تعجب اور تبسم

تعجب اور تبسم

پيغمبر صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كى حالت سخت ہوگئي آپ نے  اپنا سر مبارك حضرت على (ع) كے زانو پر ركھا اور بے ہوش ہوگئے، حضرت زہراء (ع) اپنے باپ كے نازنين چہرے كو ديكھتيں اور رونے لگتيں اور فرماتيں_ آہ، ميرے باپ كى بركت سے رحمت كى بارش ہوا كرتى تھى آپ يتيموں كى خبر لينے والے اور بيواؤں كے لئے پناہ گاہ تھے_ آپ كے رونے كى آواز پيغمبر(ص) كے كانوں تك پہنچى آپ نے آنكھيں كھوليں اور نحيف آواز ميں فرمايا بيٹى يہ آيت پڑھو_

''و ما محمد الّا رسول قد خلت من قبلہ الرسل افائن مات اور قتل انقلبتم على اعقابكم'' (1)

موت سے گريز نہيں جيسے سابقہ پيغمبر(ص) مرگئے ہيں ميں بھى مروں گا كيوں ملت اسلامى ميرے ہدف كا پيچھا نہيں كرتى اور اس كے ختم كرنے اور لوٹ جانے كا قصد ركھتى ہے_

اس گفتگو كے سننے سے حضرت زہراء (ع) كے رونے ميں شدت پيدا ہوگئي رسول خدا كى حالت اپنى بيٹى كو روتے اور پريشان ديكھ دگرگوں ہوگئي_ آپ نے انہيں تسلى دينا چاہى مگر كيا آپ كو آسانى سے آرام ميں لايا جاسكتا تھا؟ اچانك آپ كى فكر ميں ايك چيز آئي، جناب فاطمہ (ع) سے فرمايا ميرے پاس آؤ جب جناب فاطمہ (ع) اپنا چہرہ اپنے باپ كے نزديك لے گئيں تو آپ نے جناب فاطمہ (ع) كے كان ميں كچھ كہا_ حاضرين نے ديكھا كہ جناب فاطمہ (ع) كا چہرہ روشن ہوگيا اور آپ مسكرانے لگيں، اس بے جا ہنسى اور تبسم پر حاضرين نے تعجب كيا تبسم كى علت آپ سے دريافت كى تو آپ نے فرمايا كہ جب تك ميرے باپ زندہ ہيں ميں يہ راز فاش نہيں كروں گى آپ نے آن جناب كے فوت ہونے كے بعد اس راز سے پردہ اٹھايا اور فرمايا كہ ميرے باپ نے ميرے كان ميں يہ فرمايا تھا كہ فاطمہ (ع) تمہارى موت نزديك ہے تو پہلى فرد ہوگى جو مجھ سے ملحق ہوگى (2)_

انس نے كہا ہے كہ اس زمانے ميں جب پيغمبر(ص) بيمار تھے جناب فاطمہ (ع) نے امام حسن (ع) اور امام حسين (ع) كا ہاتھ پكڑا اور باپ كے گھر آئيں اپنے آپ كو پيغمبر(ص) كے جسم مبارك پر گراديا اور پيغمبر(ص) كے سينے سے لگ كر رونے لگيں_ پيغمبر(ص) نے فرمايا، فاطمہ (ع) روو مت، ميرى موت پر منھ پر طمانچے نہ مارتا، بالوں كو پريشان نہ كرنا، ميرے لئے رونے اور نوحہ سرائي كى مجلس منعقد كرنا اس كے بعد پيغمبر خدا(ص) كے آنسو جارى ہوگئے اور فرمايا اے ميرے خدا ميں اپنے اہلبيت كو تيرے اور مومنين كے سپرد كرتا ہوں (3)_

1) سورہ آل عمران، آيت ص 144_
2) الكامل فى التاريخ، ج 2 ص 219 و بحار الانوار، ج 22 ص 470_ ارشاد مفيد، ص 88 طبقات ابن سعد، ج 2 قسمت دوم ص 39، 40_ صحيح مسلم، ج 4 ص 1095_
3) بحار الانوار، ص 22 ص 460_