حضرت زہراء (ع) كے تين مبارزے

حضرت زہراء (ع) كے تين مبارزے

اگر ہم سقيفہ كى طولانى اور وسيع كہانى اور جناب ابوبكر كے انتخاب كے بارے ميں بحث شروع كرديں تو ہم اصل مطلب سے ہٹ جائيں گے اور بات بہت طويل ہوجائے گي، ليكن مختصر روداديوں ہے كہ جب حضرت على (ع) اور فاطمہ (ع) جناب رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كے دفن اور كفن سے فارغ ہوگئے تو وہ ايك تمام شدہ كام كے روبرو ہوئے انہوں نے ديكھا كہ جناب ابوبكر خلافت كے لئے منصوب كئے جاچكے ہيں اور مسلمانوں كے ايك گروہ نے ان كى بيعت بھى كرلى ہے_

اس حالت ميں حضرت على عليہ السلام كے لئے ان طريقوں ميں سے كوئي ايك طريقہ اختيار كرنا چاہيئے تھا_

پہلا: يہ كہ حضرت على (ع) ايك سخت قدم اٹھائيں اور رسماً جناب ابوبكر كى حكومت كے خلاف اقدام كريں اور لوگوں كو ان كے خلاف بھڑ كائيں اور برانگيختہ كريں_

دوسرا: جب وہ ديكھ چكے كہ كام ختم ہوچكا ہے تو اپنے شخصى مفاد اور مستقبل كى زندگى كے لئے جناب ابوبكر كى بيعت كرليں اس صورت ميں آپ كے شخصى منافع بھى محفوظ ہوجائيں گے اور حكومت كے نزديك قابل احترام ميں قرار پائيں گے، ليكن دونوں طريقوں ميں سے كوئي بھى طريقہ حضرت على كے لئے ممكن نہ تھا كيونكہ اگر چاہتے كہ كھلم كھلا حكومت سے ٹكر ليں اور ميدان مبارزہ ميں وارد ہوجائيں تو ان كا يہ اقدام اسلام كے لئے ضرر رسائل ہوتا اور اسلام كے وہ دشمن جو كمين گاہ ميں بيٹھے ہوئے تھے موقع سے فائدہ اٹھاتے اور ممكن تھا كہ ''اسلام جو ابھى جوان ہوا ہے'' كلى طور پر ختم كرديا جاتا اسى لئے حضرت على (ع) نے اسلام كے اعلى اور ارفع منافع كو ترجيح دى اور سخت كاروائي كرنے سے گريز گيا_

آپ كے دوسرے طريقے پر عمل كرنے ميں بھى مصلحت نہ تھى كيونكہ جانتے تھے كہ اگر ابتداء ہى سے جناب ابوبكر كى بيعت كرليں تو اس كى وجہ سے لوگوں اور جناب ابوبكر كى كاروائي جو انجام پاچكى تھى اس كا تائيد ہوجائے گى اور پيغمبر(ص) كى خلافت اور امامت كا مسئلہ اپنے حقيقى محور سے منحرف ہو جائے اور پيغمبر(ص) اور ان كى اپنى تمام تر زحمات اور فداكارياں بالكل ختم ہوكر رہ جائيں گي_ اس كے علاوہ جو كام بھى جناب ابوبكر اور عمر اپنے دور خلافت ميں انجام ديں گے وہ پيغمبر(ص) اور دين كے حساب ميں شمار كئے جائيں گے حالانكہ وہ دونوں معصوم نہيں ہيں اور ان سے خلاف شرع اعمال كا صادر ہونا بعيد نہيں_

تيسرا: جب آپ نے پہلے اور دوسرے طريقے ميں مصلحت نہ ديكھى تو سوائے ايك معتدل روش كے انتخاب كے اور كوئي چارہ كار نہ تھا_ حضرت على (ع) اور فاطمہ (ع) نے ارادہ كيا كہ ايك وسيع اور عاقلانہ مبارزہ اور اقدام كيا جائے تا كہ اسلام كو ختم ہونے اور متغير ہونے سے نجات دلاسكيں گرچہ اس عاقلانہ اقدام كا نتيجہ مستقبل بعيد ميں ہى ظاہر ہوگا آپ كے اس اقدام اور مبارزے كو تين مرحلوں ميں تقسيم كيا جاسكتا ہے_

 

پہلا مرحلہ:

حضرت على (ع) اور جناب فاطمہ (ع) امام حسن (ع) اور امام حسين (ع) كا ہاتھ پكڑتے اور رات كے وقت مدينہ كے بڑے لوگوں كے گھر جاتے اور انہيں اپنى مدد كے لئے دعوت ديتے_ پيغمبر اكرم(ص) كے وصايا اور سفارشات كا تذكرہ كرتے (1)_

جناب فاطمہ (ع) فرماتيں، لوگو كيا ميرے باپ نے حضرت على (ع) كو خلافت كے لئے معين نہيں فرمايا؟ كيا ان كى فداكاريوں كو فراموش كرگئے ہو؟ اگر ميرے والد كے دستورات پر عمل كرو اور على (ع) كو رہبرى كے لئے معين كردو تو تم ميرے والد كے ہدف پر عمل كروگے اور وہ تمہيں اچھى طرح ہدايت كريں گے_ لوگو مگر ميرے باپ نے نہيں فرمايا تھا كہ ميں تم سے رخصت ہو رہا ہوں ليكن دو چيزيں تمہارے درميان چھوڑے جارہا ہوں اگر ان سے تمسك ركھوگے تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے، ايك اللہ كى كتاب دوسرے ميرے اہلبيت (ع) _ لوگو كيا يہ مناسب ہے كہ ہميں تنہا چھوڑ دو اور ہمارى مدد سے ہاتھ كھينچ لو حضرت على (ع) اور فاطمہ (ع) مختلف طريقوں سے مسلمانوں كو اپنى مدد كے لئے دعوت ديتے تھے كہ شايد وہ اپنے كرتوت پر پشيمان ہوجائيں اور خلافت كو اس كے اصلى مركز طرف لوٹا ديں_

اس رويے سے بہت تھوڑا گروہ اس تبليغ سے متاثر ہوا اور مدد كرنے كا وعدہ كيا، ليكن ان تھوڑے سے آدميوں نے بھى اپنے وعدہ پر عمل نہيں كيا اور انہوں نے حكومت كى مخالفت كى جرات نہيں كي_

حضرت على (ع) اور فاطمہ (ع) بغير شور و غل اور تظاہر كے جناب ابوبكر_ سے اپنى مخالفت ظاہر كرتے تھے اور انہوں نے ملّت اسلامى كو ايك حد تك بيدار بھى كيا اور اسى رويے سے مسلمانوں كا ايك گروہ باطنى طور سے ان كا ہم عقيدہ ہوگيا_ ليكن صرف يہى نتيجہ معتدل اقدام سے برآمد ہوا اور اس سے زيادہ كوئي اور نتيجہ نہ نكل سكا_


دوسرا مرحلہ:

حضرت على (ع) نے مصمم ارادہ كرليا كہ وہ جناب ابوبكر كى بيعت نہيں كريں گے تا كہ اس رويہ سے جناب ابوبكر كى انتخابى حكومت سے اپنى مخالفت ظاہر كرسكيں اور عملى طور سے تمام جہاں كو سمجھا ديں كہ على (ع) ابن ابيطالب اور ان كا خاندان جو پيغمبر اسلام كے نزديكى ہيں جناب ابوبكر كى خلافت سے ناراض ہيں تو معلوم ہوجائے گا كہ اس خلافت كى بنياد اسلام كے مذاق كے خلاف ہے، حضرت زہراء (ع) نے بھى حضرت على كے اس نظريئےى تائيد كى اور ارادہ كرليا كہ احتمالى خطرات اور حوادث كے ظاہر ہونے ميں اپنے شوہر كى حتمى مدد كريں گى اور عملى لحاظ سے جہان كو سمجھائيں گى كہ ميں پيغمبر اسلام(ص) كى دختر جناب ابوبكر كى خلافت كے موافق نہيں ہوں، لہذا حضرت على (ع) اس غرض كى تكميل كے لئے گھر ميں گوشہ نشين ہوگئے اور قرآن مجيد كے جمع كرنے ميں مشغول ہوگئے اور يہ ايك قسم كا منفى مبارزہ تھا جو آپ نے شروع كيا تھا_

چند دن اسى حالت ميں گزر گئے، ايك دن جناب عمر نے جناب ابوبكر سے اظہار كيا كہ تم لوگوں نے سوائے على (ع) اور ان كے رشتہ داروں كے تمہاري بيعت كرلى ہے، ليكن تمہارى حكومت كا استحكام بغير على (ع) كى بيعت كے ممكن نہيں ہے، على (ع) كو حاضر كيا جائے اور انہيں بيعت پر مجبور كيا جائے، حضرات ابوبكر نے جناب عمر كى اس رائے كو پسند كيا اور قنفذ سے كہا كہ على (ع) كے پاس جاؤ اور ان سے كہو كہ رسول (ص) كے خليفہ چاہتے ہيں كہ تم بيعت كے لئے مسجد ميں حاضر ہوجاؤ_

قنفذ كئي بار حضرت على (ع) كے پاس آئے اور گئے ليكن حضرت على (ع) نے جناب ابوبكر كے پاس آنے سے انكار كرديا_ جناب عمر خشمناك ہوئے اور خالد بن وليد اور قنفذ اور ايك گروہ كے ساتھ حضرت زہراء (ع) كے گھر كى طرف روانہ ہوئے دروازہ كھٹكھٹايا اور كہا يا على (ع) دروازہ كھولو_ فاطمہ (ع) سر پر پٹى باندھے اور بيمارى كى حالت ميں دروازے كے پيچھے آئيں اور فرمايا_ اے عمر ہم سے تمہيں كيا كام ہے؟ تم ہميں اپنى حالت پر كيوں نہيں رہنے ديتے؟ جناب عمر نے زور سے آواز دى كہ دروازہ كھولو ورنہ گھر ميں آگ لگا دوں گا (2)_

جناب فاطمہ (ع) نے فرمايا اے عمر خدا سے نہيں ڈرتے، ميرے گھر ميں داخل ہونا چاہتے ہو؟ آپ كى گفتگو سے عمر اپنے ارادے سے منحرف نہ ہوئے، جب جناب عمر نے ديكھا كہ دروازہ نہيں كھولتے تو حكم ديا كہ لكڑياں لے آؤتا كہ ميں گھر كو آگ لگادوں (3)_

دروازہ كھل گيا جناب عمر نے گھر كے اندر داخل ہونا چاہا، حضرت زہراء (ع) نے جب دروازہ كھلا ديكھا اور خطرے كو نزديك پايا تو مردانہ وار جناب عمر كے سامنے آكر مانع ہوئيں (4)_

 

اور يہ آواز بلند گريہ و بكا اور شيون كرنا شروع كرديا تا كہ لوگ خواب غفلت سے بيدار ہوجائيں اور حضرت على (ع) كا دفاع كريں_ زہراء (ع) كے استغاثے اور گريہ و بكا نے صرف ان لوگوں پر اثر نہيں كيا بلكہ انہوں نے تلوار كا دستہ _ آپ كے پہلو پر مارا اور تازيانے سے آپ كے بازو كو بھى سياہ كرديا تا كہ آپ اپنا ہاتھ على (ع) كے ہاتھ سے م ہٹاليں (5)_

آخر الامر حضرت على (ع) كو گرفتار كرليا گيا اور آپ كو مسجد كى طرف لے گئے جناب زہراء (ع) على (ع) كى جان كو خطرے ميںديكھ رہى تھيں، مردانہ اور اٹھيں اور حضرت على (ع) كے دامن كو مضبوطى سے پكڑليا اور كہا كہ ميں اپنے شوہر كو نہ جانے دوں گى _ قنفذ نے ديكھا كہ زہرا (ع) اپنے ہاتھ سے على (ع) كو نہيں چھوڑتيں تو اس نے اتنے تازيانے آپ كے ہاتھ پر مارے كہ آپ كا بازو ورم كرگيا (6)_

حضرت زہرا (ع) سلام اللہ عليہا اس جميعت ميں ديوار اور دروازے كے درميان ہوگئيں اور آپ پر دروازے كے ذريعہ اتنا زور پڑا كہ آپ كے پہلو كى ہڈى ٹوٹ گئي اور وہ بچہ جو آپ كے شكم مبارك  ميں تھا ساقط ہوگيا (7)_

حضرت على (ع) كو پكڑا اور مسجد كى طرف لے گئے_ جب جناب فاطمہ (ع) سنبھليں تو ديكھا كہ على (ع) كو مسجد لے گئے ہيں فوراً اپنى جگہ سے ا ٹھيں چونكہ حضرت على (ع) كى جان كو خطرے ميں ديكھ رہى تھيں اور ان كا دفاع كرنا چاہتى تھيں لہذا نحيف جسم پہلو شكستہ كے باوجود گھر سے باہر نكليں اور بنى ہاشم كى مستورات كے ساتھ مسجد كى طرف روانہ ہوگئيں ديكھا كہ على (ع) كو پكڑے ہوئے ہيں آپ لوگوں كى طرف متوجہ ہوئيں اور فرمايا ميرے چچازاد سے ہاتھ اٹھالو ور خدا كى قسم اپنے سر كے بال پريشان كردوں گى اور پيغمبر اسلام(ص) كا پيراہن سر پر ركھ كر اللہ تعالى كى درگاہ ميں نالہ كروں گى اور تم پر نفرين اور بدعا كروں گي_ اس كے بعد جناب ابوبكر كى طرف متوجہ ہوئيں اور فرمايا كيا تم نے ميرے شوہر كو قتل كرنے كا ارادہ كرليا ہے اور ميرے بچوں كو يتيم كرنا چاہتے ہو اگر تم نے انہيں نہ چھوڑا تو اپنے بال پريشان كردوں گى اور پيغمبر(ص) كى قبر پر اللہ كى درگاہ ميں استغاثہ كروں گى يہ كہا اور جناب حسن (ع) اور جناب حسين (ع) كا ہاتھ پكڑا اور رسول خدا(ص) كى قبر كى طرف روانہ ہوگئيں آپ نے ارادہ كرليا تھا كہ اس جمعيت پر نفرين كريں اور اپنے دل ہلادينے والے گريہ سے حكومت كو الٹ كر ركھ ديں_

حضرت على (ع) نے ديكھا كہ وضع بہت خطرناك ہے اور كسى صورت ميں ممكن نہيں كہ حضرت زہرا (ع) كو اپنے ارادے سے روكا جائے تو آپ نے سلمان فارسى سے فرمايا كہ پيغمبر(ص) كى دختر كے پاس جاؤ اور انہيں بددعا كرنے سے منع كردو_

جناب سلمان جناب زہرا (ع) كى خدمت ميں حاضر ہوئے اور عرض كى اے پيغمبر(ص) كى دختر آپ كے والد دنيا كے لئے رحمت تھے آپ ان پر نفرين نہ كيجئے_

جناب زہرا (ع) نے فرمايا، اے سلمان مجھے چھوڑ دو ميں ان متجاوزين سے دادخواہى كروں_ سلمان نے عرض كيا كہ مجھے حضرت على (ع) نے آپ كى خدمت ميں بھيجا ہے اور حكم ديا ہے كہ آپ اپنے گھر لوٹ جائيں، جب حضرت زہرا (ع) نے حضرت على (ع) كا حكم دريافت كيا تو آپ نے كہا جب انہوں نے حكم ديا ہے تو ميں اپنے گھر لوٹ جاتى ہوں اور صبر كا آغاز كروں گي_ ايك اور روايت ميں آيا ہے كہ آپ نے حضرت على (ع) كا ہاتھ پكڑ اور گھر لوٹ آئيں (8)_


مختصر مبارزہ

حضرت زہرا (ع) كے زمانہ جہاد اور مبارزہ كى مدت گرچہ تھوڑى اور آپ كى حيات كا زمانہ بہت ہى مختصر تھا، ليكن آپ كى حيات بعض جہات سے بہت اہم اور قابل توجہ تھي_

پہلے: جب حضرت زہرا (ع) نے ديكھا كہ حكومت كے حاميوں نے حضرت على (ع) كو گرفتار كرنے كے لئے ان كے گھر كا محاصرہ كرليا ہے تو آپ عام عورتوں كى روش سے ہٹ كر جو معمولاً ايسے مواقع ميں كنارہ گيرى كرليتى ہيں گھر كے دروازے كے پيچھے آگئيں اور استقامت كا مظاہرہ كيا_

دوسرے: جب دروازہ كھول ليا گيا تب بھى جناب فاطمہ (ع) وہاں سے نہ ہٹيں

بلكہ اپنے آپ كو ميدان كارزار ميں بر قرار ركھا اور دشمن كے مقابلے ميں ڈٹ گئيں اتنى مضبوطى سے كھڑى رہيں كہ تلوار كے نيام سے آپ كے پہلو كو مارا گيا اور تازيانے سے آپ كے بازو سياہ كرديئےئے_

تيسرے: جب على (ع) گرفتار كرلئے گئے اور چاہتے تھے كہ آپ كو وہاں سے لے جائيں تب بھى آپ ميدان ميں آگئيں اور على (ع) كے دامن كو پكڑليا اور وہاں سے لے جانے ميں مانع ہوئيں اور جب تك آپ كا بازو تازيانے سے سياہ نہ كرديا گيا آپ نے اپنے ہاتھ سے دامن نہ چھوڑا_

چوتھے: جناب فاطمہ (ع) نے اپنا آخرى مورچہ گھر كو بنايا اور گھر ميں آكر على (ع) كو باہر لے جانے سے ممانعت كي، اس مورچہ ميں اتنى پائيدارى سے كام ليا كہ دروازے اور ديوار كے درميان آپ كا پہلو ٹوٹ گيا اور بچہ ساقط ہوگيا_

اس مرحلہ كے بعد آپ نے سوچا كہ چونكہ ميرا يہ مبارزہ گھر كے اندر واقع ہوا ہے شايد اس كى خبر باہر نہ ہوئي ہو لہذا ضرورى ہوگيا ہے كہ مجمع عام گريہ و بكا اور آہ و زارى شروع كردى اور جب تمام طريقوں سے نا اميد ہوگئيں تو مصمم ارادہ كرليا كہ ان لوگوں پر نفرين اور بد دعا كريں، ليكن حضرت على (ع) كے پيغام پہنچنے پر ہى آپ كے حكم كى اطاعت كى اور واپس گھر لوٹ آئيں_

جى ہاں حضر ت زہرا (ع) نے مصمم ارادہ كرليا تھا كہ آخرى لحظہ اور قدرت تك على (ع) سے دفاع كرتى رہوں گى اور يہ سوچا تھا كہ جب ميدان مبارزہ ميں وارد ہوگئي ہوں تو مجھے اس سے كامياب اور فتحياب ہوكر نكلنا ہوگا اور حضرت على (ع) كو بيعت كے لئے لے جانے ميں ممانعت كرنى ہوگي، اس طرح عمل كر كے اپنے شوہر كے نظريئے اور عمل اور رفتار كى تائيد كروں گى اور جناب ابوبكر كى خلافت سے اپنى ناراضگى كا اظہار كروں گى اور اگر مجھے مارا پيٹا گيا تب بھى شكستہ پہلو اور سياہ شدہ بازو اور ساقط شدہ بچے كے باوجود جناب ابوبكر كى خلافت كو بدنام اور رسوا كردوں ى اور اپنے عمل سے جہان كو سمجھاؤں گى كہ حق كى حكومت سے روگردانى كا ايك نتيجہ يہ ہے كہ اپنى حكومت كو دوام دينے كے لئے پيغمبر (ص) كى دختر كا پہلو توڑنے اور رسول خدا(ص) كے فرزند كو ماں كے پيٹ ميں شہيد كرنے پر بھى تيار ہوجاتے ہيں اور ابھى سے تمام عالم كے مسلمانوں كى بتلا دينا چاہتى ہوں كہ بيدارى اور ہوش ميں آجاؤ كہ انتخابى حكومت كا ايك زندہ اور واضح فاسد نمونہ يہ ہو رہا ہے_

البتہ جناب فاطمہ (ع) زہراء (ع) نبوت اور ولايت كے مكتب كى تربيت شدہ تھيں، فداكارى اور شجاعت كا درس ان دو گھروں ميں پڑھا تھا اپنے پہلو كے شكستہ ہونے اور مار پيٹ كھانے سے نہ ڈريں اور اپنے ہدف كے دفاع كے معاملے ميں كسى بھى طاقت كے استعمال كى پرواہ نہ كي_


تيسرا مرحلہ فدك (9)

جب سے جناب ابوبكر نے مسلمانوں كى حكومت كو اپنے ہاتھ ميں ليا اور تخت خلافت پر بيٹھے اسى وقت سے ارادہ كرليا تھا كہ فدك كو جناب فاطمہ (ع) سے واپس لے لوں، فدك ايك علاقہ ہے جو مدينے سے چند فرسخ پر واقع ہے، اس ميں كئي ايك باغ اور بستان ہيں اور علاقہ قديم زمانے ميں بہت زيادہ آباد تھا اور يہوديوں كے ہاتھ ميں تھا، جب اس علاقے كے مالكوں نے اسلام كى طاقت اور پيشرفت كو جنگ خيبر ميں مشاہدہ كيا تو ايك آدمى كو رسول خدا(ص) كى خدمت ميں روانہ كيا اور آپ سے صلح كى پيش كش كى پيغمبر اسلام(ص) نے ان كى صلح كو قبول كرليا اور بغير لڑائي كے صلح كا عہدنامہ پايہ تكميل تك پہنچ گيا اس قرار داد كى روسے فدك آدھى زمين جناب رسول خدا(ص) كے اختيار ميں دے دى گئي اور يہ خالص رسول(ص) كا مال ہوگيا (10)_

كيونكہ اسلامى قانون كى رو سے جو زمين بغير جنگ كے حاصل اور فتح ہو وہ خالص رسول خدا(ص) كى ہوا كرتى ہے اور باقى مسلمانوں كا اس ميں كوئي حق نہيں ہوا كرتا_

فدك كى زمينيں پيغمبر(ص) كى ملكيت اور اختيار ميں آگئي تھيں آپ اس كے منافع كو بنى ہاشم اور مدينہ كے فقراء اور مساكين ميں تقسيم كيا كرتے تھے اس كے بعد يہ آيت نازل ہوئي_ ''وات ذا القربى حقہ'' (11)_ اور جب يہ آيت نازل ہوئي تو پيغمبر(ص) نے اللہ تعالى كے دستور اور حكم كے مطابق فدك جناب فاطمہ (ع) كو بخش ديا اس باب ميں پيغمبر(ص) سے كافى روايات وارد ہوئي ہيں نمونے كے طور پر چند _ يہ ہيں_

ابوسعيد خدرى فرماتے ہيں كہ جب يہ آيت ''وات ذاالقربى حقہ'' نازل ہوئي تو پيغمبر(ص) نے فاطمہ (ع) سے فرمايا كہ فدك تمہارا مال ہے (12)_

عطيّہ كہتے ہيں كہ جب آيت ''و آت ذاالقربى حقہ'' نازل ہوئي تو پيغمبر(ص) نے جناب فاطمہ (ع) كو بلايا اور فدك انہيں بخش ديا(13)_

حضرت على عليہ السلام فرماتے ہيں كہ رسول خدا(ص) نے اپنى زندگى ميں فدك فاطمہ (ع) كو بخش ديا تھا (14)_

فدك كا علاقہ معمولى اور كم قيمت نہ تھا بلكہ آباد علاقہ تھا اور اس كى كافى آمدنى تھى ہر سال تقريباً چوبيس ہزار يا ستر ہزار دينار اس سے آمدنى ہوا كرتى تھى (15)_

اس كے ثبوت كے لئے دو چيزوں كو ذكر كيا جاسكتا ہے يعنى فدك كا علاقہ وسيع اور بيش قيمت تھا اسے دو چيزوں سے ثابت كيا جاسكتا ہے_

پہلي: جناب ابوبكر نے جناب فاطمہ زہراء (ع) كے جواب ہيں، جب آپ نے فدك كا مطالبہ كيا تھا تو فرمايا تھا كہ فدك رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كا مال نہ تھا بلكہ يہ عام مسلمانوں كے اموال ميں سے ايك مال تھا كہ پيغمبر اسلام(ص) اس كے ذريعے جنگى آدميوں كو جنگ كے لئے روانہ كرتے تھے اور اس آمدنى كو خدا كى راہ ميں خرچ كرتے تھے (16)_


دوسرے: جب معاويہ خليفہ ہوا تو اس نے فدك مروان ابن حكم اور عمر بن عثمان اور اپنے فرزند يزيد كے درميان مستقيم كرديا (17)_

ان دونوں سے يہ نتيجہ نكالا جاسكتا ہے كہ فدك ايك پر قيمت اور زرخيز علاقہ تھا كہ جس كے متعلق جناب ابوبكر نے فرمايا كہ رسول خدا اس كى آمدنى سے لوگوں كو جنگ كے لئے روانہ كرتے تھے، اور خدا كى راہ ميںخرچ كيا كرتے تھے_

اگر فدك معمولى ملكيت ہوتا تو معاويہ اسے اپنے فرزند اور دوسرے آدميوں كے درميا تقسيم نہ كرتا_

 

 

1) الامامہ والسياستہ، ج 1 ص 12 _
2) شرح ابن ابى الحديد، الحديد، ج 2 ص 56 اور، ج 6 ص 48_
3) اثبات الوصيتہ، ص 110_ بحار الانوار، ج 43 ص 197_ الامامہ السياسہ، ج 1 ص 12_
4) سنى شيعہ تاريخ اور مدارك اس پر متفق ہيں كہ جناب ابوبكر كے سپاہيوں نے حضرت زہراء (ع) كے گھر پر حملہ كرديا اور جناب عمر نے لكڑياں طلب كى اور گھرواروں كو گھر جلادينے كى دھمكى دى بلكہ يہاں تك لكھا ہے كہ جناب عمر سے كہا گيا كہ اس گھر ميں فاطمہ (ع) موجود ہيں آپ نے جواب ديا كہ اگر بيعت كے لئے حاضر نہ ہوں گے تو ميں اس گھر كو آگ لگادوں گا گرچہ اس ميں فاطمہ (ع) ہى موجود ہوں_ جيسے كہ يہ مطلب ابوالفداء ابن ابى الحديد ابن قيتبہ نے امامہ و السياسہ ميں، انساب الاشرف يعقوبى اور دوسروں نے گھر پر حملہ كرنے اور جلانے كى دھمكى كو تحرير كيا ہے، خود حضرت ابوبكر نے اپنى موت كے وقت حضرت زہراء (ع) گے گھر پر حملے پر ندامت كا اظہار كيا ہے_ چنانچہ ابن ابى الحديد جلد 2 ص 46 پر اور ج 12 ص 194 پر لكھتے ہيں كہ جس وقت جناب زينب پيغمبر كى (4-1) لڑكى مكّہ سے مدينہ آرہى تھيں تو راستے ميں دشمنوں نے اس پر حملہ كرديا اور حصار بن الود نے آك كے كجا دے پر حملہ كرديا اور نيزے سے آپ كو تحديد كرديا اور حصار بن الود نے آپ كے كجا دے پر حملہ كرديا اور نيزے سے آپ كو تحديد كى اس وجہ سے جناب زينب كا بچہ سقط ہوگيا، رسول اللہ(ص) اس مطلب سے اس قدر ناراحت ہوئے كہ آپ نے فتح مكہ كے دن ہبار كے خون كو مباح قرار دے ديا_ اس كے بعد ابن ابى الحديد لكھتا ہے كہ ميں نے يہ واقعہ نقيب ابى جعفر كے سامنے پڑھا تو اس نے كہ كہ جب رسول خدا(ص) نے ہبار كے خون مباح كرديا تھا تو معلوم ہوتا ہے كہ رسول خدا(ص) زندہ ہوتے تو اس شخص كے خون كو جس نے فاطمہ (ع) كو تحديد كى تھى كہ جس سے فاطمہ (ع) كا بچہ ساقط ہوگيا تھا مباح كرديتے_اہلسنت كى كتابيں تہديد كے بعد كے واقعات كے بيان كرنے ميں ساكت ہيں، ليكن شيعوں كى تواريخ اور احاديث نے بيان كيا ہے كہ بالاخر آپ كے گھر كے دروازے كو آگ لگادى گئي اور پيغمبر(ص) كى دختر كو اتنا زد و كوب كيا گيا كہ بچہ ساكت ہوگيا ''مولف''

4-1) ضعيف روايات كى بناء پر مولّف نے حاشيہ لگايا ہے ورنہ رسول (ص) كى بيٹى فقط جناب فاطمہ (ع) ہيں كے علاوہ كوئي بيٹى تاريخ سے اگر ثابت ہے تو ضعيف روايات كى رو ہے_
5) بحار الانوار ج 43 ص 197_
6) بحار الانوار، ج 43 ص 198_
7) بحار الانوار، ج 43 ص 198_
8) بحار الانوار، ج 43 ص 47 و روضہ كافي، ص 199_
9) فدك كا موضوع اور اس ميں حضرت فاطمہ (ع) كا ادعا مفصل اور عميق اس كتاب كے آخر ميں بيان كيا گيا ہے_
10) شرح ابن ابى الحديد، ج 16 ص 210_
11) سورہ اسراء آيت ص 26_
12) كشف الغمہ، ج 2 ص 102 اور تفسير در منثور، ج 4 ص 177_
13) كشف الغمہ، ج 2 ص 102
14) كشف الغمہ، ج 2 ص 102 اور كتاب در منثور، ج 4 ص 177 ور غاية المرام ص 323 ميں اس موضوع كى احاديث كا مطالعہ كيجئے_
15) سفينة البحار، ج 2 ص 251_
16) شرح ابن ابى الحديد، ج 16 ص 216_
17) شرح ابن ابى الحديد، ج16 ص 216_