خصوصيات مہدى (ع) اہل سنّت كى كتابوں ميں

خصوصيات مہدى (ع) اہل سنّت كى كتابوں ميں

معمولى ضيافت اور گفتگو كے بعد جلسہ كى كاروائي شروع ہوئي اور فہيمى صاحب نے اس طرح سوال اٹھايا:

شيعوں كى احاديث ميں مہدى موعود كا وجود مشخص اور واضح ہے جبكہ اہل سنت كى احاديث ميں مجمل و مبہم انداز ميں آپ كا تذكرہ ملتا ہے _ مثلاً غيبت مہدى كا واقعہ آپكى اكثر احاديث ميں پايا جاتا ہے جبكہ آپكى مسلّم علامتيں اور خصوصيات كا ہمارى احاديث ميں كہيں نام ونشان بھى نہيں ہے _ اس سلسلہ ميں وہ بالكل خاموش ہيں _ آپ حضرات كى احاديث ميں مہدى موعود كے دوسرے نام قائم اور صاحب الامر و غيرہ بھى مذكور ہيں ليكن ہمارى احاديث ميں مہدى كے علاوہ اور كوئي نام بيان نہيں ہوا ہے ، خصوصاً قائم تو ہمارى احاديث ميں ہے ہى نہيں كيا يہ بات آپ كے نقطہ نظر سے معمولى ہے ، قابل اعتراض نہيں ہے ؟

ہوشيار : ظاہراً قضيہ كى علت يہ ہے كہ بنى اميہ اور بنى عباس كے دور خلافت ميں مہدويت كا موضوع مكمل طور پر سياسى مسئلہ بن چكا تھا چنانچہ تمام مشخصات و علامتوں كے ساتھ مہدى موعود خصوصاً غيبت و قيام سے متعلق احاديث كے نقل كرنے كے لئے آزادى نہيں تھى ، خلفائے وقت احاديث كى تدوين خصوصاً مہدى كى غيبت اور قيام سے متعلق احاديث كے سلسلہ ميں بہت حساس رہتے تھے بس اسى سے اندازہ لگايا جا سكتا ہے كہ وہ غيبت ، قيام اور خروج كے الفاظ بھى برداشت نہيں كرتے تھے _ آپ بھى اگر تاريخ كا مطالعہ فرمائيں اور بنى اميہ و بنى عباس كى خلافت كے بحرانى حالات اور سياسى كشمكش كا نقشہ كھينچے تو ميرے خيال كى تائيد فرمائيں گے _ ہم اس مختصروقت ميں اس زمانہ كے اہم حوادث و واقعات كا تجزيہ نہيں كر سكتے ليكن اثبات مدعاكيلئے دو چيزوں كى طرف اشارہ كرنا ضرورى ہے _

1 _ داستان مہدويت ميں چونكہ ايكہ دينى پہلو موجود تھا اور پيغمبر(ع) اكرم(ع) نے اسكى خبردى تھى كہ جس زمانہ ميں كفرو بے دينى فروغ ہوگا اور ظلم و ستم چھا يا ہوگا اس وقت مہدى موعود انقلاب بر پا كريں گے اور دنيا كى آشفتہ حالى كى اصلاح كريں گے اسى لئے مسلمان اس موضوع كو ايك طاقتو رپناہ گاہ اور تسلّى بخش وقوعہ تصور كرتے تھے اور ہميشہ اس كے وقوع پذير ہونے كے منتظر رہتے تھے _ خصوصاً مذكور ہ عقيدہ اس وقت اور زيادہ مشہور اور زندہ ہوجاتا تھا جب لوگ ظلم و ستم كى طغيانيوں اور بحرانى حالات ميں ہرجگہ سے مايوس ہوجاتے تھے چنانجہ كبھى اصلاح كے علمبردار اور ابن الوقت افراد بھى اس سے فائدہ اٹھا تے تھے _

عقيدہ محدويت سے سب سے پہلے جناب مختار نے فائدہ اٹھايا تھا _ كربلا كے المناك سانحہ كے بعد جناب مختار قاتلوں سے انتقام لينا اور ان كى حكومت كو بر باد كرنا چاہتے تھے ليكن جب انہوں نے يہ ديكھا كہ بنى ہاشم اور شيعہ حكومت پر قبضہ كرنے كے سلسلے ميں مايوس ہوچكے ہيں تو انہوں نے عقيدہ مہدويت سے استفادہ كيا اور اس فكر كے احياء سے قو م كى اميد بندھائي _ چونكہ محمد بن حنفيہ رسول كے ہم نام و ہم كنيت تھے _ يعنى مہدى كى ايك علامت ان ميں موجود تھى لہذا مختار نے وقت سے فائدہ اٹھا يا اور محمد بن حنفيہ كو مہدى موعود اور خود كو ان كے وزير كے عنوان سے پيش كيا اور لوگوں سے كہا محمد بن حنفيہ اسلام كے مہدى موعود ہيں ، اس زمانہ ميں ظلم و ستم اپنى انتہا كو پہنچ گيا ہے _ حسين بن على اوران كے اصحاب و جوان تشنہ لب كربلا ميں شہيد كرديئےئے ہيں ،محمد بن حنفيہ انقلاب لانے كا قصد ركھتے ہيں تا كہ قاتلوں سے انتقام لے سكيں اور دنيا كى اصلاح كرسكيں _ ميں ان كا وزير ہوں _ اس طرح مختار نے قيام كيااور كچھ قاتلوں كو تہ تيغ كيا در حقيقت اس عنوان سے برپاہونے والا يہ پہلا انقلاب اور خلافت كے مقابلہ ميں اولين قيام تھا _

دوسرا ابومسلم خراسانى عقيدہ مہدويت سے فائدہ اٹھانا چاہتے تھے_ ابومسلم نے خراسان ميں ، امام حسين(ع) اور آپ كے اصحاب و انصار ، ہشام بن عبدالملك كے زمانہ خلافت ميں ڈردناك و سنسى خيز انداز ميں شہيد ہونے والے زيد بن على بن حسين (ع) اور وليد كے زمانہ خلافت ميں شہيد ہونے والے يحيى بن زيد كے انتقام كے عنوان سے بنى اميہ كى خلافت كے خلاف قيام كيا تھا _ ايك جماعت بھى ابومسلم كو مہدى موعود خيال كرتى تھى اور ايك گروہ اسے ظہور مہدى كا مقدمہ تصور كرتا تھا اور مہدى كى علامتوں ميں شمار كرتا تھا كہ وہ خراسان كى طرف سے سياہ پرچموں كے ساتھ آئے گا _ اس جنگ ميں علوييں ، بنى عباس اور سارے مسلمان ايك طرف تھے ، چنانچہ انہوں نے بھر پور اتحاد كے ساتھ بنى اميہ اور ان كارندوں كو اسلامى حكومت سے برطرف كرديا _

يہ تحريك اگر چہ رسول كے اہل بيت كے مغصوب حق كے عنوان سے شروع ہوئي تھى اور شايد انقلاب كے بعض چيمپئين افراد بھى خلافت علويين ہى كى تحويل ميں دينا چاہتے تھے ليكن بنى عباس اور ان كے كارندوں نے نہايت ہى چال بازى سے انقلاب كو اس كے حقيقى راستہ سے ہٹاديا _ حكومت علويوں كى دہلينر تك پہنچ چكى تھى ليكن بنى عباس نے اپنے كو پيغمبر كے اہل بيت كے عنوان سے پيش كيا اور اسلامى خلافت كى مسند پر متمكن ہوئے _ اس عظيم تحريك ميں ملت كامياب ہوئي اور بنى اميہ كے ظالم خلفاء سے اسلامى خلافت چھين لي_ لوگوں كو بڑى خوشى تھى كہ انہوں نے ظالم خلفا كے شر سے نجات حاصل كرلى ہے اور اس كے علاوہ حق كو حق دار تك پہنچا ديا اور اسلامى خلافت كو خاندان پيغمبر(ص) ميں پلٹاديا ہے _ علويين بھى كسى حد تك خوش تھے اگر چہ انھيں خلافت نہيں ملى تھى ليكن كم از كم بنى اميہ كے ظلم و ستم سے تو مطمئن ہوگئے تھے _ مسلمان اس كاميابى سے بہت خوش تھے اور ملك كے عام حالات كى اصلاح ، اسلام كى ترقى اور اپنى بہبودى كے سنہرے خواب ديكھ رہے تھے اور ايك دوسرے كو خوشخبرى دے رہے تھے _ ليكن كچھ ہى روز كے بعد وہ خواب سے بيدار ہوئے تو ديكھا كہ حالات ميں كوئي تبديلى نہيں آئي ہے اور بنى عباس و بنى اميہ كى حكومت ميں كوئي فرق نہيں ہے _ سب رياست طلب اور خوش باش ہيں _ مسلمانوں كا بيت المال تباہ ہورہاہے _ عدل و انصاف ، اصلاحات اور احكام الہى كے نفاذ كا كہيں نام و نشان نہيں ہے _ رفتہ رفتہ لوگوں كى آنكھيں كھليں اور انہوں نے اپنے غلط فہمى اور بنى عباس كى نيرنگ كو سمجھ ليا _

علوى سادات نے بھى يہ بات محسوس كى كہ اسلام ، مسلمانوں اور خود ان سے بنى عباس كو جو سلوك ہے وہ بنى اميہ كى روش سے مختلف نہيں ہے اور جہاد كى ابتداء اور بنى عباس سے جنگ كے آغاز كے علاوہ كوئي چارہ كار نہيں تھا _ تحريك چلانے كے لئے بہتر افراد جو ممكن تھے وہ على و فاطمہ(ع) كى اولاد تھے كيونكہ اول تو ان ميں شائستہ پاكدامن ، فداكار اور دانش ور پيدا ہوتے تھے جو كہ خلافت كے لئے سب سے زيادہ موزوں تھے _ دوسرے پيغمبر كى حقيقى اولاد تھے اور آپ سے نسبت كى بناپر محبوب تھے _ تيسرے : مظلوم تھے ، ان كا شرعى حق پامال ہوچكا تھا _ لوگ بتدريج اہل بيت (ع) رسول كى طرف آئے _ خلفائے بنى عباس كے جيسے جيسے ظلم و ستم اور دكيٹڑ شپ بڑھتى جاتى تھى اسى كے مطابق لوگوں كے درميان اہل بيت كى محبوبيت بڑھتى جاتى تھى اور ان ميں ظلم كے خلاف شورش كا جذبہ پيدا ہوتا تھا _ قوم كى تحريك اور علويوں كا قيام شروع ہوا ، كبھى كبھى ان ميں سے كسى كو پكڑتے اور شوروہنگامہ بپاكرتے تھے كبھى اس ميں صلاح سمجھتے تھے كہ عقيدہ مہدويت پيغمبر (ص) كے زمانہ سے ابھى تك باقى ہے _ لوگوں كے ذہنوں ميں راسخ ہے ، اس سے فائدہ اٹھايا جائے اور قائد انقلاب كو مہدى موعود كے نام سے پہنچنوايا جائے _ يہاں بنى عباس كے خلفاء كا سخت ، دلير، دانشور اور قوم ميں محبوب رقيبوں سے مقابلہ تھا _ خلفائے بنى عباس علوى سادات كو بخوبى پہچانتے تھے، ان كى ذاتى لياقت ، فداكارى ، قومى عزت اور خاندانى شرافت سے واقف تھے ، اس كے علاوہ مہدى موعود كے بارے ميں پيغمبر(ص) كى دى ہوئي بشارتوں سے بھى باخبر تھے _ پيغمبر كى احاديث كے مطابق انھيں معلوم تھا كہ مہدى موعود اولاد فاطمہ (ص) سے ہونگے جو قيام كركے ستمگروں سے مبارزہ كريں گے اور ان كى كاميابى كو يقينى سمجھتے تھے وہ داستان مہدى اور لوگوں ميں اس عقيدہ كے معنوى اثر سے بھى كسى حد تك واقف تھے _ اس بناپر يہ كہا جا سكتا ہے كہ بنى عباس كى خلافت كو سب سے بڑا خطرہ علوى سادات سے تھا _ انہوں نے ان كى اور ان كے كارندوں كى نيند حرام كردى تھى _ البتہ خلفانے بھى لوگوں كو علويوں كے پاس جمع نہ ہونے ديا اور ہر قسم كى تحريك و انقلاب كى پيش بندى ميں بڑى تندى سے كام ليا _ خصوصاً علويوں كے سربرآوردہ افراد پر سخت نظر ركھتے تھے يعقوبى لكھتے ہيں _ موسى ہادى طالبين كو گرفتار كرنے كى بہت كوشش كرتا تھا _ انھيں خوف زدہ و ہراسان ركھتا تھا تمام شہروں ميں يہ حكم نامہ بھيجديا تھا كہ جہاں بھى طالبين كا كوئي آدمى ملے اسے گرفتار كركے ميرے پاس بھيجدو _ (1)

ابوالفرج لكھتے ہيں :

''جب منصور تخت خلافت پر متمكن ہوا تو اس نے سارى كوشش محمد بن عبداللہ بن حسن (ع) كو گرفتار كرنے اور ان كے مقصد سے آگہى حاصل كرنے ميں صرف كى _'' (2)


غيبت علويين

اس زمانہ كا ايك بہت ہى نازك اور مركز توجہ مسئلہ بعض علوى سادات كى غيبت تھا _ ان ميں سے جس ميں بھى ذاتى شرافت و شائستگى اور قيادت كى صلاحيت پائي جاتى تھى _ قوم اسى كى طرف جھكتى اور ان كے دل اس كى طرف مائل ہوتے تھے خصوصاً يہ رجحان اس وقت اور زيادہ ہوجاتا تھا جب اس ميں مہدى موعود كى كوئي علامت بھى ہوتى تھى _ دوسرى طرف خلافت كى مشنرى جيسے ہى قوم كو كسى ايسے آدمى كى طرف بڑھتى ديكھتى تھى تو اس كے خوف و ہراس ميں اضافہ ہوجاتا تھا اور اس كے خفيہ و ظاہرى كارندے اس شخص كى نگرانى ميں مشغول ہوجاتے تھے_ لہذا وہ اپنى جان بچانے كيلئے خلافت كى مشنرى سے روپوش ہوجاتا تھا ، يعنى غيبت و پوشيدگى كى زندگى بسر كرتا تھا ، علوى سادات كا ايك گروہ ايك زمانہ تك غيبت كى زندگى گزارتا تھا _ مثال كے طور پر ہم چند نمونے ، ابوالفرج اصفہانى كى كتاب'' مقاتل الطالبين '' سے نقل كرتے ہيں :

منصور عباسى كے زمانہ خلافت ميں محمد بن عبداللہ بن حسن اور ان كے بھائي ابراہيم غيبت كى زندگى بسر كرتے تھے، منصور بھى انھيں گرفتار كرنے كى بہت كوشش كرتا تھا _ چنانچہ اس مقصد ميں كاميابى كے لئے اس نے بنى ہاشم كے بہت سے افراد كو گرفتار كيا اور ان سے كہا : محمد كو حاضر كرو ان ان بے گناہوں كو قيد خانہ ميں لرزہ بر اندام سزائيں ديں '' (3)_

''منصور كے زمانہ خلافت ميں عيسى بن زيد و روپوش تھے منصور نے انھيں گرفتار كرنے كى لاكھ كوشش كى ليكن كامياب نہ ہوسكا _ منصور اور اس كے لڑكے نے بھى كوشش كى ليكن ناكام رہے '' (4)

''معتصم اور واثق كے زمانہ خلافت ميں محمد بن قاسم علوى خلافت كى مشنرى سے روپوش تھے _ متوكل كے زمانہ ميں گرفتارہوئے اور قيد خانہ ميں وفات پائي '' (5)

''ر شيد كے زمانہ خلافت ميں يحيى بن عبداللہ بن حسن غائب تھے ، ليكن رشيد كے جاسوسوں نے انھيں تلاش كرليا _ ابتداء ميں امان دى ليكن بعد ميں گرفتار كركے قيد خانہ ميں ڈالديا ، اسى قيد خانہ ميں بھوك اور اذيتوں كى تاب نہ لا كر دم توڑديا'' (6)

'' ماموں كے زمانہ خلافت ميں عبداللہ بن موسى غائب تھے اور اس سے مامون بہت خوف زدہ تھا _ (7)

موسى ہادى نے عمر بن خطاب كى اولاد سے عبد العزيز كو مدينہ كا حاكم مقرر كيا ، عبدالعزيز طالبين سے بہت برے طريق اور سختى سے پيش آتا اور ان كے اعمال و حركات پر سخت نظر ركھتا تھا _ ايك روز ان سے كہا : تم ہر روز ميرے پاس حاضرى ديا كرو تا كہ تمہارے روپوش و غائب نہ ہونے كا مجھے علم رہے _ ان سے عہد و پيمان ليا اور ايك كو دوسرے كا ضامن بناديا _ مثلاً حسين بن على اور يحى بن عبداللہ كو ، حسن بن محمد بن عبداللہ بن حسن كا ضامن بنايا_ ايك مرتبہ جمعہ كے دن علويين اس كے پاس گئے انھيں واپس لوٹنے كى اجازت نہ دى يہاں تك كہ جب نماز كا وقت آگيا ، تو انھيں وضو كرنے اور نماز ميں حاضر كا حكم ديا _ نماز كے بعد اپنے كارندوں كو حكم ديا كہ ان سب كو قد كرلو_ عصر كے وقت سب كى حاضرى لى تو معلوم ہوا كہ حسن بن محمد بن عبداللہ بن حسن نہيں ہيں _ پس ان كے ضامن حسين بن على اور يحيى سے كہا : اگر حسن بن محمد تين دن تك ميرى خدمت ميں شرف ياب نہ ہوئے يا انھوں نے خروج كيا يا غائب ہوگئے تو ميں تمہيں قيد خانے ميں ڈال دوں گا يحيى نے جواب ديا كہ : يقيناً انھيں كوئي ضرورى كام پيش آگيا ہوگا ، اسى لئي نہيں آسكے ہم بھى انھيں حاضر كرنے سے قاصر ہيں _ انصاف سے كام لو _ تم جس طرح ہمارى حاضرى ليتے ہو اسى طرح عمر بن خطاب كے خاندان والوں كو بھى بلاؤ اس كے بعد ان كى حاضرى لو اگر ان كے افراد ہم سے زيادہ غائب ہوئے تو ہميں كوئي اعتراض نہ ہوگا پھر ہمارے بارے ميں جو چا ہے فيصلہ كرنا _ ليكن حاكم ان كے جواب سے مطمئن نہ ہوا اور قسم كھا كركہا: اگر چو بيس 24 گنٹے كے اندر تم نے حسن كو حاضر نہ كيا تو تمہارے گھروں كو منہدم كرادو نگا ، آگ لگوادوں گااور حسين بن على كو ايك ہزار تا زيانے لگاؤں گا_''(8)

اس قسم كے حوادث سے يہ بات بخوبى سمجھ ميں آتى ہے كہ خلفا ئے بنى عباس كے زمانہ ميں بعض علوى سادات غيبت وروپوشى كى زندگى گزارتے تھے اور يہ چيز اس زمانہ ميں مرسوم تھى _ چنانچہ جب ان ميں سے كو ئي غائب ہوتا تھا تو فريقين كى توجہ اسى كى طرف مبذول ہو جاتى تھى _ ايك طرف قوم كى نگاہيں اس پر مر كوز ہوتى تھيں خصوصاََاس وقت جب غائب ہونے والے ميں كوئي مہدى كى علامت ہوتى ، اور وہ غيبت تھي_دوسرى طرف خلافت كى مشنرى اسے خوف زدہ ، مضطرب اور حساس ہوجاتى خصوصااس ميں مہدى كى كوئي علامت ديكھتے اوريہ محسوس كرتے كہ لوگ اس كو احتمالى طور پر مہدى سمجھ رہے ہيں _ ممكن ہے اس كى وجہ سے ايسا انقلاب وشورش بر پاہوجائے كہ جس كے كچلنے ميں خلافت كى مشنرى كو بہت بڑ انقصان اٹھا نا پڑ ے _

اب آپ بنى عباس كے انقلابى اور بحرانى حالات يعنى نقل احاديث اور كتابوں كى تاليف كے زمانہ كا نقشہ كھينچ سكتے ہيں اور يہ انصاف كر سكتے ہيں كہ مولفين ، علماء اور احاديث كے روات آزاد نہيں تھے كہ مہدى موعود سے متعلق خوصا مہدى كے قيام و غيبت سے مربوط احاديث كو اپنى كتابوں ميں تحرير كرتے _ كيا آپ يہ خيال كرتے ہيں كہ مہدويت كے مقابلہ ميں ، جو كہ اس زمانہ ميں سياسى مسئلہ بن چكا تھا ، نے كوئي مداخلت نہيں كى ہوگى اور احاديث كے روات كو آزاد چھوڑ يا ہوگا كہ وہ مہدى منتظر اور ان كے قيام و غيبت سے مربوط احاديث كو ، جو كہ سراسراكے ضرر ميں تھيں ، كتابوں ميں در ج كريں ؟

ممكن ہے آپ يہ خيال كريں كہ : خلفائے بنى عباس كم از كم اتناتو جانتے ہى تھے كہ دانشوروں كو محدود ركھتے اور ان كے امور ميں مداخلت كرنے ميں معاشرہ كى بھلائي نہيں ہے _ روايت احاديث اور علماء كو آزاد چھوڑ دينا چاہئے تا كہ وہ حقائق لكھيں اور بيان كريں اور لوگوں كو بيدار كريں _ اس لئے ميں خلفائے بنى عباس بلكہ ان سے پہلے خلفاء كى بے جامد اخلت كے چند نمونے پيش كرنے كيلئے مجبور ہوں تا كہ حقيقت واضح ہوجائے:


خلفا كے زمانہ ميں سلب آزادي

ابن عسا كرنے عبدالرحمان بن عوق سے روايت كى ہے كہ عمر بن خطاب نے اصحاب رسول (ع) ، جيسے عبد اللہ بن خديفہ ، ابو دردا ، ابوذر غفارى اور عقبہ بن عامر كو اسلامى شہروں سے طلب كيا اور سرزنش كرتے ہوئے كہا :

"پيغمبر (ع) سے تم لوگ كيا كيا حديثيں نقل كرتے اور لوگوں ميں پھيلاتے ہو؟ اصحاب نے جواب ديا يقينا آپ ہميں حديثيں بيان كرنے سے منع كرنا چاہتے ہيں ؟

عمر نے كہا : تم لوگ مدينہ سے با ہر نہيں جاسكتے اور جب تك ميں زندہ ہوں مجھ سے دور نہيں ہوسكتے ميں بہتر جانتا ہوں كہ كس حديث كو قبول كرنا اور كس كو رد كرناہے _ اصحاب رسول (ع) عمركى حيات تك ان كے پاس رہنے پر مجبور ہو گئے _(9)

معاويہ نے اپنے فرمانداروں كو حكم ديا كہ جو شخص بھى على بن ابيطالب اور انكى اولاد كے فضائل كے بارے ميں كوئي حديث نقل كرتا ہے _ اس كے لئے امان نہيں ہے _(10)

محمد بن سعد اور ابن عسا كرنے محمود بن عبيد سے نقل كيا ہے كہ انہوں نے كہا :

ميں نے عثمان بن عفان سے سنا كہ انہوں نے منبر كے اور پر سے كہا : كسى شخص كو ايسى حديث نقل كرنے كا حق نہيں ہے جو كہ ابوبكر و عمر كہ زمانہ ميں نقل نہ ہوئي ہو (11)_

معاويہ نے اپنے فرمانداروں كو لكھا : لوگوں كو صحابہ اور خلفا كے فضائل ميں حديثيں نقل كرنے كا حكم دو اور انھيں اس بات پرتيار كرو كہ جو احاديث حضرت على بن ابيطالب كے فضائل كے سلسلہ ميں وارد ہوئي ہيں ايسى ہى احاديث كو صحابہ كے بارے ميں بيان كريں _(12)

مامون نے 218 ہ ميں عراق اور دوسرے شہروں كے علماو فقہا كو جمع كيا اور ان كے عقائد كے بارے ميں بازپرس كى اور پوچھا كہ قرآن كے بارے ميں تمہارا كيا عقيدہ ہے؟ اسے قديم سمجھتے ہو يا حادث ؟ پس جو لوگ قرآن كو قديم مانتے تھے انھيں كافر قرار ديا اور شہروں ميں لكھ كر بھيجديا كہ ان كى شہادت قبول نہ كى جائے _ اس لئے تمام علما قرآن كے بارے ميں مامون كے عقيدہ كو تسليم كرنے پر مجبور ہوگئے ليكن چند افراد نے قبول نہيں كيا _ (13)

حجاز كے بڑے فقيہ مالك بن انس نے مدينہ كے گورنر جعفر بن سليمان كے مزاج كے خلاف ايك فتوى ديديا_ حاكم نے انھيں بہت ہى رسوائي كے ساتھ طلب كيا اور ستر تازيانے لگانے كا حكم دياجس سے وہ ايك مدت تك بستر سے نہ اٹھ سكے _

بعد ميں منصور نے مالك كو طلب كيا ابتدائے گفتگو ميں جعفر بن سليمان كے تازيانہ لگانے پر اظہار افسوس كيا اور معذرت چاہى اس كے بعد كہا : فقہ و حديث كے موضوع پر آپ ايك كتاب تاليف كيجئے ليكن اس ميں عبد اللہ بن عمر كى دشوار ، عبداللہ بن عباس كى سہل و آسان اور ابن مسعود كى شاذ حديثيں جمع نہ كيجئے _ صرف ان مطالب كو جمع كيجئے جن پر صحابہ كا اتفاق ہے _ جلد لكھئے تا كہ ہم اسے تمام شہروں ميں بھيجديں اور لوگوں كے لئے اس پر عمل كرنے كو لازم قرار ديديں _ مالك كہتے ہيں فقہ و علوم كے سلسلے ميں عراقيوں كا دوسرا عقيدہ ہے وہ ہمارى باتوں كو قبول نہيں كريں گے ، منصور نے كہا: آپ كتاب لكھئے ہم اس پر عراق كے لوگوں سے بھى عمل كرائيں گے اور گر وہ روگردانى كريں گے تو ہ ان كى گردن مارديں گے اور تازيانوں سے بد ن كو سياہ كرديں گے _ كتاب كى تاليف ميں جلد كيجئے ، سال آئندہ ميں اپنے بيٹے مہدى كو كتاب لينے كے لئے آپ كے پاس بھيجوں گا _ (14)

معتصم عباس نے احمد بن حنبل كو بلايا اور قرآن كے مخلوق ہونے كے سلسلے ميں ان كا امتحان ليا اور ا--سى كوڑے لگانے كا حكم ديا _(15) منصور نے ابوحنيفہ كو بغداد بلا كر زہر ديا _(16)

ہاروں رشيد نے عباد بن عوام كے گھر كو ويران كرديا اور احاديث نقل كرنے سے منع كرديا _(17)

خالد بن احمد ''بخارا'' كے گورنر نے محمد بن اسماعيل بخارى ، ايسے عظيم محدث سے كہا : اپنى كتاب مجھ پر ھكر سناؤ_ بخارى نے اس سے انكار كيا اور كہا :اگر يہى بات ہے تو مجھے نقل احاديث سے منع كردو تا كہ خدا كے نزديك معذور ہوجاؤں _ اس بناپر بخارى ايسے عالم كو جلا وطن كرديا _ وہ سمرقند كے ديہات خزننگ چلے گئے اور آخرى عمر تك وہيں اقامت گزيں رہے _ راوى كہتا ہے كہ ميں نے بخارى سے سنا كہ وہ نماز تہجد كے بعد خدا سے مناجات كرتے اور كہتے تھے: اے اللہ اگر زمين ميرے لئے تنگ ہوگئي ہے تو مجھے موت ديدے چنانچہ اسى مہينے ميں ان كا انتقال ہوگيا _(18)

جب نسائي نے حضر ت على بن ابيطالب كے فضائل جمع كركے اپنى كتاب خصائص تاليف كى تو لوگوں نے انھيں دمشق بلايا اور كہا: ايسى ہى ايك كتاب معاويہ كے فضائل كے سلسلے ميں تاليف كرو، نسائي نے كہا: مجھے معاويہ كى كسى فضيلت كا علم نہيں ہے ، صرف اتنا جانتا ہوں كے پيغمبر (ص) نے اس كے بارے ميںفرمايا ہے كہ: خدا كبھى معاويہ كو شكم سير نہ كرے _ يہ سنكر لوگوں نے اس عالم كو جوتوں سے مارا اور ان كے خصيوں كو اتنا دبايا كہ مرگئے _(19)


فيصلہ

خلفا كے بحرانى اور انقلابى حالا ت ، مسئلہ مہدويت خصوصاً موضوع غيبت و قيام، جو كہ مكمل طور پر سياسى بن گيا تھا اور عام لوگ اس كى طرف متوجہ تھے ، اس سے فائدہ اٹھايا جارہا تھا ، روات احاديث اور صاحبان قلم پر پابندياں عائد تھيں _ ان تما م چيزوں كو مد نظر ركھ كر فيصلہ كيجئے : كيا صاحبان قلم ، روات احاديث مہدى موعود ، آپ كے علائم و آثار اور غيبت و قيام سے متعلق احاديث نقل كر سكتے تھے؟ كيا خلفائے وقت نے لكھنے والوں كو اتنى آزادى دے ركھى تھى كہ انہوں نے جو كچھ سنا يا پڑھاہے اس كى روايت كريں اور اپنى كتابوں ميں لكھيں؟ يہاں تك ان احاديث كو بھى قلم بند كريں جو خلافت كے لئے خطرہ كا باعث اور سياسى رنگ ميں رنگى ہوں

كيا مالك بن انس اور ابو حنيفہ اپنى ان كتابوں ميں جو كو منصور عباسى كے حكم سے تأليف ہوئي تھيں مہدويت اور علويين كى غيبت سے متعلق احاديث نقل كر سكتے تھے؟ جبكہ اسى زمانہ ميں محمد بن عبداللہ بن حسن اور ان كے بھائي ابراہيم غائب تھے اور بہت سے لوگوں كا عقيدہ تھا كہ محمد ہى مہدى موعود ہيں جو كہ قيام كريں گے ، ظلم و طتم كا قلع و قمع كريں گے او ردنيا كى اصلاح كريں گے : با وجوديكہ غيبت اور محمد كے قيام سے منصور بھى خوف زدہ تھا اور انھيں گرفتار كرنے كے لئے علويوں كے ايك بے گناہ گروہ كو قيدى بنا ركھا تھا _ كيا اسى منصور نے ابوحنيفہ كو زہر نہيں ديا تھا؟ كيا اس كے گور نر جعفر بن سليمان نے مالك بن انس كو كوڑے نہيں لگوائے تھے؟

كيا اسى منصور نے جب مالك بن انس كو كتاب تاليف كرنے كا حكم ديا تھا تو ان كے كام ميں مداخلت نہيں كى تھى اور صريح طور پر يہ نہيں كہا تھا كہ اس كتاب ميں عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عباس اور ابن مسعود كى حديثيں نقل نہ كرنا؟ اور جب مالك نے يہ كہا: عراق والوں كے پاس بھى علوم و احاديث ہيں ممكن ہے وہ ہمارى احاديث كو قبول نہ كريں ، منصور نے كہا: ہم آپ كى كتاب پر نيزوں كى انى اور تازيانوں كے زور سے عمل كرائيں گے ؟ كيا منصور سے كوئي يہ كہہ سكتا تھا كہ لوگوں كے دينى امور مى تمہيں مداخلت كا كيا 3حق ہے ؟ تمہيں كيسے معلوم كہ عراق والوں كے علوم و احاديث باطل ہيں ؟ عبداللہ بن عباس ، عبداللہ بن عمر اور ابن مسعود كا كيا جرم ہے جو تم ان كى احاديث قبول نہيں كرتے؟

تدوين احاديث كے سلسلہ ميں منصور جيسے لوگوں نے جو بے جا مداخلت كى ہے ميں اس كا صحيح محل تلاش نہيں كر سكتا _ بس يہ كہا جا سكتا ہے كہ عبداللہ بن عباس ، عبداللہ بن عمر اور ابن مسعود كى احاديث خلاف كى مشنرى كے موافق نہيں تھيں اس لئے ان كے نقل كرنے ميں قدغن تھي_ مالك كے بارے ميں لكھتے ہيں ايك لاكھ احاديث سنى تھيں ليكن'' موطا'' ميں پانچ سوسے زيادہ نہيں ہيں _(20)

كيامعتصم سے كوڑے كھانے والے احمد بن حنبل ، جلا وطن ہونے والے بخارى اور زدكوب ميں جان دينے والے نسائي اپنى كتابوں ميں ايسى احاديث لكھ سكے ہيں جو علويوں كے موافق اور دربار خلافت كے مخالف تھيں ؟
نتيجہ

گزشتہ بحث سے يہ نتيجہ اخذ ہوتا ہے ، چونكہ احاديث مہدويت خصوصاً غيبت و قيام سے متعلق احاديث سياسى صورت حال اختيار كر چكى تھيں اور خلافت كى مشنرى كے ضرر اور اس كے مخالف يعنى علويوں كے حق ميں تھيں _ اس لئے علمائے اہل سنّت پابندى كى وجہ سے انھيں اپنى كتابوں ميں ڈرج نہيں كر سكے اور اگر لكھى ہوں گى تو انھيں ظالم سياستمداروں نے محو كرديا ہے _ شايد ابہام و اجمال كى صورت ميں وجود مہدى اس لئے حوادث كى دست برد سے محفوظ رہ گيا كہ حكومت كو اس سے كوئي ضرر نہيں تھا _ ليكن مہدى موعود كے مكمل آثار و علائم اور احاديث كو اہل بيت رسول (ص) اور ائمہ اطہار نے ، جو كہ علوم پيغمبر(ص) كے محافظ تھے ، محفوظ ركھا اور وہ آج تك شيعوں كے درمياں باقى ہيں _

اس كے باوجود اہل سنّت كى كتابيں غيبت كے موضو ع سے خالى نہيں ہيں _ مثلاً ايك روز حذيفہ كے سامنے كہا گيا : مہدى نے خروج كيا ہے _ حذيفہ نے كہا : اگر مہدى نے ظہور كيا ہے تو يہ تمہارے لئے بڑى خوش قسمتى كى بات ہے جبكہ ابھى اصحاب پيغمبر(ص) زندہ ہيں ليكن ايسا نہيںمہدى اس وقت تك خروج نہيں كريں گے جب تك لوگوں كے نزديك مہدى سے زيادہ كوئي غائب محبوب نہ ہو _ (21)

يہاں حذيف نے موضوع غيبت كى طرف اشارہ كيا ہے _ حذيفہ حوادث زمانہ اور اسرار پيغمبر(ص) سے واقف و آگاہ ہيں _ و ہ خود كہتے ہيں : ميں مستقبل كے حوادث اور فتنوں كو تمام لوگوں سے بہتر جانتا ہوں _ اگر چہ ان چيزوں كو رسول (ص) نے ايك مجلس ميں بيان كيا تھا _

ليكن حاضرين ميں سے اب ميرے سوا كوئي باقى نہيں ہے _ (22)

جلالى : امام غائب كتنے سال زندہ رہيں گے؟

ہوشيار : آپ (ع) كى زندگى اور عمر كى مقدار معين نہيں ہوئي ہے _ ليكن اہل بيت كى احاديث طويل العمر قرار ديتى ہيں مثلاً امام حسن عسكرى (ع) نے فرمايا:

''ميرے بعد ميرا بيٹا قائم ہے اس ميں پيغمبروں كى دو خصوصيتيں يہ بھى ہوں گى كہ وہ عمر دراز ہوں گے اور غيبت اختيار كريں گے _ ان كى طولانى غيبت سے دل تاريك اور سخت ہوجائيں گے ، آپ(ع) كے عقيدہ وہى لوگ باقى و قائم رہيں گے كہ خدا جن كے دلوں ميں ايمان استوار ركھے گا اور غيبى روح كے ذريعہ ان كے مدد كرے گا _ (23) اس سلسلہ ميں 46 حديثيں اور ہيں _

ڈاكٹر: امام زمانہ سے متعلق ابھى تك آپ نے جو باتين بيان فرمائي ہيں وہ سب مستدل اور قابل توجہ ہيں _ ليكن ايك اہم اعتراض ، كہ جس نے ميرے اور تمام احباب كے ذہن كو ماؤف كرركھا ہے اور ابھى تك اما م غائب كے وجود كے سلسلے ميں متردد ہيں وہ طول عمر ہے _ علما اور تعليم يافتہ طبقہ ايسى غير طبيعى عمر كو قبول نہيں كر سكتا كيونكہ بدن كے خليوں كى عمر محدود ہے _ بدن كے اعضاء رئيسہ ''قلب'' ''مغز'' پھيپھڑ ے اور ''جگر''

 

كام كرنے كيلئے معين استعداد كے حامل ہيں _ ميں اس بات كو قبول نہيں كرسكتا كہ ايك طبيعى انسان كا قلب ہزار سال سے زيادہ كام كرسكتا ہے _ صريح طور پر عرض كروں : ايسے موضوعات اس علمى زمانہ ميں كہ جس مين فضا كو مسخر كرليا گيا ہے ،دنيا والوں كے سامنے پيش نہيں كى جا سكتا _

ہوشيار : ڈاكٹر صاحب مجھے بھى اس بات كا اعتراف ہے كہ حضرت وليعصر كى طولعمر كا مسئلہ مشكل مسائل مى ايك ہے _ ميں بھى علم طل و علم الحيات سے نا واقف ہوں ليكن حق با ت قبول كرنے كے لئے تيار ہوں ، حضور ہى طول عمر سے متعلق اپنى قيمتى معلومات سے نوازيں _

ڈاكٹر: مجھے بھى اس بات كا اعتراف كرنا چاہئے كہ ميرى علمى اطلاعات بھى اتنى نہيں ہيں جو كہ ہمارى بنيادى مشكل كو حل كر سكيں _ اس بناپر ہميں كسى سائنسد اں كى معلومات استفادہ كرنا چاہئے _ ميں سمجھتا ہوں كہ يہ كام اصفہان كى ميڈيكل كالج كے پروفيسر ڈاكٹر نفيسى كے ذمہ كيا جائے اور ان كے علم سے استفادہ كيا جائے ، كيونكہ موصوف كلاسيكى تعليم كے علاوہ محقق بھى ہيں اور ايسے مطالب سے دل چسپى بھى ركھتے ہيں _

ہوشيار : كوئي حرج نہيں ہے _ ميں اس سلسلے ميں كچھ سوالات لكھتا ہوں اور بذريعہ خط ڈاكٹر نفيسى صاحب كى خدمت ميں ارسال كرتا ہوں اور جواب كا تقاضا كرتا ہوں _ بہتر ہے كہ جلسہ كو ملتوى كرديا جائے ہو سكتا ہے اس مدت ميں طول عمر كے موضوع پر ہم تحقيق كرليں اور كامل بصيرت كے ساتھ بحث ميں وارد ہوں ڈاكٹر نفيسى كا جواب موصول ہونے كے بعد جلالى صاحب آپ كا فون كے ذريعہ اطلاع ديں گے _

 

 

1_ تاريخ يعقوبى ج 3 ص 142 طبع نجف سنہ 1384 ھ
2_ مقاتل الطالبين ص 143
3_ مقاتل الطالبين ص 143 تا ص 154_
4_ مقاتل الطالبين ص 278_
5_ مقاتل الطالبين ص 392_
6_ مقاتل الطالبين ص 308_
7_ مقاتل الطالبين ص 415 _ 418_
8_ مقاتل الطالبين ص 294 _296
9_ اضواء على السنة الحمديہ ص 29
10_ نصائح الكافيہ مولفہ سيد محمد بن عقيل طبع سوم ص 87_
11_ اضواء على السنة المحمديہ ص 30_
12_ نصائح الكافيہ ص 88_
13_ تاريخ يعقوبى ج 3 ص 202_
14_ الامامہ و السياسة ج 2 ص 177 و 180_
15_ تاريخ يعقوبى ج3 ص 206_
16_ مقاتل ص 244_
17_ مقاتل ص 241_
18_ تاريخ بغداد ج 2 ص 33_
19_ نصائح الكافيہ ص 109_
20_ اضواء ص 271
21_ الحادى للفتاوى ج 2 ص 159_
22_ تاريخ ابن عساكر ج 4 ص 9_
23_ بحار الانوار ج 51 ص 224_