فاطمہ (ع) كو بخشا

رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فدك كبوں
فاطمہ (ع) كو بخشا

پيغمبر صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم كى زندگى كے مطالعے سے يہ امر بخوبى معلوم كيا جاسكتا ہے كہ آپ ثروت اور مال كے شيدائي نہ تھے اور مال كو ذخيرہ كرنا اور جمع ركھنے كى كوشش نہيں كيا كرتھے اپنے مال كو اپنے ہدف يعنى خداپرستى كے لئے خرچ كرديا كرتے تھے، مگر يہى پيغمبر(ص) نہ تھے كہ جناب خديجہ كى بے حد اور بے حساب دولت كو اسى ہدف اور راستے ميں خرچ كر رہے تھے اور خود اور آپ كے داماد اور لڑكى كمال سختى اور مضيقہ ميں زندگى بسر كرتے تھے كبھى بھوك كى شدت كى وجہ سے اپنے شكم مبارك پر پتھر باندھا كرتے تھے_ پيغمبر(ص) ان آدميوں ميں نہ تھے كہ موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنى اولاد كے لئے مال، دولت حاصل كرتے مگر يہى پيغمبر(ص) نہ تھے كہ جو نہيں چاہتے تھے كہ ان كى لڑكى اپنے گھر كے لئے ايك پشمى پردہ لٹكائے ركھے اور حسن (ع) اور حسين (ع) كو چاندى كا دستبند پہنائيں_ اور خود گردن ميں ہار پہنے ركھے_

سوچنے كى بات ہے اپنى زندگى اور بيٹى كى داخلى زندگى ميں اتنا سخت گير ہونے كے باوجود كس علت كى بناء پر اتنے بڑے علاقے اور باقيمت مال كو فاطمہ (ع) كے لئے بخش ديا تھا؟ آپ كا يہ غير معمولى كام بے جہت اور بے علت نہ تھا اس واقعہ كى يوں علت بيان كى جاسكتى ہے كہ پيغمبر(ص) اللہ تعالى كى طرف سے مامور تھے كہ على (ع) كو اپنا جانشين اور خليفہ معين كريں اور يہ بھى جانتے تھے كہ لوگ اتنى آسانى سے آپ كى رہبرى اور حكومت كو قبول نہيں كريں گے اور آپ كى خلافت كے لئے ركاوٹيں ڈاليں گے اور يہ بھى جانتے تھے كہ عرب كے بہت زيادہ گھرانے اور خاندان حضرت على (ع) كى طرف سے بغض و كدورت ركھتے ہيں كيوں كہ على (ع) شمشير زن مرد تھے اور بہت تھوڑے گھر ايسے تھے كہ جن ميں كا ايك يا ايك سے زائد آدمى زمانہ كفر ميں على (ع) كے ہاتھوں قتل نہ ہوا ہو___ پيغمبر(ص) كو علم تھا كہ خلافت اور مملكت كے چلانے كے لئے مال اور دولت كى ضرورت ہوتى ہے ان حالات اور شرائط ميں قورى كا جمع ہوجانا مشكل كام ہوگا_ پيغمبر(ص) جانتے تھے كہ اگر على (ع) فقراء اور بيچاروں كى مدد اور اعانت كرسكے اور ان كى معاشى احتياجات برطرف كرسكے تو دلوں كا بغض اور كدورت ايك حد تك كم ہوجائے گا اور آپ كى طرف دل مائل ہوجائيں گے_ يہى وجہ تھى كہ آنحضرت نے فدك جناب فاطمہ (ع) كو بخش ديا_ در حقيقت يہ مستقبل كے حقيقى خليفہ كے اختيار ميں دے ديا تھا تا كہ اس كى زيادہ آمدنى فقراء اور مساكين كے درميان تقسيم كريں شايد كينے اور پرانى كدروتيں لوگ بھول جائيں اور حضرت على (ع) كى طرف متوجہ ہوجائيں، خلافت كے آغاز ميں اس كى بحرانى حالت ميں اس مال سے استفادہ كريں اور خدا اور رسول (ص) كے ہدف كى ترقى اور پيشرفت ميں اس سے بہرہ بردارى كريں_ در حقيقت پيغمبر اسلام(ص) نے اس ذريعے سے خلافت كى اقتصادى مدد كى تھي_

فدك جناب رسول خدا(ص) كى زندگى ميں جناب زہرا(ع) كے تصرف اور قبضے ميں تھا آپ قوت لايموت يعنى معمولى مقدار اپنے لئے ليتيں اور باقى كو خدا كى راہ ميں خرچ كرديتيں اور فقراء كے درميان تقسيم كرديتيں_

جب جناب ابوبكر نے مسلمانوں كى حكوت پر قبضہ كيا اور تخت خلافت پر متمكن ہوئے تو آپ نے مصمم ارادہ كرليا كہ فدك آنجناب سے واپس لے ليں، چنانچہ انہوں نے حكم د يا كہ جناب فاطمہ (ع) كے كاركنوں اور عمال اور مزارعين كو نكال ديا جائے اور ان كى جگہ حكومت كے كاركن نصب كرديئے جائيں چنانچہ ايسا ہى كيا گيا(1)_

1) تفسير نورالثقلين، ج 4 ص 272_