دجال كا واقعہ

دجال كا واقعہ

جلالي: دجال كے خروج كو بھى ظہور كى علامتوں ميں شمار كيا جاتا تھا اور اس كے بارے ميں كہا جاتا ہے كہ وہ كافر ہے ، ايك چشم ہے ، وہ بھى پيشانى كے بيچ ميں سے ، ستارہ كى مانند چمكتى ہے _ اس كى پيشانى پر لكھا ہے ''يہ كافر ہے '' اس طرح كہ پڑھا لكھا اور ان پڑھ سب اسے پڑھ سكيں گے _ كھانے كے ( پہاڑ) ہوٹل اور پانى كى نہر ہميشہ اس كے ساتھ ہوگى ، سفيد خچر پر سوار ہوگا _ ہر ايك قدم ميں ايك ميل كا راستہ طے كرے گا _ اس كے حكم سے آسمان بارش برسائے گا ، زمين گلہ اگائے گى _ زمين كے خزانے اس كے اختيار ميں ہوں گے _ مردوں كو زندہ كرے گا _'' ميں تمہارا بڑا خدا ہوں ، ميں ہى نے تمہيں پيدا كيا ہے اور ميں ہى روزى ديتا ہوں ، ميرى طرف دوڑو '' يہ جملہ اتنى بلند آوازميں كہے گا كہ سارا جہان سنے گا _

كہتے ہيں رسول كے زمانہ ميں بھى تھا ، اس كا نام عبداللہ يا صائدبن صيد ہے ، رسول اكرم (ص) اور آپ(ص) كے اصحاب اسے ديكھنے اس كے گھر گئے تھے _ وہ اپنى خدائي كا دعوى كرتا تھا _ عمر اسے قتل كرنا چاہتے تھے ليكن پيغمبر (ص) نے منع كرديا تھا _ ابھى تك زندہ ہے _ اور آخرى زمانہ ميں اصفہان كے مضافات ميں سے يہوديوں كے گاؤں سے خروج كريگا _ (1)


علما نے تميم الدا مى سے ، جو كہ پہلے نصرانى تھا اورسنہ 9 ھ ميں مسلمان ہوا تھا ، سے نقل كيا ہے كہ اس نے كہا : ميں نے مغرب كے ايك جز يرہ ميں دجال كو ديكھا ہے كہ زنجير و در غل ميں تھا _(2) _

ھوشيار : انگريزى ميں دجال كو انٹى كرايسٹ (antlchrlst) كہتے ہيں يعنى مسيح كا دشمن يا مخالف _ دجال كسى مخصوص و معين شخص كا نام نہيں ہے بلكہ لغت عرب ميںہر دروغ گو اور حيلہ باز كو دجال كہتے ہيں _ انجيل ميں بھى لفظ دجال بہت استعمال ہوا ہے _

يو حنا كے پہلے رسالہ ميں لكھا ہے : جو عيسى كے مسيح ہوتے كا انكار كرتا ہے ، دروغگو اور دجال ہے كہ با پ بيٹے كا انكار كرتا ہے _(3) _

اسى رسالہ ميں لكھا ہے : تم تھ سنا ہے كہ دجال آئے گا ، آج بہت سے دجال پيدا ہوگئے ہيں مذكورہ رسالہ ميں پھر لكھتے ميں ، وہ ہراس روج كا انكار كرتے ہيں جو عيسى ميں مجسم ہوئي تھى اور كہتے ہيں وہ روح خدانہيں تھى _ يہ و ہى روح دجال ہے جس كے بارے ميں تم نے سنا ہے كہ وہ آئے گا وہ اب بھى دنيا ميں موجود ہے (4)_

يوحنا كے دوسرے رسالہ ميں لكھا ہے چونكہ گمراہ كرنے والے دنيا ميں بہت زيادہ ہوگئے ہيں كہ جسم ميں ظاہر ہوتے والے عيسى مسيح كا اقرار نہيں كرتے ہيں يہ ہيں گمراہ كرنے والے دجال_(5)

انجيل كى آتيوں سے سمجھ ميں آتا ہے كہ دجال كے معنى گمراہ كرنے والے اور دروغگو ہيں _ نيز عياں ہوتا ہے كہ دجال كا خروج ، اس كا زندہ رہنا اس زمانہ ميں بھى نصارى كے در ميان مشہور تھا اور وہ اس كے خروج كے منتظر تھے _

ظاہرا حضرت عيسى نے بھى لوگوں كو دجال كے خروج كى خبردى تھى اور اس كے فتنہ سے ڈرايا تھا _ اسى لئے نصارى اس كے منتظر تھے اور قوى احتمال ہے كہ حضرت عيسى نے جس دجال كے بارے ميں خبردى تھى ، وہ دجال ودروغگو حضرت عيسى كے پانچ سو سال بعد ظاہر ہواتھا اور اپنى پيغمبر ى كا جھوٹا دعوى كيا تھا _ اسى كو دار پرچڑ ھا يا گيا تھانہ عيسى نبى كو _ (6)

دجال كے وجود سے متعلق مسلمانوں كى احاديث كى كتابوں ميں احاديث موجود ہيں پيغمبر اسلام (ع) لوگوں كو دجال سے ڈراتے تھے اور اس كے فتنہ كو گوش گزار كرتے تھے اور فرماتے تھے :

حضرت نوح كے بعد مبعوث ہونے والے تمام پيغمبر اپنى قوم كو دجال كے فتنہ سے ڈرا تے تھے (7)

رسول (ع) كا ارشاد ہے : اسى وقت تك قيامت نہيں آئے گى جب تك تيس دجال ، جو كہ خود كو پيغمبر سمجھتے ہيں ، ظاہر نہيں ہوں گے _( 8)

حضرت علي(ع) كا ارشاد ہے :

اولاد فاطمہ سے پيدا ہونے والے دو دجالوں سے بچتے رہنا ، ايك دجال وہ جو دجلہ بصرہ سے خروج كرے گاوہ مجھ سے نہيں ہے وہ دجال (9) كا مقدمہ ہے _

رسول(ع) كا ارشاد ہے :

اس وقت تك قيامت نہيں آئے گى جب تك تيس دروغگو دجال ظاہر نہ ہوں گے اور وہ خدا اور اس كے رسول پر جھوٹ باند ھيں گے (10) _

آپ (ع) ہى كا ارشاد ہے :

دجال كے خروج سے قبل ستر سے زيادہ و دجال ظاہر ہوں گے (11)

مذكورہ احاديث سے يہ بات واضح ہو جاتى ہے كہ دجال كسى معين و مخصوص شخص كا نام نہيں ہے بلكہ ہر دروغگو اور گمراہ كرنے والے كو دجال كہا جا تا ہے _

مختصر يہ كہ دجال كے قصہ كو كتاب مقدس اور نصارى كے در ميان تلاش كيا جا سكتا ہے اس كے علاوہ اس كى تفصيل اور احاديث اہل سنت كى كتابوں ميں ان ہى طريق سے نقل ہوئي ہيں _ بہرحال اجمالى طور پر يہ كہا جاسكتا ہے كہ اس كا صحيح ہونا بعيد نہيں ہے ليكن اس كى جو تعريف و توصيف كى گئي ہے _ ان كا كوئي قابل اعتماد مدرك نہيں ہے (12) _

دجال كا اصلى قضيہ اگر چہ صحيح ہے ليكن يہ بات بلا خوف و ترديد كہى جا سكتى ہے افسانوں كى آميزش سے اس كس حقيقى صورت مسخ ہوگئي ہے _ يہ كہا جاسكتا ہے كہ امام زمانہ كے ظہور كے وقت آخرى زمانہ ميں ايك شخص پيدا ہوگا جو فريب كار او ر حيلہ سازى ميں سب سے آگے ہوگا اور دورغگوئي ميں گزشتہ دجالوں سے بازى لے جائے گا ، اپنے جھوٹے اور ركيك دعوؤں سے غافل رہيں گے اور يہ سمجھيں گے كہ زميں و آسمان اس كے ہا تھ ميںہيں ، اتنا جھوٹ بولے گا كہ اچھائي كو برائي اور برائي كو اچھائي و نيكى ثابت كرے گا بہشت كو جہنّم اور جہنم كو جنت بنا كرپيش كرے گا ليكن اس كا كفر تعليم يافتہ اوران پڑ ھہ لوگوں پرواضح ہے _

اس بات كى كوئي دليل نہيں ہے كہ صائد بن صيد دجال ، رسول (ص) كے زمانہ سے آج تك زندہ ہے _ كيونكہ حديث كى سند ضعيف ہے اس كے علاوہ پيغمبر اسلام كا قول ہے كہ دجال مكہ اور مدينہ ميں داخل نہيں ہوگا جبكہ صائد بن صيد ان دونوں ميں داخل ہوا اور مدينہ ميں مرا چنانچہ ايك جماعت اس كى موت كى گواہ ہے _ بالفرض پيغمبر (ص) اكرم نے صائد بن صيد كو اگر دجال كہا تھا تو وہ دروغگو كے معنى ميں كہا تھا نہ كہ علائم ظہور والا دجال كہا تھا _ بعبارت ديگر پيغمبر اسلام نے صائد بن صيد سے ملاقات كى اور اپنے

 

 

1_ بحارالانوار ج 52 ص 193 ، صحيح مسلم ج 8 ، ص 46 تا ص 87 ، سنن ابى داؤد ج 2 ص 212_
2_ صحيح مسلم ج 18 ص 79 ، سنن ابى داؤدج 3 ص 314
3_ رسالہ يوحنا باب 2 آيت 22
4 _ رسالہ اول باب 2 آيت 18
5 _صحيح مسلم ج 18 ص 79 ، سنن ابى داؤد ج 3
6 _رسالہ دوم يوحنا آيت 7
7 _ بحارالانوار ج 52 ص 197
8 _ سنن ابى داؤد ج 2
9 _ ترجمہ الحلاحم والفتن ص 113
10_ سنن ابى داؤد ج 2
11_ مجمع الزوايد ج 7 ص 333
12_ كيونكہ اس كا مدرك وہ حديث ہے جو بحار الانوار ميں نقل ہوى اور اس كى سند ميں محمد بن عمر بن عثمان ہے جو كہ مجہول الحال ہے _ اصحاب ميں سے اسے دجال كا مصداق قرار ديا اور چونكہ بعد والے زمانہ ميں دجال كے خروج كى خبر دى تھى اس لئے دونوں موضوعات ميں اشتباہ ہوگيا اور لوگ يہ سمجھ بيٹھے كہ پيغمبر (ص) نے صائد كو دجال كہا ہے لہذا يہى آخرى زمانہ ميں خروج كرے گا اور اسى سے انہوں نے اس كى طول حيات كا نتيجہ بھى اخذ كرليا ہے _