پيش گفتار

پيش گفتار

زندہ اور غائب امام حضرت مہدى موعود كے وجود كا عقيدہ اسلامى عقيدہ ہے جو كہ اماميہ مذہب كے اركان ميں شمار ہوتا ہے _ يہ عقيدہ متواتر اور قطعى الصدور احاديث سے ثابت ہوچكا ہے _ اس ميں شك كى گنجائشے نہيں ہے _ ليكن اس سلسلے ميں بہت سے مسائل تحقيق كے محتاج ہيں _ جيسے : طول عمر ، طولانى غيبت ، غيبت كى وجہ ، زمانہ غيبت ميں امام زمانہ كے فوائد ، غيبت كے زمانہ ميں مسلمانوں كے فرائض ، ظہور كى علا متيں ، حضرت مہدى كا عالمى انقلاب ، آپ(ع) كى كاميابى كى كيفيت ، حضرت مہدى كى فوج كا اسلحہ ، ان كے علاوہ اور دسيوں مسئلے ہيں ، كيونكہ مخالفين جوانوں اور تعليم يافتہ طبقہ كے در ميان كتابوں اور تقارير كى صورت ميں ان ہى باتوں كو اعتراضات كا نشانہ بنا تے ہيں _ ان كا جواب دينا ضرورى ہے _ با وجوديكہ امام زمانہ روحى فداہ كے بارے ميں بہت سى كتا بيں لكھى جا چكى ہيں مگر افسوس كہ لكھنے والے ان اعتراضات كى طرف متوجہ نہيں تھے _ لہذا ان كا جواب بھى نہيں ديا _ مؤلف ان اعتراضات سے واقف تھے چنانچہ ان كا جواب دينے كى غرض سے كتاب لكھنے كا فيصلہ كيا تا كہ امام زمانہ(ع) سے متعلق ايسے صحيح مطالب قارئين كى خدمت ميں پيش كئے جائيں جو كہ ان كى ضرورت كو پو را كرسكيں خدا كى توفيق شامل حال ہوئي اور 1346 ق ش ميں يہ كتاب طبع ہوكر شائفين كے ہاتھوں ميں پہنچ گئي _ ليكن مؤلف ہميشہ اس كى تكميل كى فكر ميں رہے اور ہيں _ چنانچہ 1347 ق ش ميں نظر ثانى اور اضافات كے ساتھ دوسرے ايڈيشن طبع ہو كر شائفيں تك پہنچ گيا ، اس كے بعد

16

اگر چہ آج تك يہ كتاب مستقل چھپتى رہى ليكن تجديد نظر كے لئے فرصت نہ مل سكى _ يہاں تك كہ اس زمانہ ميں توفيق نصيب ہوئي اور نئے مطالب جمع ہوگئے _ لہذا نظر ثانى اور سودمند اضافات كے ساتھ شائقين كى خدمت ميں حاضر ہے _ واضح رہے ہميشہ كى طرح كتاب ہذا كى فائل كھلى رہے گى _ قارئين سے گزارش ہے كہ وہ اپنى تحقيقات اور مشور وں سے نوازيں شكريہ
ابراھيم اميني

قم _ مارچ 1995ئ