مہدى ظہور كيوں نہيں كرتے ؟

مہدى ظہور كيوں نہيں كرتے ؟

جلالى : دنيا ظلم و جور اور كفرو الحاد سے بھر چكى ہے تو دنيا كى آشفتہ حالى كو ختم كرنے كے لئے مہدى ظہور كيوں نہيں كرتے؟

ہوشيار: كوئي بھى تحريك و انقلاب اسى وقت كاميابى سے ہمكنار ہوتا ہے جب اس كيلئے ہر طرح كے حالات سازگار اور زمين ہموار ہوتى ہے _ كاميابى كى اہم ترين راہ يہ ے كہ سارے انسان اس انقلاب كے خواہاں ہوں اور سب اس كى تائيد و پشت پاہى كيلئے تيارہوں _ اس صورت كے علاوہ انقلاب ناكام رہے گا _ اس قاعدہ كلى سے انقلاب مہدى موعود بھى مستثنى نہيں ہے _ يہ انقلاب بھى اس وقت كامياب ہوگا جب ہر طرح كے حالات سازگار اور زمين ہموار ہوگى _ آپ كا انقلاب معمولى نہيں ہے بلكہ ہمہ گير اور عالمى ہے _ اس كا بہت عميق و مشكل پروگرام ہے _ آپ تمام نسلى ، ملكى ، لسانى ، مقصدى اور دينى اختلافات كو ختم كرنا چاہتے ہيں تا كہ روئے زمين پر صرف ايك قوى نظام كى حكمرانى ہو كہ جس سے صلح و صفائي كے ساتھ لوگ ايك دوسرے كے ساتھ زندگى بسر كريں _ آپ جانتے ہيں كہ منبع ہى سے پانى كى اصلاح كى جا سكتى ہے لہذا آپ اختلافى عوامل كو جڑے ختم كردينا چاہتے ہيں تا كہ درندہ خصلت انسانوں سے درندگى كى عادت ختم ہوجائے اور شير و شكر كى طرح ايك ساتھ زندگى گزاريں _ امام مہدى دنيا سے كفر و الحا دكو نابود كركے لوگوں كو خدائي قوانين كى طرف متوجہ كركے دين اسلام كو عالمى آئين بنانا چاہتے ہيں _

افكار و خيالات كے اختلاف كو ختم كركے ايك مركز پر جمع كرنا چاہتے ہيں اور جھوٹے خداؤں ، جيسے سرحدى ، لسانى ، ملكى ، گروہى ، علاقائي اور جھوٹى شخصيتوں كو ذہن انسان سے نكال كر پھينك دينا چاہتے ہيں _ مختصر يہ كہ نوع انسان اور معاشرہ انسانى كو حقيقى كمال و سعادت سے ہمكنار كرنا چاہتے ہيں اور انسانى اخلاق و فضائل كے پايوں پر ايك معاشرہ تشكيل دينا چاہتے ہيں _

اگر چہ ايسى باتوں كا لكھنا مشكل نہيں ليكن محققين و دانشور جانتے ہيں كہ ايك ايسے عالمى و عميق انقلاب كا آنا آسان نہيں ہے _ ايسا انقلاب مقدمات ، اسباب ، عام ذہنوں كى آمادگى اور زمين ہموار ہونے كے بغير نہيں آسكتا _ ايسے عميقانقلاب كا سرچشمہ دلوں كى گہرائي كو ہونا چاہئے _ خصوصاً مسلمانوں كو اس كا علم بردار ہونا چاہئے ، قرآن مجيد بھى صلاحيت و شائستگى كو اس كى شرط قرار ديتا ہے _ چنانچہ ارشاد ہے :

'' ہم نے زبور ميں لكھ ديا ہے كہ ہم اپنے شائستہ بندوں كو زمين كا وارث بنائيں گے'' (1)_

اس بناپر جب تك نوع انسان رشد و كمال كى منزل تك نہيں پہنچے گى اور امام مہدى كى حكومت حق كو قبول كرنے كيلئے تيار نہ ہوگى ، مہدى ظہور نہ فرمائيں گے _ واضح ہے كہ افكار كى آمادگى لمحوں ميں نہيں ہوتى ہے بلكہ حوادث كے پيش آنے كے ساتھ طويل زمانہ ميں ہوتى ہے اور تب لوگ كمال كى طرف مائل ہوتے ہيں لوگوں كو اس اور اس ملك كے بارے ميںاس قدر بحث و مباحثہ كرنا پڑے گا اور موہوم سرحدوں كے اوپر اتنى جنگ و خونريزى كرنا پڑے گى كہ لوگ ايسى باتوں سے عاجز آجائيں گے اور سمجھ ليں گے كہ يہ سرحديں تنگ نظر لوگوں كى ايجاد ہے _ اس صور ت ميں وہ اعتبارى اور اختلاف انگيز حدود سے ڈريں گے اور سارى دنيا كو ايك ملك اور سارے انسانوں كو ہم وطن اور نفع و ضرر اور سعادت و بدبختى ميں شريك سمجھيں گے _ اس زمانہ ميں كالے گورے ، سرخ و پيلے ، ايشائي ، افريقى ، امريكى ، يورپى ، شہرى ، ديہاتى اور عرب و عجم كو ايك نظرسے ديكھيں گے _

انسان كى اصلاح ، سعادت اور آسائشے كے لئے دانشور ايسے قوانين مرتب كرتے رہيں اور پھر ان پر تبصرہ كريں اور ايك زمانہ كے بعد انھيں لغو قرارديں اور ان كى بجائے دوسرے قوانين لائيں يہاں تك اس سے لوگ اكتا جائيں اور دنيا والے بشر كے قوانين كے نقصان اور قانون بنانے والى كى كم عقلى و كوتاہ فكرى كا اندازہ لگاليں اور ان قوانين كے سايہ ميں ہونے والى اصلاح سے مايوس ہوجائيں اور اس بات كا اعتراف كرليں كہ انسان كى اصلاح صرف پيغمبروں كى اطاعت اور قوانين الہى كے نفوذ سے ہوسكتى ہے _

بشر ابھى خدائي پروگرام كے سامنے سر تسليم خم كرنے كے لئے تيار نہيں ہے اس كا خيال ہے كہ علوم و اختراعات كے ذريعہ انسان كى سعادت كے اسباب فراہم كئے جا سكتے ہيں _ لہذا وہ الہى اور معنوى پروگرام كو چھوڑ كر ماديات كى طرف دوڑتا ہے اور اسے اتنا دوڑنا چاہئے كہ وہ عاجز آجائے اور سخت دھچكا لگے تو اس وقت اس بات كااعتراف كرے گا كہ علوم و اختراعات اگر چہ انسان كو فضا كے دوش پر سوار كرسكتے ہيں ، اس كے لئے آسمان كروں كو مسخر كرسكتے ہيں ، اور مہلك ہتھيار اس كے اختيار ميں دے سكتے ہيں ليكن عالمى مشكلوں كو حل نہيں كر سكتے اور استعمار و بيدادگرى كا قلع و قمع كركے انسانوں كو روحانى سكون فراہم نہيں كر سكتے _

جس وقت سے انسان نے حاكم و فرمانروا كو تلاش كيا ہے اور اس كى حكومت كو قبول كيا ہے اس وقت سے آج تك ان سے اس بات كو توقع رہى ہے اور ہے كہ وہ طاقتور اور ذہين افراد ظلم و تعدى كا سد باب كريں اور سب كى آسائشے و آرام كا ساماں كريں _ ليكن ان كى يہ توقع پورى نہيں ہوتى ہے اور ان كے حسب منشا حكومت نہيں بنى ہے _ ليكن جب بارہا اس كا مشاہدہ ہوچكاكہ حالات ميں كوئي فرق نہيں آيا ہے _ دنيا ميں بھانت بھانت كى حكومتوں كى تاسيس ہو فريب كار اور رنگ رنگ پارٹياں تشكيل پائيں اور ان كى نااہلى ثابت ہوتا كہ انسان ان كى اصلاحات سے مايوس ہوجاتے اور اسے خدائي اصلاحات كى ضرورت محسوس ہو اور وہ توحيد كى حكومت تسليم كرنے كيلئے تيار ہوجائے _ ہشام بن سالم نے امام صادق سے روايت كى ہے كہ آپ(ع) نے فرمايا:

''جب تكہر قسم كے لوگوں كے ہاتھ ميں حكومت نہيں آئے گى اس وقت تك صاحب الامر كا ظہور نہيں ہوگا _ تا كہ جب وہ اپنى حكومت كى تشكيل ديں تو كوئي يہ نہ كہے كہ اگر ہميں حكومت ملى ہوئي تو ہم بھى اسى طرح عدل قائم كرتے '' (2)_

 

امام محمد باقر(ع) كا ارشاد ہے :

''ہمارى حكومت آخرى ہے _ جس خاندان ميں بھى حكومت كى صلاحيت ہوگى وہ ہم سے حكومت كرلے گا _ تاكہ جب ہمارى حكومت تشكيل پائے تو اس وقت كوئي يہ نہ كہے كہ اگر ہميں حكومت ملتى تو م بھى آل محمد (ص) كى طرح عمل كرتے اور آيہ ''والعاقبة للمتقين'' كے يہى معنى ہيں '' (3)

گزشتہ بيان سے يہ بات واضح ہوجاتى ہے كہ انسان كى طبيعت ابھى توحيد كى حكومت قبول كرنے كيلئے آمادہ نہيں ہے ليكن ايسا بھى نہيں ہے كہ وہ اس نعمت سے ہميشہ محروم رہے گا _ بلكہ جو خدا ہر موجود كو مطلوبہ كمال تك پہنچاتا ہے وہ نوع انسان كو بھى مطلوبہ كمال سے محروم نہيں ركھے گا _ انسان نے جس روز سے كرہ زمين پر قدم ركھا ہے اس ى دن سے وہ ايك سعادت مند و كامياب اجتماعى زندگى كا خواہشمند رہا ہے اور ا س كے حصول كى كوشش كرتا رہا ہے _ وہ ہميشہ ايك تابناك زمانہ اور ايسے نيك معاشرہ كا متمنى رہا ہے كہ جس ميں ظلم و تعدى كا نام و نشان نہ ہو انسان كى يہ دلى خواہش فضول نہيں ہے اور خداوند عالم ايسے مقصد تك پہنچنے سے نوع انسان كو محروم نہيں كرے گا _ ايك دن ايساضرور آئے گا كہ جس ميں انسان كا ضمير و دماغ پورے طريقے سے بيدار ہوگا _ گوناگوں قسم كے احكام و قوانين سے مايوس اورحكّام و فرمانروائي سے نااميد ہوجائے گا ، اپنے ہاتھ سے كھڑى كى ہوئي مشكلوں سے عاجز آجائے گا اور پورے طريقہ سے خدائي قوانين كى طرف متوجہ ہوگا _ اور لا ينحل اجتماعى مشكلات كا حل صرف پيغمبروں كى تاسى ميں محدود سمجھے گا _ اسے يہ محسوس ہوگا كہ اسے دو گرانقدر چيزوں كى ضرورت ہے _ 1_ خدا كے قوانين اور اصلاحات كيلئے الہى منصوبہ 2_ معصوم و غير معمولى زمام دار كہ جو خدائي احكام و قوانين كے نفاذ و اجراء ميں سہو و نسيان سے دوچار نہ ہو اور سارے انسانوں كو ايك نگاہ سے ديكھتا ہو _ خداوند عالم نے مہدى موعود كو ايسے ہى حساس و نازك زمانہ كيلئے محفوظ ركھا ہے اوراسلام كے قوانين و پروگرام آپ كو وديعت كئے ہيں _


دوسرى وجہ

ظہور ميں تاخير كے سلسلہ ميں اہل بيت كى روايات ميں ايك اور علت بيان ہوئي ہے _ حضرت امام صادق عليہ السلام فرماتے ہيں :

''خداوند عالم نے كافروں اور منافقوں كے اصلاب ميں با ايمان افراد كے نطفے وديعت كئے ہيں اسى لئے حضرت على (ع) ان كافروں كو قتل نہيں كرتے تھے جن سے كوئي مؤمن بچہ پيدا ہونے والا ہوتا تھا تا كہ وہ پيدا ہوجائے اور اس كى پيدائشے كے بعد جو كافر ہاتھ آجاتا تھا اسے قتل كرديتے تھے _ اسى طرح ہمارے قائم بھى اس وقت ظاہر نہ ہوں گے جب تك كافروں كے اصلاب سے خدائي امانت خارج ہوگى _ اس كے بعد آپ(ع) ظہور فرمائيں گے اور كافروں كو قتل كريں گے '' _(4)

 

امام زمانہ خداپرستى اور دين اسلام كو كافروں كے سامنے پيش كريں گے جو ايمان لے آئے گا وہ قتل پائے گا اور جو انكار كرے گا وہ تہ تيغ كيا جائے گا اور اہل مطالعہ سے يہ بات پوشيدہ نہيں ہے كہ طول تاريخ ميں كافر منافقوں كى نسل سے مومن و خداپرست بچے پيدا ہوئے ہيں _ كيا صدر اسلام كے مسلمان كافروں كى اولاد نہ تھي؟ اگر فتح مكہ ميں رسول خدا كافر مكہ كا قتل عام كرديتے تو ان كى نسل سے اتنے مسلمان وجود ميں نہ آتے _ خدا كے لطف و فيض كا يہ تقاضا ہے كہ لوگوں كو ان كے حال پرچھوڑدے تا كہ مرور ايام ميں ان كى نسل سے مومن پيدا ہوں اور وہ خدا كے لطف و فيض كا مركز بن جائيں _ جب تك نوع سے مومن و خداپرست لوگ وجود ميں آتے رہيں گے اس وقت تك وہ باقى رہے گى اور اسى صورت ميں اپنا سفر طے كرتى رہے گى _ يہاں تك كہ عمومى افكار توحيد و خداپرستى كو قبول كرنے كيلئے آمادہ ہوجائيں گے اور اس وقت امام زمانہ ظہور فرمائيں گے _ بہت سے كفار آپ كے ہاتھ پر ايمان لائيں گے اور كچھ لوگ كفر و الحاد ہى ميں غرق رہيں گے اور كچھ لوگ ايسے بھى ہيں جن سے كوئي مومن پيدا نہ ہوگا _

اس كے بعد جلسہ ختم ہوگيا اور طے پايا كہ آئندہ جلسہ ڈاكٹر صاحب كے گھر منعقد ہوگا _

 

1_ انبيائ/105_
2_ بحار الانوار ج 52 ص 244_
3_ بحارالانوار ج 52 ص 332_
4_ اثبات الہداة ج 7 ص 105_