مذكورہ بحث سے چند چيزوں كا اثبات ہوتا ہے:

1_ جو مستكبرين لوگوں پر حكومت كرتے ہيں وہ اقليت ميں ہيں ، ان كى اپنى كوئي طاقت نہيں ہے بلكہ وہ مستضعفين كى طاقت و قدرت سے فائدہ اٹھاتے ہيں اور انھيں قيد و بند ميں ڈال كر كمزور بناتے ہيں _

2_ مستضعفين اكثريت ميں ہيں حقيقى قدرت و توانائي ان ہى كى ہے ، وہ كمزور و ناتوان نہيں ہيں بلكہ مستكبرين كے پروپيگنڈوں سے خود كمزور سمجھتے ہيں _

3_ مستضعفين كى ناكامى اور بدبختى كا اہم ترين عامل ان كا احساس كمترى و كمزورى ہے ، چونكہ وہ خود كو ناتوان اور مستكبرين كو قوى و طاقتور سمجھتے ہيں لہذا ان كے ہاتھوں كى كٹھپلتى بن جاتے ہيں اور ان كے اشاروں پر كام كرتے ہيں اور ہر قسم كى ذلت و محروميت كو قبول كرليتے ہيں _ ان ميں مخالفت كى جرات نہيں ہے _ محروم و مستضعف لوگوں كى لا علاج بيمارى يہ ہے كہ انہوں نے اپنى عظيم طاقت كو فراموش كرديا ہے اور مستكبرين كى جھوٹى طاقت كے رعب ميں آگئے ہيں اور طاغوتيوں كيلئے ظلم و تعدى كا راستہ اپنے ہاتھوں سے كھول ديا ہے _

4_ پسماندہ اور مستضعف طبقہ كى نجات كا واحد راستہ يہ ہے كہ وہ اپنى عظيم وقوى گم شدہ شخصيت كو حاصل كريں ايك عالمى انقلاب و حملہ سے سارى بندشين توڑڈاليں ، اور مستكبريں و طاغوتيوں كى حكومت كو ہميشہ كيلئے نابود كرديں اور خود دنيا كى حكومت اور اس كے نظم و نسق كى زمام سنبھاليں كہ يہ كام بہت مشكل نہيں ہے _ كيونكہ اصلى قدرت و توانائي عوامل كے ہاتھ ميں ہے ، ان ہى كى اكثريت ہے ، اگر دانشور ، موجد ، ملازمين ، ٹھيكيدار ، پوليس ، كسان اور صنعت گر سب ہى ہوش ميں آجائيں اور اپنى عظيم توانائي كو مستكبرين كے اختيار ميں نہ ديں تو ان كى جھوٹى حكومت لمحوں ميں ڈھير ہوجائے گى _ اگر سارى توانائياں ، دفاع ، پوليس اور اسلحہ كو مستضعفين كى حمايت ميں استعمال كيا جائے اور اس سلسلہ ميں سب متحد ہوجائيں تو پھر مستكبرين كى كوئي طاقت باقى رہے گي؟

يہ كام اگر چہ بہت دشوار ہے ليكن ممكن ہے اور قرآن ايسے تابناك زمانہ كى خوش خبرى دے رہا ہے _ ارشاد ہے :

''ہم چاہتے ہيں كہ مستضعفين پر احسان كريں ، انھيں امام بنائيں اور انھيں زمين كا وارث بنائيں اور روئے زمين پر انھيں قوى بنائيں'' (11)

يہ عالمى انقلاب ، حضرت مہدى اور آپ كے اصحاب و انصار كے ذريعہ كامياب ہوگا _ امام محمد باقر عليہ السلام كا ارشاد ہے :

''جب ہمارا قائم قيام كرے گا اس وقت خداوند عالم ان كا ہاتھ بندوں كے سرپرركھے گا اور اس طرح ان كے حواس جمع اور عقل كامل كرے گا '' (12)

قرآن و احاديث سے يہ بات سمجھ ميں آتى ہے كہ يہ عالمى اور عظيم انقلاب دين اور قوانين الہى كے عنوان كے تحت آئے گا _ امام مہدى اس كى قيادت كريں گے اور شائستہ و فداكار مومنين آپ كى ركاب ميں جہاد كريں گے _

خدا نے ايمان لانے والوں اور عمل صالح انجام دينے والوں سے وعدہ كيا ہے كہ انھيں زمين پر خليفہ بنائے گا جيسا كہ پہلے لوگوں كو خليفہ بنايا تھا اور يہ خوش خبرى دى ہے كہ جس دين كو ان كے لئے منتخب كيا ہے اس پر انھيں ضرورى قدرت عطا كرے گا اور ان كے خوف كو امن و امان سے بدل دے گا كہ وہ خدا ہى كى عبادت كريں گے اور كسى كو اس كا شريك نہ ٹھہرائيں گے _ (13)

احاديث ميں آيا ہے كہ اس آيت سے حضرت مہدى اور ان كے انصار و اصحاب مراد ہيں اور ان ہى كے ذريعہ پورى دنيا ميں اسلام پھيلے گا اور تمام اديان پر غالب ہوگا _

قرآن مجيد و احاديث ايسے دن كى خوش خبرى دے رہى ہيں كہ جس ميں دنيا كے مستضعفين خواب غفلت سے بيدار ہوں گے اور اپنى عظيم توانائي اور مستكبرين و طاغوتيوں كى ناتوانى كو سمجھيں گے اور مہدى كى قيادت ميں توحيد كے پرچم كے نيچے جمع ہونگے ايمان كى طاقت پر اعتماد كركے ايك صف ميں مستكبرين كے مقابلہ كھڑے ہوں گے اور ايك اتفاقى حملہ سے استكبار كے نظام كو درہم و برہم كرديں گے _ اسى تابناك زمانہ كفر و شرك اور مادہ پرستى كا قلع و قمع ہوگا ، لوگوں كے درميان سے اختلاف و تفرقہ بازى ختم ہوجائے گى _ موہوم و اختلاف انگيز سرحدوں كا اعتبار نہيں ہرے گا اور سارى دنيا كے انسان صلح و صفائي اور آسائشے و آرام كے ساتھ زندگى بسر كريں گے _

 

 

1_ قصص/5
2_ قصص /4
3_ يونس /83
4_ زخرف /54
5_ عنكبوت/39
6_ اعراف/76
7_ سبأ/33
8_ سورہ نحل / آيت 36_
9_ سورہ بقرہ / آيت 256_
10_ سورہ نساء / آيت 76_
11_ قصص/5_
12_ بحار الانوار ج 52ص 336_
13_ نور/ 55_