كيا امام حسن عسكرى (ع) كے يہاں كوئي بيٹا تھا؟

كيا امام حسن عسكرى (ع) كے يہاں كوئي بيٹا تھا؟

ہفتہ كى رات ميں احباب انجينئر صاحب كے گھر جمع ہوئے اور جلالى صاحب كے سوال سے جلسہ كا آغاز ہوا _

جلالى : ميں نے سنا ہے كہ امام حسن عسكرى كے يہاں كوئي بيٹا ہى نہيں تھا

ہوشيار : چند طريقوں سے يہ ثابت كيا جا سكتا ہے كہ امام حسن عسكرى (ع) كے يہاں بيٹا تھا :

الف: پيغمبر اكرم اور ائمہ اطہار عليہم السلام سے نقل ہونے والى احاديث ميں اس بات كى تصريح ہوئي ہے كہ حسن بن على محمد كے يہاں بيٹا پيدا ہوگا جو طولانى غيبت كے بعد لوگوں كى اصلاح كے لئے قيام كرے گا _ اورزمين كو عدل و انصاف سے بھرديگا يہ موضوع روايات ميں مختلف تعبيروں ميں بيان ہوا ہے :

مثلاً: مہدى حسين (ع) كى نويں پشت ميں ہيں ، مہدى حضرت صادق كى چھٹى اولاد ہيں ، مہدى موسى كاظم (ع) كى پانچويں اولاد ہيں ، مہدى امام رضا (ع) كى چوتھى اولاد ہيں مہدى امام محمد تقى كى تيسرى اولاد ہيں _

ب _ بہت سى احاديث ميں اس بات كى تصريح ہوئي ہے كہ مہدى موعود گيارہويں امام حسن عسكرى كے بيٹے ہيں ، بطور مثال ملا حظہ فرمائيں :

صقر كہتے ہيں : ميں نے على بن محمد سے سنا كہ آپ (ع) نے فرمايا:

'' ميرے بعد ميرے بيٹے حسن ( عسكري) امام ہيں اور ان كے بعد ان كے بيٹے قائم ہيں جو كہ زمين كو اسى طرح عدل و انصاف سے پر كريں گے جيسا كہ وہ ظلم و جور سے بھى چكى ہوگى '' _ (1)

ج: اما م حسن عسكرى (ع) نے متعدد احاديث ميں اس بات كى خبر دى ہے كہ قائم و مہدى ميرا بيٹا ہے اور امام و پيغمبر جھوٹ و خطا سے منزہ ہيں ان احاديث ميں سے بعض يہ ہيں :

محمد بن عثمان نے اپنے والد سے نقل كيا ہے كہ وہ كہتے تھے:

'' ميں امام حسن عسكرى كى خدمت ميں تھا كہ آپ (ع) سے اس حديث كے بارے ميں دريافت كيا گيا جو كہ كہ ان كے آباء و اجداد سے نقل ہوئي ہے كہ تا قيامت زمين حجت خدا سے خالى نہيں رہے گى اور جو شخص اپنے زمانہ كے امام كى معرفت كے بغير مرجائے ، وہ جہالت كى موت مرتا ہے _ امام (ع) نے جواب ديا : '' يہ بات تو روز روشن كى طرح واضح اور حق ہے'' _ عرض كيا گيا : اے فرزند رسول (ص) آپ (ع) كے بعد امام و حجت كوں ہے ؟ فرمايا: '' ميرے بيٹے محمد حجّت و امام ہيں اور جوان كے معرفت كے بغير مرے گا وہ جہالت كى موت مرے گا _ آگاہ ہوجاؤ ميرا بيٹا غيبت ميں رہے گا ، اس زمانہ ميں دنيا والے سرگردان ہوں گے ، باطل پرست ہلا ك ہوں گے اور جو شخص ان كے ظہور كے وقت كو معيّن كرتا ہے وہ جھوٹا ہے وہ اپنى غيبت كا زمانہ ختم ہوجانے كے بعد قيام كريں گے گويا ميں سفيد پرچم نجف ميں ان كے سر پر لہراتا ہوا ديكھ رہا ہوں _ (2)

د_ امام حسن عسكرى (ع) نے اپنے بيٹے كى ولادت كى چند اشخاص كو خوشخبرى دى ہے ازباب مثال ملا حظہ فرمائيں :

1_ فضل بن شاذان جن كا انتقال حضرت حجت كى ولادت كے بعد اور امام حسن عسكرى كى شہادت سے قبل ہوا تھا ،انہوں نے اپنى كتاب غيبت ميں محمد بن على بن حمزہ سے نقل كيا ہے كہ انہوں نے كہا : ميں نے امام حسن عسكرى سے سنا كہ آپ(ع) فرمارہے تھے :

''15 شعبان (255) كى شب ميں طلوع فجر كے وقت حجت خدا اور ميرا جانشين مختون پيدا ہوا ہے '' _(3)

2_ احمد بن اسحاق كہتے ہيں : ميں نے اما م حسن عسكرى (ع) سے سنا كہ آپ (ع) فرما رہے تھے :

''حمد ہے اس خدا كى جس نے ميرے مرنے سے قبل ہى مجھے ميرا جانشين دكھا ديا ، اخلاق و خلق ميں وہ سب سے زيادہ رسول(ص) سے مشابہ ہے ،ايك مدت تك خدا انھيں پردہ غيب ميں ركھے گا اس كے بعد انھيں ظاہر كرے گا تا كہ وہ زمين كو عدل و انصاف سے پر كريں '' _(4)

3_ احمد بن حسن بن اسحاق قمى نے روايت كيہے كہ جب خلف صالح پيدا ہوئے اس وقت امام حسن (ع) كاخط احمد بن اسحاق كے بدست ميرے پاس پہنچا اس ميں آپ نے اپنے دست مبارك سے تحرير كيا تھا كہ:

''ہمارے يہاں بيٹے كى ولادت ہوئي ہے ، اس بات كو مخفى ركھنا كيونكہ ميں بھى سوائے اپنے دوستوں كے اور كسى سے بيان نہيں كروں گا ''_ (5)

4_ اسحاق بن احمد كہتے ہيں : ايك روز ميں امام حسن عسكرى (ع) كى خدمت ميں شرفياب ہوا ، آپ (ع) نے فرمايا:

''احمد جس چيز كے بارے ميں لوگ شك ميں مبتلا ہيں اس كے بارے ميں تمہارا كيا خيال ہے ؟ ميں نے عرض كى : ہمارے زن و مرد اور بوڑھے جوان پر تو حق اس وقت آشكار ہوگيا تھا جب آپ (ع) نے خط كے ذريعہ بيٹے كى ولادت كى خوشبخرى دى تھى چنانچہ ہم ان كے معتقد ہوگئے ہيں '' _(6)

5_ ابوجعفر عمرى نے روايت كى ہے كہ جب صاحب الامر پيدا ہوئے اس وقت امام حسن عسكرى (ع) نے فرمايا:

'' ابو عمر كو بلاؤ'' ، جب ميں حاضر خدمت ہوا تو آپ نے فرمايا: دس ہزار طل (7) نان اور دس ہزار رطل گوشت خريد كر لاؤ اور بنى ہاشم ميں تقسيم كردو اور خلال گوسفند سے ميرے بيٹے كا عقيقہ كرو _(8)

احاديث و اخبار كے اس مجموعہ سے يہ اطمينان حاصل ہوجاتا ہے كہ امام حسن عسكرى كے يہاں بيٹا تھا_

 

 

1_ اثبات الہداة ج 6 ص 275_
2_ بحار الانوار ج51 ص 160_
3_ منتخب الاثر طبع اول ص 320_
4_ بحار الانوار ج 51 ص 161_
5_ اثبات الہداة ج 6 ص 432_
6_ منتخب الاثر طبع اول ص 345_
7_ يعنى آدھا سير
8_ اثبات الہداة ج 6 ص 430_