جناب ابوبكر كا جواب، جناب فاطمہ (ع) كاجواب

جناب ابوبكر كا جواب

رسول اللہ (ص) كى بيٹى كے قوى اور منطقى اور مدلل دلائل كے مقابلے ميں جناب ابوبكر نے ايك خاص رويہ اختيار كيا اور كہا كہ اے رسول خدا(ص) كى دختر آپ كے باپ مومنين پر مہربان اور رحيم اور بلاشك محمّد(ص) آپ كے باپ ہيں اور كسى عورت كے باپ نہيں اور آپ كے شوہر كے بھائي ہيں اور على (ع) كو تمام لوگوں پر ترجيح ديا كرتے تھے، جو شخص آپ كو دوست ركھے گا وہى نجات پائے گا اور جو شخص آپ سے دشمنى كرے گا وہ خسارے ميں رہے گا، آپ پيغمبر(ص) كى عترت ہيں، آپ نے ہميں خير و صلاح اور بہشت كى طرف ہدايت كى ہے، اے عورتوں ميں سے بہترين عورت اور بہتر پيغمبر(ص) كى دختر، آپ كى عظمت اور آپ كى صداقت اور فضيلت اور عقل كسى پر مخفى نہيں ہے_ كسى كو حق نہيں پہنچتا كہ وہ آپ كو آپ كے حق سے محروم كرے، ليكن خدا كى قسم ميں رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كے فرمان سے تجاوز نہيں كرتا جو كام بھى انجام ديتا ہوں آپ كے والد كى اجازت سے انجام ديتا ہوں قافلہ كا سردار تو قافلے سے جھوٹ نہيں بولتا خدا كى قسم ميں نے آپ كے والد سے سنا ہے كہ فرما رہے تھے كہ ہم پيغمبر(ص) سوائے علم و دانش اور نبوت كے گھر اور جائيدار و وراثت ميں نہيں چھوڑتے جو مال ہمارا باقى رہ جائے وہ مسلمانوں كے خليفہ كے اختيار ميں ہوگا، ميں فدك كى آمدنى سے اسلحہ خريدتا ہوں اور كفار سے جنگ كرونگا، مبادا آپ كو خيال ہو كہ ميں نے تنہا فدك پر قبضہ كيا ہے بلكہ اس اقدام ميں تمام مسلمان ميرے

موافق اور شريك ہيں، البتہ ميرا ذاتى مال آپ كے اختيار ميں ہے جتنا چاہيں لے ليں مجھے كوئي اعتراض نہيں، كيا يہ ہوسكتا ہے كہ ميں آپ كے والد كے دستورات كى مخالفت كروں؟


جناب فاطمہ (ع) كاجواب

جناب فاطمہ (ع) نے جناب ابوبكر كى اس تقرير كا جواب ديا_ سبحان اللہ، ميرے باپ قرآن مجيد سے روگردانى نہيں كرسكتے اور اسلام كے احكام كى مخالفت نہيں كرتے كيا تم نے اجماع كرليا ہے كہ خلاف واقع عمل كرو اور پھر اسے ميرے باپ كى طرف نسبت دو؟ تمہارا يہ كام اس كام سے ملتا جلتا ہے جو تم نے ميرے والد كى زندگى ميں انجام ديا_ كيا خدا نے جناب زكريا كا قول قرآن ميں نقل نہيں كيا جو خدا سے عرض كر رہے تھے،

فہب لى يرثنى و يرث من آل يعقوب (1)_

خدايا مجھے ايسا فرزند دے جو ميرا وارث ہو اور آل يعقوب كا وارث ہو_ كيا قرآن ميں يہ نہيں ہے_

ورث سليمان داؤد (2)_

سليمان داؤد كے وارث ہوئے_ كيا قرآن ميں وراثت كے احكام موجود نہيں ہيں؟ كيوں نہيں، يہ تمام مطالب قرآن ميں موجود ہيں اور تمہيں بھى اس كى اطلاع ہے ليكن تمہارا ارادہ عمل نہ كرنے كا ہے اور ميرے لئے بھى سواے صبر كے اور كوئي چارہ نہيں_

جناب ابوبكر نے اس كا جواب ديا كہ خدا رسول (ص) اور تم سچ كہتى ہو، ليكن يہ تمام مسلمان ميرے اور اپ كے درميان فيصلہ كريں گے كيونكہ انہوں نے مجھے خلافت كى كرسى پر بٹھايا ہے اور ميں نے ان كى رائے پر فدك ليا ہے (3)_

جناب ابوبكر نے ظاہرسازى اور عوام كو خوش كرنے والى تقرير كر كے ايك حد تك عوام كے احساسات اور افكار كو ٹھنڈا كرديا اور عمومى افكار كو اپنى طررف متوجہ كرليا_

 

جناب خليفہ كا ردّ عمل

مجلس در ہم برہم ہوگئي ليكن پھر بھى اس مطلب كى سر و صدا خاموش نہ ہوئي اور اصحاب كے درميان جناب زہراء (ع) كى تقرير كے موضوع پر گفتگو شروع ہوگئي اور اس حد تك يہ مطلب موضوع بحث ہوگيا كہ جناب ابوبكر مجبور ہوگئے كہ ملت سے تہديد اور تطميع سے پيش آئيں_

لكھا ہے كہ جناب زہراء (ع) كى تقرير نے مدينہ كو جو سلطنت اسلامى كا دارالخلافة تك منقلب كرديا_ لوگوں كے اعتراض اور گريہ و بكا كى آوازيں بلند ہوئيں لوگ اتنا روئے كہ اس سے پہلے اتنا كبھى نہ روئے تھے_

جناب ابوبكر نے جناب عمر سے كہا تم نے فدك فاطمہ (ع) كو دے دينے سے مجھے كيوں روكا اور مجھے اس قسم كى مشكل ميں ڈال ديا؟ اب بھى اچھا ہے كہ ہم فدك كو واپس كرديں اور اپنے آپ كو پريشانى ميں نہ ڈاليں_

جناب عمر نے جواب ديا _ فدك كے واپس كردينے ميں مصلحت نہيں اور يہ تم جان لو كہ ميں تيرا خيرخواہ اور ہمدرد ہوں_ جناب ابوبكر نے كہا كہ لوگوں كے احساسات جو ابھرچكے ہيں ان سے كيسے نپٹا جائے انہوں نے جواب ديا كہ يہ احساسات وقتى اور عارضى ہيں اور يہ بادل كے ٹكڑے كے مانند ہيں_ تم نماز پڑھو، زكوة دو، امر بالمعروف اور نہى عن المنكر كرو، مسلمانوں كے بيت المال ميں اضافہ كرو اور صلہ رحمى بجالاؤ تا كہ خدا تيرے گناہوں كو معاف كردے، اس واسطے كہ خدا قرآن ميں فرماتا ہے، نيكياں برائيوں كو ختم كرديتى ہيں_ حضرت ابوبكر نے اپنا ہاتھ جناب عمر كے كندھے پر ركھا اور كہا شاباش تم نے كتنى مشكل كو حل كرديا ہے_

اس كے بعد انہوں نے لوگوں كو مسجد ميں بلايا اور ممبر پر جاكر اللہ تعالى كى حمد و ثنا كے بعد كہا، لوگو يہ آوازيں اور كام كيا ہيں ہر كہنے والا آرزو ركھتا ہے، يہ خواہشيں رسول(ص) كے زمانے ميں كب تھيں؟ جس نے سنا ہو كہے اس طرح نہيں ہے بلكہ يہ اس كا مطالبہ اس لومڑى جيسے ہے كہ جس كى گواہ اس كى دم تھي_

اگر ميں كہنا چاہوں تو كہہ سكتا ہوں اور اگر كہوں تو بہت اسرار واضح كردوں، ليكن جب تك انہيں مجھ سے كوئي كام نہيں ميں ساكت رہوں گا، اب لڑى سے مدد لے رہے ہيں اور عورتوں كو ابھار رہے ہيں_ اے رسول خدا(ص) كے اصحاب مجھے بعض نادانوں كى داستان پہنچى ہے حالانكہ تم اس كے سزاوار ہو كہ رسول خدا(ص) كے دستور كى پيروى كرو تم نے رسول(ص) كو جگہ دى تھى اور مدد كى تھى اسى لئے سزاوار ہے كہ تم رسول خدا(ص) كے دستور سے انحراف نہ كرو_ اس كے باوجود كل آنا اور اپنے وظائف اور حقوق لے جانا اور جان لو كہ ميں كسى كے راز كو فاش نہيں كروں گا اور ہاتھ اور زبان سے كسى كو اذيت نہيں دوں گا مگر اسے جو سزا كا مستحق ہوگا (4)_


جناب ام سلمہ(ع) كى حمايت

اس وقت جناب امّ سلمہ (ع) نے اپنا سر گھر سے باہر نكالا اور كہا اے ابوبكر، آيا يہ گفتگو اس عورت كے متعلق كر رہے ہو جسے فاطمہ (ع) كہتے ہيں اور جو انسانوں كى شكل ميں حور ہے، اس نے پيغمبر(ص) كے دامن ميں پرورش پائي اور فرشتوں سے مصافحہ كرتى تھي، اور پاكيزہ گود ميں پرورش پائي ہے اور بہترين ماحول ميں ہوش سنبھالا ہے_ آيا گمان كرتے ہو كہ رسول خدا(ص) نے جناب فاطمہ (ع) كو ارث سے محروم كيا ہے، ليكن خود اس كو نہيں بتلايا؟ حالانكہ خدا پيغمبر(ص) كو حكم ديتا ہے كہ اپنے رشتہ داروں كو انذاز كرو اور ڈراؤ يا تم احتمال ديتے ہو كہ پيغمبر(ص) نے تو اسے بتلايا ہو ليكن وہ اس كے باوجود وراثت كا مطالبہ كر رہى ہو، حالانكہ وہ عالم كى عورتوں سے بہترہے اور بہترين جوانوں كى ماں ہے اور جناب مريم كے ہم پايہ ہے اور اس كا باپ خاتم پيغمبران ہے، خدا كى قسم رسول خدا(ص) فاطمہ (ع) كى گرمى اور سردى سے حفاظت كيا كرتے تھے اور سوتے وقت اپنا داياں ہاتھ فاطمہ (ع) كے نيچے اور باياں ہاتھ اس كے جسم پر ركھتے كرتے تھے، ذرا نرم ہوجاؤ اور آہستہ رونيؤ، ابھى تو رسول خدا(ص) تمہارى آنكھوں كے سامنے ہيں اور جلد ہى تم خدا كے حضور وارد ہوگے اور اپنے كئے كا نتيجہ ديكھو گے_ جناب امّ سلمہ نے جناب فاطمہ (ع) كى حمايت كى ليكن انہيں ايك سال تك حقوق سے محروم كرديا گيا (5)_


قطع كلامي

جناب زہراء (ع) نے ارادہ كرليا كہ اس كے باوجود بھى اپنے مبارزے كو باقى ركھيں، اپنے اس پروگرام كے لئے انہوں نے قطع كلام كرنے كا فيصلہ كرليا اور رسمى طور پر جناب ابوبكر كے متعلق اعلان كر ديا كہ اگر تم ميرا فدك واپس نہيں كروگے تو ميں تم سے جب تك زندہ ہوں گفتگو اور كلام نہيں كروں گي_ آپ كا جہاں كہيں بھى جناب ابوبكر سے آمنا سامنا ہوجاتا تو اپنا منھ پھير ليتيں اور ان سے كلام نہ كرتى تھيں(6)_

مگر جناب فاطمہ (ع) ايك عام فرد نہ تھيں كہ اگر انہوں نے اپنے خليفہ سے قطع كلامى كى تو وہ چندان اہميت نہ ركھتى ہو؟ رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كى عزيز بيٹى رسول خدا(ص) كى حد سے زيادہ محبت كسى پر پوشيدہ نہ تھى _ آپ وہ ہے كہ جس كے متعلق پيغمبر صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا ہے كہ فاطمہ (ع) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے _ جو اسى اذيت دے اس نے مجھے اذيت دى ہے _(7)

اور آپ فرماتے ہيں كہ فاطمہ (ع) ان عورتوں ميں سے ہيں كہ جن كے ديدار كے لئے بہشت مشتاق ہے _(8)

اور آپ فرماتے تهے که اگر فاطمہ غضب کر هے تو خداوند عالم غضب کرتاهے (9)

جى ہاں پيغمبر (ص) اور خدا كى محبوب خاتون نے جناب ابو بكر سے قطع كلامى كا مبارزہ كررہا ہے آپ ان سے بات نہيں كرتيں آہستہ آہستہ لوگوں ميں شائع اور مشہور ہوگيا كہ پيغمبر(ص) كى دختر جناب ابوبكر سے رتھى ہوئي ہے اور ان پر خشمناك ہے _ مدينہ كے باہر بھى لوگ اس موضوع سے باخبر ہوچكے تھے تمام لوگ ايك دوسرے سے سؤال كرتے تھے كہ جنا ب فاطمہ (ع) كيوں خليفہ كے ساتھ بات نہيں كرتيں ؟ ضرور اس كى وجہ وہى فدك كا زبردستى لے لينا ہوگا _ فاطمہ (ع) جھوٹ نہيں بولتيں اور اللہ تعالى كى مرضى كے خلاف كسى پر غضبناك نہيں ہوتيں كيونكہ پيغمبر خدا (ص) نے ان كے بارے ميں فرمايا تھا كى اگر فاطمہ (ع) غضب كرے تو خدا غضب كرتا ہے _

اس طرح ملت اسلامى كے احساسات روزبروز وسيع سے وسيع تر ہو رہے تھے اور خلافت كے خلاف نفرت ميں اضافہ ہو رہا تھا_ خلافت كے كاركن يہ تو كرسكتے تھے كہ جناب فاطمہ (ع) كے قطع روابط سے چشم پوشى كرليتے جتنى انہوں نے كوشش كى كہ شايد وہ صلح كراديں ان كے لئے ممكن نہ ہوسكا_ فاطمہ (ع) اپنے ارادے پر ڈٹى ہوئي تھيں اور اپنے منفى مبارزے كو ترك كرنے پر راضى نہ ہوتى تھيں_

جب جناب فاطمہ (ع) بيمار ہوئيں تو جناب ابوبكر نے كئي دفعہ جناب فاطمہ (ع) سے ملاقات كى خواہش ظاہر كى ليكن اسے رد كرديا گيا، ايك دن جناب ابوبكر نے اس موضوع كو حضرت على (ع) كے سامنے پيش كيا اور آپ سے خواہش كى آپ جناب فاطمہ (ع) كى عيادت كا وسيلہ فراہم كريں اور آپ سے ملاقات كى اجازت حاصل كريں_ حضرت على عليہ السلام جناب فاطمہ (ع) كے پاس گئے اور فرمايا اے دختر رسول(ص) جناب عمر اور ابوبكر نے ملاقات كى اجازت چاہى ہے آپ اجازت ديتى ہيں كہ وہ آپ كى خدمت ميں حاضر ہوجائيں، جناب زہرا (ع) حضرت على (ع) كے مشكلات سے آگاہ تھيں آپ نے جواب ديا، گھر آپ كا ہے اور ميں آپ كے اختيار ميں ہوں جس طرح آپ مصلحت ديكھيں عمل كريں يہ فرمايا اور اپنے اوپر چادران لى اور اپنے منھ كو ديوار كى طرف كرديا_

جناب ابوبكر اور عمر گھر ميں داخل ہوئے اور سلام كيا اور عرض كى اے پيغمبر(ص) كى دختر ہم اپنى غلطى كا اعتراف كرتے ہيں آپ سے خواہش كرتے ہيں كہ آپ ہم سے راضى ہوجائيں آپ نے فرمايا كہ ميں ايك بات تم سے پوچھتى ہوں اس كا مجھے جواب دو، انہوں نے عرض كى فرمايئےآپ نے فرمايا تمہيں خدا كى قسم ديتى ہوں___ كہ آيا تم نے ميرے باپ سے يہ سنا تھا كہ آپ نے فرمايا كہ فاطمہ (ع) ميرے جسم كا ٹكڑا ہے جو اسے اذيت دے اس نے مجھے اذيت دى ہے انہوں نے عرض كيا ہاں ہم نے يہ بات آپ كے والدسے سنى ہے اس وقت آپ نے اپنے مبارك ہاتھوں كو آسمان كى طرف اٹھايا اور كہا اے ميرے خدا گواہ رہ كہ ان دو آدميوں نے مجھے اذيت دى ہے ان كى شكايت تيرى ذات اور تيرے پيغمبر(ص) سے كرتى ہوں ميں_ ہرگز راضى نہ ہوں گى يہاں تك كہ اپنے بابا سے جاملوں اور وہ اذيتيں جو انہوں نے مجھے دى ہيں ان سے بيان كروں تا كہ آپ ہمارے درميان فيصلہ كريں جناب ابوبكر جناب زہرا (ع) كى يہ بات سننے كے بعد بہت غمگين اور مضطرب ہوئے ليكن جناب عمر نے كہا اے رسول (ص) كے خليفہ، ايك عورت كى گفتگو سے ناراحت ہو رہے ہو (10)_

يہاں پڑھنے والوں كے دلوں ميں يہ بات آسكتى ہے كہ وہ كہيں كہ گرچہ جناب ابوبكر نے جناب فاطمہ (ع) سے فدك لے كر اچھا كام نہيں كيا تھا ليكن جب وہ پشيمانى اور ندامت كا اظہار كر رہے ہيں تو اب مناسب يہى تھا كہ ان كا عذر قبول كرليا جاتا ليكن اس نكتہ سے غافل نہيں رہتا چاہيئے كہ حضرت زہرا (ع) كے مبارزے كى اصلى علت اور وجہ خلافت تھى فدك كا زبردستى لے لينا اس كے ذيل ميں آتا تھا اور خلافت كا غصب كرنا ايسى چيز نہ تھى كہ جسے معاف كيا جاسكتا ہو اور اس سے چشم پوشى كى جاسكتى ہو اور پھر جناب زہراء (ع) جانتى تھيں كہ حضرت ابوبكر يہ سب كچھ اس لئے كہہ رہے ہيں تا كہ اس اقدام سے عوام كو دھوكہ ميں ركھا جاسكے اور وہ اپنے كردار پر نادم اور پشيمان نہ تھے كيونكہ ندامت كا طريقہ عقلا كے لحاظ سے يہ تھا كہ وہ حكم ديتے كہ فدك كو فوراً جناب فاطمہ (ع) كے حوالے

كردو اور اس كے بعد آپ آتے اور معاف كردينے كى خواہش كرتے اور كہتے كہ ہم اپنے اس اقدام پر پشيمان اور نادم ہوچكے ہيں تو اس بات كو صداقت پر محمول كيا جاسكتا تھا_

1) سورہ مريم آيت6_
2) سورہ نمل آيت 16_
3) احتجاج طبرسي، ج 1 ص 141_
4) دلائل الامامہ، ص 38_
5) دلائل الامامہ، ص 39_
6) كشف الغمہ، ج 2 ص 103_ شرح ابن ابى الحديد، ج 6 ص 46_
7_ صحيح مسلم ، ج 3 ص 03ا_
8_ كشف الغمہ ، ج 2 ص 92_
9_ كشف الغمہ ، ج 2 ص 84_
10) بحار الانوار، ج 43 ص 198_