فاطمہ (ع) باپ كے بعد

فاطمہ (ع) باپ كے بعد

اس حالت ميں كہ پيغمبر(ص) كا سر مبارك حضرت على (ع) كے زانو پر تھا اور جناب فاطمہ (ع) اور حسن (ع) اور حسين (ع) ، پيغمبر(ص) كے نازنين چہرے كو ديكھ رہے تھے اور رو رہے تھے كہ آپ كى حق بين آنكھ بند ہوگئي اور حق گو زبان خاموش ہوگئي اور آپ كى روح عالم ابدى كى طرف پرواز كرگئي، پيغمبر(ص) كى اچانك اور غيرمنتظرہ موت سے جہان كا غم اور اندوہ حضرت فاطمہ (ع) پر آپڑا وہ فاطمہ (ع) كہ جس نے اپنى عمر غم اور غصّہ اور گرفتارى ميں كاٹى تھى صرف ايك چيز سے دل خوش تھيں اور وہ تھا ان كے والد كا وجود مبارك_ اس جانگداز حادثہ كے پيش آنے سے آپ كى اميدوں اور آرزؤں كا محل يكدم زميں پر آگرا_ اسى حالت ميں آپ باپ كى كمرشكن موت ميں گريہ و زارى اور نوحہ سرائي كر رہى تھيں، اور حضرت على (ع) آپ كے دفن كے مقدمات كفن اور دفن ميں مشغول تھے اچانك يہ خبر ملى كہ مسلمانوں كے ايك گروہ نے سقيفہ بنى ساعدہ ميں اجتماع كيا ہے تا كہ پيغمبر(ص) كے جانشين كو مقرر كريں زيادہ وقت نہيں گزرا تھا كہ دوسرى خبر آملى كہ انہوں نے جناب ابوبكر كو پيغمبر صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كا جانشين اور خليفہ منتخب كرليا ہے_

گريہ و بكا اور غم و غصہ كے اس بحرانى وقت ميں اتنى بڑى خبر نے حضرت فاطمہ (ع)  اور حضرت على (ع) كے مغز كو تكان دى اور ان كے تھكے ماندے اعصاب كو دوبارہ كوٹ كر ركھ ديا_ سبحان اللہ _ كيا ميرے باپ نے حضرت على (ع) كو اپنا جانشين اور خليفہ مقرر نہيں كيا؟ كيا دعوت ذوالعشيرہ سے لے كر زندگى كے آخرى لمحات تك كئي مرتبہ حضرت على (ع) كى خدمت كى سفارش نہيں كرتے رہے؟ كيا چند مہينہ پہلے ايك بہت بڑے اجتماع ميں غدير خم كے مقام پر انہيں خليفہ معين نہيں فرمايا تھا؟ كيا ميرے شوہر على (ع) كے جہاد اور فداكارى كا انكار كيا جاسكتا ہے؟ كيا على (ع) كى علمى منزلت كا كوئي شخص انكار كرسكتا ہے؟ مگر ميرے باپ نے على (ع) كو بچپن سے اپنى تربيت اور تعليم ميں نہيں ركھا تھا؟ خدايا اسلام كا انجام كيا ہوگا؟ اسلام كو ايسے رہبر كى ضرورت ہے جو مقام عصمت پر فائز ہو اور لغزش اور انحراف سے دوچار نہ ہو_ آہ_ مسلمان كس خطرناك راستے پر چل پڑے ہيں؟

اے ميرے خدا ميرے باپ نے اسلام كے لئے كتنى زحمت برداشت كى ہے، ميرے شوہر نے كتنى فداكارى اور قربانى دى ہے؟ ميدان جنگ ميں سخت ترين اور خطرناك ترين حالت ميں اپنى جان كو خطرے ميں نہيں ڈالا؟ ميں ان كى زخمى بدن اور خون آلودہ لباس سے باخبر ہوں_ خدايا ہم نے كتنى مصيبتيں اور زحمات ديكھى ہيں_ فاقہ كاٹے ہيں وطن سے بے وطن ہوئے_ يہ سب كچھ توحيد اور خداپرستى كے لئے تھا، مظلوموں كے دفاع كے لئے تھا اور ظالموں كے ظلم كا مبارزہ اور مقابلہ تھا_ مگر ان مسلمانوں كو علم نہيں كہ اگر على (ع) مسلمانوں كا خليفہ ہو تو وہ اپنى عصمت اور علوم كے مقام سے جو انہيں ميرے باپ كے ورثہ ميں ملے ہيں مسلمانوں كے اجتماع اور معاشرے كى بہترين طريقے سے رہبرى كرے گا اور ميرے باپ كے مقدس ہدف اور غرض كو آگے بڑھائے گا اور جو اسلام كو سعادت اور كمال كي  طرف لے جائے گا_

جى ہاں يہ اور اس قسم كے دوسرے افكار جناب زہراء (ع) كے ذہن اور اعصاب پر فشار وارد كرتے تھے اور اس بہادر اور شجاع بى بى كے صبر اور تحمل كى طاقت كو ختم كرديا تھا_