فدك لينے كے اسباب

فدك لينے كے اسباب

فدك لينے كے لئے دو اصلى عوامل قرار ديئے جاسكتے ہيں كہ جن كے بعد جناب ابوبكر نے مصمم ارادہ كرليا تھا كہ فدك جناب فاطمہ (ع) سے واپس لے ليا جائے_

پہلا عامل: تاريخ كے مطالعے سے يہ مطلب روز روشن كى طرح واضح ہے كہ جناب عائشےہ دو چيزوں سے ہميشہ رنجيدہ خاطر رہتى تھي_ پہلي: چونكہ پيغمبر اسلام(ص) جناب خديجہ سے بہت زيادہ محبت ركھتے تھے اور ان كا كبھى كبھار نيكى سے ذكر كيا كرتے تھے، اس وجہ سے جناب عائشےہ كے دل ميں ايك خاص كيفيت پيدا ہوجاتى تھى اور بسا اوقات اعتراض بھى كرديتى تھيں اور كہتى تھيں خديجہ ايك بوڑھى عورت سے زيادہ كچھ نہ تھيں آپ ان كى اتنى تعريف كيوں كرتے ہيں_ پيغمبر(ص) جواب ديا كرتے تھے، خديجہ جيسا كون ہوسكتا ہے؟ پہلى عورت تھيں جو مجھ پر ايمان لائيں اور اپنا تمام مال ميرے اختيار ميں دے ديا، ميرے تمام كاموں ميں ميرى يار و مددگار تھيں خداوند عالم نے ميرى نسل كو اس كى اولاد سے قرار ديا ہے(1)_

جناب عائشےہ فرماتى ہيں كہ ميں نے خديجہ جتنا كسى عورت سے بھى رشك نہيں كيا حالانكہ آپ ميرى شادى سے تين سال پہلے فوت ہوچكى تھيں كيونكہ رسول خدا(ص) ان كى بہت زيادہ تعريف كرتے تھے، خداوند عالم نے رسول خدا(ص) كو حكم دے ركھا تھا كہ خديجہ كو بشارت دے ديں كہ بہشت ميں ان كے لئے ايك قصر تيار كيا جاچكا ہے، بسا اوقات رسول خدا(ص) كوئي گوسفند ذبح كرتے تو اس كا گوشت جناب خديجہ كے سہيليوں كے گھر بھى بھيج ديتے تھے (2)_
 

جناب امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہيں كہ ايك دن جناب رسول خدا(ص) گھر ميں آئے تو ديكھا كہ جناب عائشےہ حضرت زہراء كے سامنے كھڑى قيل و قال كر رہى ہيں اور كہہ رہى ہيں اے خديجہ كى بيٹى تو گمان كرتى ہے كہ تيرى ماں مجھ سے افضل تھي، اسے مجھ پر كيا فضيلت تھي؟ وہ بھى ميرى طرح كى ايك عورت تھى جناب رسول خدا(ص) نے جناب عائشےہ كى گفتگو سن لى اور جب جناب فاطمہ (ع) كى نگاہ باپ پر پڑى تو آپ نے رونا شروع كرديا_ پيغمبر نے فرمايا فاطمہ (ع) كيوں روتى ہو؟ عرض كيا كہ جناب عائشےہ نے ميرى ماں كى توہين كى ہے رسول خد ا(ص) خشمناك ہوئے اور فرمايا: عائشےہ ساكت ہوجاؤ، خداوند عالم نے محبت كرنے والى بچہ دار عورتوں كو مبارك قرار ديا ہے_ جناب خديجہ سے ميرى نسل چلي، ليكن خداوند عالم نے تمہيں بانجھ قرار ديا (3)_

دوسرا عامل: پيغمبر اكرم(ص) حد سے زيادہ جناب فاطمہ (ع) سے محبت كا اظہار فرمايا كرتے تھے آپ كے اس اظہار محبت نے جناب عائشےہ كے دل ميں ايك خاص كيفيت پيدا كر ركھى تھى كہ جس كى وجہ سے وہ عذاب ميں مبتلا رہتى تھيں كيونكہ عورت كى فطرت ميں ہے كہ اسے اپنى سوكن كى اولاد پسند نہيں آتى اور عائشےہ كبھى اتنى سخت ناراحت ہوتيں كہ پيغمبر(ص) پر بھى اعتراض فرما ديتيں اور كہتيں كہ اب جب كہ فاطمہ (ع) كى شادى ہوچكى ہے آپ پھر بھى اس كا بوسہ ليتے ہيں_ پيغمبر(ص) اس كے جواب ميں فرماتے ہيں تم فاطمہ (ع) كے مقام اور مرتبے سے بے خبر ہو ورنہ ايسى بات نہ كرتيں (4)_

 

آپ جناب فاطمہ (ع) كى جتنى زيادہ تعرى كرتے اتناہى جناب عائشےہ كى اندرونى كيفيت دگرگوں ہوتى اور اعتراض كرنا شروع كرديتيں_

ايك دن جناب ابوبكر پيغمبر(ص) كى خدمت ميں حاضر ہونا چاہتے تھے كہ آپ نے جناب عائشےہ كى آواز اور چيخنے كو سنا كہ رسول خدا(ص) سے كہہ رہى ہيں كہ خدا كى قسم مجھے علم ہے كہ آپ على (ع) اور فاطمہ (ع) كو ميرے اور ميرے باپ سے زيادہ دوست ركھتے ہيں، جناب ابوبكر اندر آئے اور جناب عائشےہ سے كہا كيوں پيغمبر(ص) سے بلند آواز سے بات كر رہى ہو (5)_

ان دو باتوں كے علاوہ اتفاق سے جناب عائشےہ بے اولاد اور بانجھ بھى تھيں اور پيغمبر(ص) كى نسل جناب فاطمہ (ع) سے وجود ميں آئي يہ مطلب بھى جناب عائشےہ كو رنج پہنچاتا تھا، بنابرايں جناب عائشےہ كے دل ميں كدورت اور خاص زنانہ كيفيت كا موجود ہوجانا فطرى تھا اور آپ كبھى اپنے والد جناب ابوبكر كے پاس جاتيں اور جناب عائشےہ كے دل ميں كدورت اور خاص زنانہ كيفيت كا موجود ہوجانا فطرى تھا اور آپ كبھى اپنے والد جناب ابوبكر كے پاس جاتيں اور جناب فاطمہ (ع) كى شكايت كرتيں ہوسكتا ہے كہ جناب ابوبكر بھى دل سے جناب فاطمہ (ع) كے حق ميں بہت زيادہ خوش نہ رہتے ہوں اور منتظر ہوں كہ كبھى اپنى اس كيفيت كو بجھانے كے لئے جناب فاطمہ (ع) سے انتقام ليں_

جب پيغمبر صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم وفات پاچكے تو جناب فاطمہ (ع) رويا كرتيں اور فرماتيں كتنے برے دن آگئے ہيں جناب ابوبكر فرماتے كہ ابھى برے دن اور آگے ہيں (6)_

 

دوسرا مطلب: جناب عمر اور ابوبكر سوچتے تھے كہ حضرت على (ع) كے ذاتى كمالات اور فضائل اور علم و دانش كا مقام قابل انكار نہيں اور پھر پيغمبر(ص) كى سفارشات بھى ان كى نسبت بہت معروف اور مشہور ہيں پيغمبر (ص) كے داماد اور چچازاد بھائي ہيں اگر ان كى مالى اور اقتصادى حالت اچھى ہوئي اور ان كے ہاتھوں ميں دوپيہ بھى ہوا تو ممكن ہے كہ ايك گروہ ان كا مددگار ہو جائے اور پھر وہ خلافت كے لئے خطرے كا موجب بن جائے يہ ايك نكتہ تھا كہ جس كا ذكر جناب عمر نے جناب ابوبكر سے كيا اور جناب ابوبكر سے كہا كہ لوگ دنيا كے بندے ہوا كرتے ہيں اور دنيا كے سوا ان كا كوئي ہدف نہيں ہوتا تم خمس اور غنائم كو على (ع) سے لے لو اور فدك بھى ان كے ہاتھ سے نكال لو جب ان كے چاہنے والے انہيں خالى ہاتھ ديكھيں گے تو انہيں چھوڑ ديں گے اور تيرى طرف مائل ہوجائيں گے (7)_

جى ہاں يہ دو مطلب مہم عامل اور سبب تھے كہ جناب ابوبكر نے مصمم ارادہ كرليا كہ فدك كو مصادرہ كر كے واپس لے ليں اور حكم ديا كہ فاطمہ (ع) كے عمال اور كاركنوں كا باہر كيا جائے اور اسے اپنے عمال كے تصرف ميں دے ديا_

1) تذكرة الخواص، ص 303 و مجمع الزوائد، ج 9 ص 224_
2) صحيح مسلم ج 2 ص 1888_
3) بحار الانوار، ج 16 ص 3_
4) كشف الغمہ، ج 2 ص 85_
5) مجمع الزوايد، ج 9 ص 201_
6) ارشاد شيخ مفيد، ص 90_
7) ناسخ التواريخ جلد زہرائ، ص 123_