صاحب الامر (عج) كى مادر گرامي

صاحب الامر (عج) كى مادر گرامي

جلالى : صاحب الامر كى مادر گرامى كا كيا نام ہے ؟

ہوشيار: آپ كى مادرگرامى كے متعدد نام بيان كئے گئے ہيں ، جيسے : نرجس ، صيقل ، ريحانہ ، سوسن ، خمط ، حكيمہ ، مريم درج ذيل دو نكات پر توجہ فرمائيں تو مذكورہ اختلاف كا سبب معلوم ہوجائے گا _

الف : امام حسن عسكرى (ع) كى مختلف نام كى متعدد كنيزيں تھيں _ كنيزوں كے تعدد والے موضوع كو حكيمہ خاتون نے دو موقعوں پر بيان كيا ہے _

ايك جگہ حكيمہ خاتون كہتى ہيں : ايك روز ميں امام حسن عسكرى كى خدمت ميں پہنچى تو ديكھا آپ (ع) صحن ميں تشريف فرماہيں اور كنيزيں آپ كے چاروں طرف جمع ہيں ميں نے عرض كى _ ميں آپ كے قربان آپ كے جانشين كس كنيز سے پيدا ہوں گے فرمايا : سوسن سے ''_(1)

دوسرى جگہ حكيمہ خاتون فرماتى ہيں : ايك روز ميں امام حسن عسكرى (ع) كے گھر گئي تھى _ جب ميں نے واپسى كا ارادہ كيا تو آپ نے فرمايا : ہمارے ہى گھر افطار كيجئے كيونكہ آج كى رات خدا مجھے بيٹا عطا كرے گا _ ميں نے عرض كى : كس كنيز سے ؟ فرمايا نرجس سے _ عرض كى مولا : ميں بھى نرجس كو تمام كنيزوں سے زيادہ چاہتى ہوں _ (2)

ان دو حديثوں اور ديگر احاديث سے يہ بات سمجھ ميں آتى ہے كہ امام حسن عسكرى (ع) كے يہاں متعدد كنيزيں تھيں _

ب_ جيسا كہ ميں پہلے بھى عرض كرچكاہوں كہ فرزند حسن عسكرى نے خطرناك اور وحشت ناك ماحول ميں ولادت پائي ہے _ كيونكہ خلفائے بنى عباس بلكہ بعض بنى ہاشم نے بھى يہ احساس كرليا تھا كہ مہدى يعنى ظالم و ستمگروں سے جہاد كرنے والے كى ولادت كا وقت قريب ہے _ اس لئے انہوں نے اپنے خفيہ اور آشكار كارندوں كو اس بات پر مامور كيا كہ وہ امام حسن عسكرى بلكہ تمام علويوں كے گھروں كى مكمل طور پر نگرانى ركھيں _ بنى عباس كى اس مشينرى كى پورى كوشش يہ تھى كہ ان گھروں سے ايك نوزاد بچہ تلاش كركے خليفہ كى خدمت ميں پيش كردے _

ان دو مقدموں كے بعد ہم يہ كہتے ہيں كہ خدا كى طرف سے يہ مقدر ہوگيا تھا كہ ايسے خوفناك حالات اور ايسے مركز توجہ گھر ميں امام حسن عسكرى (ع) كا بيٹا پيدا ہو اور اسكى جان خطرہ سے محفوظ رہے _ اس لئے تمام پيش بندياں كى گئي تھيں _ اولاً جيسا كہ روايات ميں وارد ہوا ہے آپ كى والدہ ميں حمل كے آثار ظاہر نہيں ہوئے _ ثانياً: امام حسن عسكرى (ع) نے احتياط كى رعايت كے تحت كسى كو ان كى مادر گرامى كا نام نہيں بتايا _ ثالثاً: ولادت كے وقت حكيمہ خاتون اور چند كنيزوں كے علاوہ كوئي گھر ميں نہيں تھا جبكہ وضع حمل كے وقت عام طور پر دائي اور چند عورتوں كى مدد كى ضرورت ہوتى ہے _ كوئي نہيں جانتا تھا كہ امام حسن عسكرى نے شادى كى ہے يا نہيں اور اگر كى ہے تو كس سے _

پندرہ شعبان كى شب ميں نہايت خفيہ اور پنہاں، ترس و خوف كے ماحول ميں امام حسن عسكرى (ع) كے يہاں بيٹا پيدا ہوا ، اس گھر ميں جہاں متعدد كنيزيں موجود تھيں ليكن كسى ميں بھى حمل كے آثار ظاہر نہيں تھے اور وضع حمل كے وقت حكيمہ خاتون كے علاوہ وہاں كوئي اور موجود نہ تھا اور كوئي قضيہ كے اظہار كى جرائت نہيں ركھتا تھا _

ايك زمانہ تك يہ موضوع سربستہ راز و مخفى رہا بعد ميں خاص اصحاب كے درميان شروع ہوا بعض كہتے تھے خدا نے امام حسن عسكرى كو ايك فرزند عطا كيا ہے اور بعض انكار كرتے تھے _ چونكہ كنيزيں يكساں تھيں كسى ميں حمل كے آثار ظاہر نہيں تھے اس لئے امام مہد ى كى مادر گرامى كے بارے ميں اختلاف ناگزير تھا ، بعض كہتے تھے ان كى والد صيقل ہيں _ بعض كہتے تھے سوسن ہيں اور بعض ريحانہ كو آپ كى والدہ قرار ديتے تھے اور كچھ ان كے علاوہ كسى اور كے قائل تھے _ حقيقت حال سے كوئي واقف نہ تھا اور جو معدود افراد واقف بھى تھے انھيں حقيقت بيان كرنے كى اجازت نہيں تھى _ يہاں تك كہ حكيمہ خاتون بھي، جو كہ آپ ولادت كى گواہ و شاہد تھيں ، احتياط كى رعايت كى وجہ سے كبھى نرجس كو كبھى سوسن كو آپ كى والدہ بتاتى تھيں _

احمد بن ابراہيم كہتے ہيں : ميں 262 ھ ميں حكيمہ خاتون بنت امام محمد تقى (ع) كى خدمت ميں حاضر ہوا اور پشت پردہ سے ان سے گفتگو كى اور ان كى نظريات معلوم كئے _ انہوں نے اپنے ائمہ كا تعارف كرايا او رآخر ميں محمد بن حسن كا نام ليا _ ميں نے پوچھا : آپ اس واقعہ كى خودگواہ ہيں يااخبار كى بناپر كہتى ہيں؟ فرمايا: امام حسن عسكري نے قضيہ لكھ كر اپنى مادر گرامى كے سپرد كرديا ہے _ ميں نے عرض كى اس صورت ميں شيعوں كو كس طرف رجوع كرنا چائے ؟فرمايا: امام حسن عسكرى (ع) كى والدہ سے _ ميں نے كہا : اس وصيت كى روسے ايك عورت كى پيروى ہوگى _ فرمايا : امام حسن عسكرى (ع) نے اس وصيت ميں اپنے جد امام حسين (ع) بن على كى پيروى كى ہے كيونكہ آپ نے بھى كربلا ميں اپنى بہن زينب (ع) كو اپنا وصى قرارديا تھا اور امام زين العابدين كے علوم كى جانب زينب (ع) كى طرف نسبت دى جاتى ہے _ امام حسين (ع) نے يہ كام اس لئے انجام ديا تھا تا كہ امام زين العابدين (ع) كى امامت كا مسئلہ مخفى رہے _ اس كے بعد حكيمہ نے فرمايا : تم تو اخبارى ہو كيا تمہارے پيش نظريہ روايت نہيں ہے كہ حسين كے بيٹے كى ميراث تقيسم ہوجائے گى جبكہ وہ زندہ ہے _ (3)

جيسا كہ آپ ملا حظ فرمار ہے ہيں كہ حكيمہ نے اس حديث ميں اور صريح جواب دينے سے احتراز كيا ہے اور بچہ كى داستان كى امام حسن عسكرى كى والدہ كى طرف نسبت دى ہے يا وہ مخاطب سے ڈرتى اور ان سے حقيقت كو چھپا تى ہيںيا موضوع كو جان بوجھ كر مبہم ركھنا ميں جبكہ يہى حكيمہ خاتون دوسرى جگہ امام حسن عسكرى كے نرجس سے نكاح كو تفضيل سے بيان كرتى ہيں اور مہدى كى ولادت كى داستان كو ، كہ جس كى خود گواہ تھيں ، تفصيل سے بيان كرتى ہيں _ اس كے بعد كہتى ميں اب ميں آپ كو مستقل طور پر د يكھتى ہوں اور گفتگو بھى كرتى ہوں ( 4 ) خلاصہ ، صاحب الا مر كى والدہ كے بار ے ميں جو اختلاف نظر آتا ہے وہ كوئي عجيب و غريب بات نہيں ہے بلكہ اس زمانہ كے وحشت ناك حالات ، كنيزوں كى كثرت اور اختفا ميں شدت يہى اقتضا تھا اور امام حسن عسكرى كى ميراث كے سلسلے ميں آپ كى والدہ اور جعفر كذاب كے در ميان جو شديد اختلاف رونما ہو اتھا بعيد نہيں ہے كہ اس ميں خليفہ كا ہا تھ ہو اور اس طرح امام حسن عسكرى كے بيٹے كاپتہ لگا نا چا ہتا ہو _

كمال الدين ميں صدوق لكھتے ہيں : جب امام حسن عسكرى كى ميرات كے سلسلہ ميں آپ كى والدہ سے جعفر سے نزاع ہوئي ااور قضيہ خليفہ تك پہنچا تو اس وقت امام حسن عسكرى كى ايك كنيز صيقل نے حاملہ ہو نے كا دعوى كيا چنا نچہ اس كنيز كو خليفہ معتمد كے گھر لے جا يا گيا اور خليفہ كى عورتون ، خدمت گارون ، ماہر عورتون اور قاضى كى عورتو ں كى نگرانى ميں ركھى گئيں تا كہ ان كے حاملہ ہونے كا مسئلہ واضح ہو جائے _ ليكن اس زمانے ميں عبداللہ بن يحيى اور صاحب زنج كے خروج كا مسئلہ اٹھ كھٹرا ہوا _ اور حكومت كے افراد كو سامرہ سے نكلنا پڑا ، اور اپنے مسائل ميں الجھ گئے اور صيقل كى نگرانى سے دست بردار ہو گئے (5)

نام اور تعدد كے اختلاف ميں دوسرا احتمال بھى ہے _ ممكن ہے كوئي يہ كہے : يہ سب نام ايك ہى كنيز كے تھے _ يعنى جس كنيز كے بطن سے صاحب الامر تھے ان كے كئي نام تھے ، يہ بھى بعيد نہيں ہے كيونكہ عربوں ميں رواج تھا كہ وہ ايك ہى شخص كو متعدد ناموں سے پكار تے تھے _

اس احتمال كا ثبوت وہ حديث ہے جو كہ ، كمال الدين ، ميں موجود ہے صدوق نے اپنى سند سے غياث سے روايت كى ہے كہ انہوں كہا : امام حسن عسكرى كے جانشين جمعہ كے دن پيدا ہوئے ہيں _ ان كى مادر گرامى ريحانہ ہيں كہ جنھيں نرجس صيقل اور سوسن بھى كہا جاتا ہے چونكہ حمل كے زمانہ ميں مخصوص نورانيت و جلاكى حامل تھيں اس لئے ان كانام صيقل پڑ گيا تھا (6)

آخرميں اس بات كى وضاحت كردينا ضرورى سمجھتا ہوں كہ صاحب الامر كى مادر گرامى كے نام كى تعيين ميں اگرچہ مختصر ابہام ہے ليكن اس ابہام سے آپ كے اصل وجود پر كوئي صرف نہيں آتاہے كيونكہ ، جيساكہ آپ نے ملاحظہ فرمايا ، ائمہ اطہار اور امام حسن عسكرى نے اپنے بيٹے كے وجود كى خبردى ہے اور حكيمہ خاتون بنت امام محمد تقى ، جو كہ قابل اعتماد و وثوق عورتيں ، انہيں نے آپ كى ولادت كى وضاحت كى ہے_ اس كے علاوہ امام حسن عسكرى كے گھر كے خدام اور بعض ثقہ افراد نے اس كو ديكھا ہے اور اس كے و جود كى گواہى دى ہے _ والدہ كانام خواہ كچھ بھى ہو _

 

 

1_ بحار الانوار جلد 51 ص 17_
2_ بحارالانوار جلد 51 ص 25_
3_ كمال الدين ج 2 ص 178
4 _ كمال الدين ج 99 ص 103
5_كما الدين ج2 ص 149
6- كمال الدين ج 2 ص 106.