جناب زہراء (ع) كا رد عمل

جناب زہراء (ع) كا رد عمل

جب جناب فاطمہ (ع) كو اطلاع ملى كہ آپ كے كاركنوں كو فدك سے نكال دياگيا ہے تو آپ بہت غمگين ہوئيں اور  اپنے آپ كو ايك نئي مشكل اور مصيبت ميں ديكھا كيونكہ حكومت كا نقشہ حضرت على (ع) اور حضرت فاطمہ (ع) پر مخفى نہ تھا اور ان كے اصلى اقدام كى غرض و غايت سے بھى بے خبر نہ تھے_

اس موقع پر جناب فاطمہ (ع) كو ان دو راستوں ميں سے ايك راستہ اختيار كرنا تھے_

پہلا راستہ يہ تھا كہ جناب ابوبكر كے سامنے ساكت ہوجائيں اور اپنے شروع اور جائز حق سے چشم پوشى كرليں اور كہيں كہ ہميں تو دنيا كے مال و متاع سے كوئي محبت اور علاقہ نہيں چھوڑو فدك بھى جناب ابوبكر لے جائيں اس كے ساتھ يہ بھى اس كے لئے ہوسكتا ہے كہ وہ جناب خليفہ كو خوش كرنے كى غرض سے پيغام دالواتيں كہ تم ميرے ولى امر ہو ميں ناچيز فدك كو آپ كى خدمت ميں پيش كرتى ہوں_

دوسرا راستہ يہ تھا كہ اپنى پورى قدرت سے ركھتى ہيں اپنے حق كا دفاع كريں_

پہلا راستہ اختيار كرنا حضرت زہراء (ع) كے لئے ممكن نہ تھا كيونكہ وہ حكومت كے پوشيدہ منصوبے سے بے خبر نہ تھيں جانتى تھيں كہ وہ اقتصادى دباؤ اور آمدنى كے ذريعے قطع كردينے سے اسلام كے حقيقى خليفہ حضرت على (ع) كے اثر كو ختم كرنا چاہتے ہيں تا كہ ہميشہ كے لئے حضرت على (ع) كا ہاتھ حكومت سے كوتاہ ہوجائے اور وہ كسى قسم كا خلافت كے خلاف اقدام كرنے سے مايوس ہوجائيں اور يہ بھى جانتى تھيں كہ فدك كو زور سے لے لينے سے على (ع) كے گھر كا دروازہ بند كرنا چاہتے تھے_

جناب فاطمہ (ع) نے سوچا كہ اب بہت اچھى فرصت اور مدرك ہاتھ آگيا ہے اس وسيلہ سے جناب ابوبكر كى انتخابى خلافت سے مبارزہ كر كے  اسے بدنام اور رسوا كيا جائے اور عمومى افكار كو بيدار كيا جائے اور اس قسم كى فرصت ہميشہ ہاتھ نہيں آيا كرتي_

حضرت فاطمہ (ع) نے سوچا كہ اگر ميں جناب ابوبكر كے دباؤ ميں آجاوں اور اپنے مسلم حق سے دفاع نہ كروں تو جناب ابوبكر كى حكومت دوسروں پر غلط دباؤ ڈالنے كى عادى ہوجائے گى اور پھر لوگوں كے حقوق كى مراعات نہ ہوسكے گي_

جناب فاطمہ (ع) نے فكر كى كہ اگر ميں نے اپنے حق كا دفاع نہ كيا تو لوگ خيال كريں گے اپنے حق سے صرف نظر كرنا اور ظلم و ستم كے زير بار ہونا اچھا كام ہے_

جناب فاطمہ (ع) نے سوچا اگر ميں نے ابوبكر كو بدنام نہ كيا تو دوسرے خلفاء كے درميان عوام فريبى رواج پاجائے گي_

حضرت فاطمہ (ع) نے فكر كى كہ پيغمبر(ص) كى دختر ہوكر اپنے صحيح حق سے صرف نظر كرلوں تو مسلمانوں خيال كريں گے كہ عورت تمام اجتماعى حقوق سے محروم ہے اور اسے حق نہيں پہنچتا كہ وہ اپنے حق كے احقاق كے لئے مبارزہ كرے_

حضرت فاطمہ (ع) نے سوچا كہ ميں جو وحى كے دامن اور ولايت كے گھر كى تربيت يافتہ ہوں اور ميں اسلام كى خواتين كے لئے نمونہ ہوں اور مجھے ايك اسلام كى تربيت يافتہ سمجھا جاتا ہے ميرے اعمال اور رفتار كو ايك اسلام كى نمونہ عورت كى رفتار اور اعمال جانا جاتا ہے اگر ميں اس مقام ميں سستى كروں اور اپنے حق كے لينے ميں عاجزى كا اظہار كروں تو پھر اسلام ميں عورت عضو معطل سمجھى جائے گي_ جى ہاں يہ اور اس قسم كے ديگر عمدہ افكار تھے جو جناب فاطمہ (ع) كو اجازت نہيں ديتے تھے كہ وہ پہلا راستہ اختيار كرتيں يہى وجہ تھى كہ آپ نے ارادہ كرليا تھا كہ توانائي اور قدرت كى حد تك اپنے حق سے دفاع كريں گي_

البتہ يہ كام بہت زيادہ سہل اور آسان نہ تھا كيوں كہ ايك عورت كا مقابلہ جناب خليفہ ابوبكر سے بہت زيادہ خطرناك تھا اور وہ اس فاطمہ (ع) ناى عورت كا كہ جو پہلے سے پہلو شكستہ بازو سياہ شدہ اور جنين ساقط شدہ تھيں، ان ميں سے ہر ايك حادثہ اور واقعہ عورت كے لئے كافى تھا كہ وہ ہميشہ كے لئے زبردست انسانوں سے مرعوب ہوجائے_

ليكن فاطمہ (ع) نے فداكارى اور شجاعت اور بردبارى اور استقامت كى عادت اپنے والد رسول خدا(ص) اور مال خديجہ كبرى سے وراثت ميں پائي تھى اور انہوں نے مبارزت اسلامى كے مركز ميں تربيت پائي تھى انہوں نے ان فداكاروں اور قربانى دينے والوں كے گھر ميں زندگى گزارى تھى كہ جہاں كئي دفعہ وہ شوہر كے خون آلود كپڑے دھوچكى تھيں اور ان كے زخمى بدن كى مرہم پٹى كرچكى تھيں وہ ان جزئي حوادث سے خوف نہيں كھاتى تھيں اور جناب ابوبكر كى حكومت سے مرعوب نہيں ہوتى تھيں_

جناب زہراء (ع) نے اپنے مبارزے كو كئي ايك مراحل ميں انجام ديا_

 

بحث اور استدلال

جناب فاطمہ (ع) جناب ابوبكر كے پاس گئيں اور فرمايا كہ تم نے كيوں ميرے كاركنوں كو ميرى ملكيت سے باہر نكال ديا ہے؟ ميرے باپ نے اپنى زندگى ميں فدك مجھے ہبہ كرديا تھا جناب ابوبكر نے جواب ديا اگر چہ ميں جانتا ہوں كہ تم جھوٹ نہيں بولتيں ليكن پھر بھى اپنے دعوے كے ثبوت كے لئے گواہ لے آؤ_ جناب زہراء (ع) جناب ام ايمن اور حضرت على (ع) كو گواہ كے طور پر لے گئيں، جناب ام ايمن نے جناب ابوبكر سے كہ تجھ خدا كى قسم ديتى ہوں كہ كيا تم جانتے ہو كہ رسول خدا(ص) نے ميرے بارے ميںفرمايا ہے كہ ام ايمن بہشتى ہيں، جناب ابوبكر نے جواب ديا، يہ ميں جانتا ہوں اس وقت جناب ام ايمن نے فرمايا ميں گواہى ديتى ہوں كہ جب يہ آيت ''و آت ذى القربى حقہ'' نازل ہوئي تو رسول خدا(ص) نے فدك فاطمہ (ع) كو دے ديا تھا_

حضرت على عليہ السلام نے بھى اس قسم كى گواہى دى جناب ابوبكر مجبور ہوگئے كہ فدك جناب فاطمہ (ع) كو لوٹا ديں لہذا ايك تحرير ايك كے متعلق لكھى اور وہ حضرت زہراء (ع) كو دے دي_

اچانك اسى وقت جناب عمر آگئے اور مطلب دريافت كيا جناب ابوبكر نے جواب ديا كہ چونكہ جناب فاطمہ (ع) فدك كا دعوى كر رہى تھيں اور اس پر گواہ بھى پيش كرديئےيں لہذا ميں نے فدك انہيں واپس كرديا ہے جناب عمر نے وہ تحرير زہراء كے ہاتھ سے لى اور اس پر لعاب دہن ڈالا اور پھر اسے پھاڑ ڈالا_ جناب ابوبكر نے بھى جناب عمر كى تائيد كرتے ہوئے كہا كہ آپ على (ع) كے علاوہ كوئي اور آدمى گواہ لے آئيں يا ايم ايمن كے علاوہ كوئي دوسرى عورت بھى گواہى دے جناب فاطمہ (ع) روتى ہوئي جناب ابوبكر كے گھر سے باہر چلے گئيں_

ايك اور روايت كى بناء پر جناب عمر اور عبدالرحمن نے گواہى دي كہ رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم فدك كى آمدنى كو مسلمانوں كے درميان تقسيم كرديتے تھے (1)_

ايك دن حضرت على (ع) جناب ابوبكر كے پاس گئے اور فرمايا كہ كيوں فدك كو جو جناب رسول خدا(ص) نے جناب فاطمہ (ع) كو دياتھا ان سے لے ليا ہے؟ آپ نے جواب دياانہيں اپنے دعوى پر گواہ لے آنے چاہئيں اور چونكہ ان كے گواہ ناقص تھے جو قبول نہيں كئے گئے_ حضرت على (ع) نے فرمايا اے ابوبكر، كيا تم ہمارے بارے ميں اس كے خلاف حكم كرتے ہو جو تمام مسلمانوں كے لئے ہوا كرتا ہے_ جناب ابوبكر نے كہا كہ نہيں_ حضرت على (ع) نے فرمايا كہ اب ميں تم سے سوال كرتا ہوں كہ اگر كچھ مال كسى كے ہاتھ ميں ہو اور ميں دعوى كروں كہ وہ ميرا مال ہے اور فيصلہ كرانے كے لئے جناب كے پاس آئيں تو آپ كس سے گواہ كا مطالبہ كريں گے؟ جناب ابوبكر نے كہا كہ آپ سے گواہ طلب كروں گا كيوں كہ مال كسى دوسرے كے تصرف ميں موجود ہے، آپ نے فرمايا پھر تم نے كيوں جناب فاطمہ (ع) سے گواہ لانے كا مطالبہ كيا ہے در انحاليكہ فدك آپ(ص) كى ملكيت اور تصرف ميں موجود ہے، جناب ابوبكر نے سوكت كے سوا كوئي چارہ نہ ديكھا ليكن جناب عمر نے كہايا على ايسى باتين چھوڑو (2)_

اگر انصاف سے ديكھا جائے تو اس فيصلے مين حق حضرت زہراء كے ساتھ ہے كيونكہ فدك آپ كے قبضے ميں تھا اسى لئے تو حضرت على (ع) نے اپنے ايك خط ميں لكھا ہے_ جى ہاں دنيا كے اموال سے فدك ہمارے اختيار ميں تھا ليكن ايك جماعت نے اس پر بھى بخل كيا اور ايك دوسرا گروہ اس پر راضى تھا (3) _

قضاوت كے قواعد اور قانون كے لحاظ سے حضرت زہراء (ع) سے گواہوں كا مطالبہ نہيں كرنا چاہيئے تھا بلكہ دوسرى طرف جو ابوبكر تھے انہيں گواہ لانے چاہيئے تھے، ليكن جناب ابوبكر نے فيصلے كے اس مسلم قانون كى مخالفت كي، حضرت زہراء (ع) اس مبارزے ميں كامياب ہوگوئيں اور اپنى حقانيت كو مضبوط دليل و برہان اور منطق سے ثابت كرديا اور حضرت ابوبكر مجبور ہوگئے كہ وہ فدك كے واپس كردينے كا دستور بھى لكھ ديں يہ اور بات ہے كہ جناب عمر آپہنچے اور طاقت كى منطق كو ميدان ميں لائے اور لكھى ہوئي تحرير كو پھاڑ ديا اور گواہوں كے ناقص ہونے كا اس ميں بہانا بنايا_


پھر بھى استدلال

ايك دن جناب فاطمہ (ع) جناب ابوبكر كے پاس گئيں اور باپ كى وراثت كے متعلق بحث اور احتجاج كيا آپ نے فرمايا اے ابوبكر، ميرے باپ كا ارث مجھے كيوں نہيں ديتے ہو؟ جناب ابوبكر نے جواب ديا كہ پيغمبر(ص) ارث نہيں چھوڑتے_ آپ نے فرمايا مگر خداوند عالم قرآن ميں نہيں فرماتا:

''و ورث سليمان داؤد'' (4)

كيا جناب سليمان جناب داؤد كے وارث نہيں بنے؟ جناب ابوبكر غضبناك ہوئے اور كہا تم سے كہا كہ پيغمبر ميراث نہيں چھوڑتے ، جناب فاطمہ (ع) نے فرمايا كيا زكريا نبى نے خدا سے عرض نہيں كيا تھا_

''فہب لى من لدنك وَلياً يرثنى وَ يرث من آل يعقوب'' (5)

جناب ابوبكر نے پھر بھى وہى جواب ديا كہ پيغمبر ارث نہيں چھوڑتے جناب فاطمہ (ع) نے فرمايا كيا خدا قرآن ميں نہيں فرماتا:

''يوصيكم اللہ فى اولادكم للذكر حظ الانثيين'' (6)

كيا ميں رسول اللہ (ص) كى اولاد نہيں ہوں؟ چونكہ جناب ابوبكر حضرت زہراء (ع) كے محكم دلائل كا سامنا كر رہے تھے اور اس كے سوا اور كوئي چارہ نہ تھا كہ اسى سابقہ كلام كى تكرار كريں اور كہيں كہ كيا ميں نے نہيں كہا كہ پيغمبر ارث نہيں چھوڑتے_

جناب ابوبكر نے اپنى روش اور غير شرعى عمل كے لئے ايك حديث نقل كى كہ رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا ہے كہ ہم پيغمبر ارث نہيں چھوڑتے_ جناب عائشےہ اور حفصہ نے بھى جناب ابوبكر كى اس حديث كى تائيد كردى (7 )_

جيسا كہ آپ ديكھ رہے ہيں كہ اس مباحثے ميں بھى حضرت زہراء (ع) غالب آئيں اور دلائي و برہان سے ثابت كرديا كہ وہ حديث جس كا تم دعوى كر رہے ہو وہ صريح قرآنى نصوص كے خلاف ہے اور جو حديث بھى قرآن كى صريح نص كے خلاف ہو وہ معتبر نہيں ہوا كرتى جناب ابوبكر مغلوب ہوئے اور آپ كے پاس اس كے سوا كوئي علاج نہ تھا كہ جناب فاطمہ (ع) كے جواب ميں اسى سابقہ جواب كى تكرار كريں_

يہاں پر قابل توجہ نكتہ يہ ہے كہ يہى جناب عائشےہ جنہوں نے اس جگہ اپنے باپ كى بيان كردہ وضعى حديث كى تائيد كى ہے جناب عثمان كى خلافت كے زمانے ميں ان كے پاس گئيں اور پيغمبر (ص) كى وراثت كا ادعا كيا_ جناب عثمان نے جواب ديا كيا تم نے گواہى نہيں دى تھى كہ پيغمبر(ص) نے فرمايا كہ ہم پيغمبر ارث نہيں چھوڑتے؟ اور اسى سے تم نے جناب فاطمہ (ع) كو وراثت سے محروم كرديا تھا، اب كيسے آپ خود رسول (ص) كى وراثت كا مطالبہ كر رہى ہيں (8)_


خليفہ سے وضاحت كا مطالبہ

جناب زہراء (ع) پہلے مرحلہ ميں كامياب ہوئيں اور اپنى منطق اور برہان سے اپنے مد مقابل كو محكوم كرديا قرآن مجيد كى آيات سے اپنى حقانيت كو ثابت كيا اور اپنے مد مقابل كو اپنے استدلال سے ناتواں بناديا، آپ نے ديكھا كہ _ مد مقابل اپنى روش كو صحيح ثابت كرنے كے لئے ہر قسم كے عمل كو بجالانے كے لئے حتى كہ حديث بناكر پيش كرنے كى بھى پرواہ نہيں كرتا اور دليل و برہان كے مقابلے ميں قوت اور طاقت كا سہارا ڈھونڈتا ہے_

آپ نے تعجب كيا اور كہا عجيب انہوں نے ميرے شوہر كى خلافت پر قبضہ كرليا ہے_ يہ آيات قرآن كے مقابل كيوں سر تسليم خم نہيں كرتے؟ كيوں اسلام كے خلاف فيصلہ ديتے ہيں؟ كيوں جناب ابوبكر تو مجھے تحرير لكھ كر ديتے ہيں ليكن جناب عمر اسے پھاڑ ڈالتے ہيں؟ اے ميرے خدا يہ كسى قسم كى حكومت ہے اور يہ كسى قضاوت ہے؟ تعجب در تعجب: جناب ابوبكر رسول خدا(ص) كى جگہ بيٹھتے ہيں، ليكن حديث از خود بناتے ہيں تا كہ ميرے حق كو پائمال كريں؟ ايسے افراد دين اور قرآن كے حامى ہوسكتے ہيں؟ مجھے فدك اور غير فدك سے دلچسپى نہيں ليكن اس قسم كے اعمال كو بھى تحمل نہيں كرسكتى بالكل چپ نہ رہوں گى اور مجھے چاہيئے كہ تما لوگوں كے سامنے خليفہ سے وضاحت طلب كروں اور اپنى حقانيت كو ثابت كروں اور لوگوں كو بتلادوں كہ جس خليفہ كا تم نے انتخاب كيا ہے اس ميں صلاحيت نہيں كہ قرآن اور اسلام كے دستور پر عمل كرے اپنى مرضى سے جو كام چاہتا ہے انجام ديتا ہے_ جى ہان مسجد جاؤں گى اور لوگوں كے سامنے تقرير كروں گي_

يہ خبر بجلى كى طرح مدينہ ميں پھيل گئي اور ايك بم كى طرح پورے شہر كو ہلاك ركھ ديا، فاطمہ (ع) جو كہ پيغمبر(ص) كى نشانى ہيں چاہتى ہيں كہ تقرير كريں؟ ليكن كس موضوع پر تقرير ہوگي؟ اور خليفہ اس پر كيا رد عمل ظاہر كرے گا؟ چليں آپ كى تاريخى تقرير كو سنيں_

مہاجر اور انصار كى جمعيت كا مسجد ميں ہجوم ہوگيا، بنى ہاشم كى عورتيں جناب زہراء (ع) كے گھر گئيں اور اسلام كى بزرگ خاتون كو گھر سے باہر لائيں، بنى ہاشم كى عورتيں آپ كو گھيرے ميں لئے ہوئے تھيں، بہت عظمت اور جلال كے ساتھ آپ چليں، پيغمبر(ص) كى طرح قدم اٹھا رہى تھيں، جب مسجد ميں داخل ہوئيں تو پردہ آپ كے سامنے لٹكا دياگيا، باپ كى جدائي اور ناگوار حوادث نے جناب فاطمہ (ع) كو منقلب كرديا كہ آپ كے جگر سے آہ و نالہ بلند ہوا اور اس جلا دينے والى آواز نے مجمع پر بھى اثر كيا اور لوگ بلند آواز سے رونے لگے_

آپ تھوڑى دير كے لئے ساكت رہيں تا كہ لوگ آرام ميں آجائيں اس كے بعد آپ نے گفتگو شروع كي، اس كے بعد پھر ايك دفعہ لوگوں كے رونے كى آوازيں بلند ہوئيں آپ پھر خاموش ہوگئيں يہاں تك كہ لوگ اچھى طرح ساكت ہوگئے اس وقت آپ نے كلام كا آغاز كيا اور فرمايا:


جناب فاطمہ (ع) كى دہلا اور جلادينے والى تقرير

ميں خدا كى اس كى نعمتوں پر ستائشے اور حمد بجالاتى ہوں اور اس كى توفيقات پر شكر ادا كرتى ہوں اس كى بے شمار نعمتوں پر اس كى حمد و ثنا بجالاتى ہوں وہ نعمتيں كہ جن كى كوئي انتہانہيں اور نہيں ہوسكتا كہ ان كى تلافى اور تدارك كيا جاسكے ان كى انتہا كاتصور كرنا ممكن نہيں، خدا ہم سے چاہتا ہے كہ ہم اس كى نعمتوں كو جانيں اور ان كا شكريہ ادا كريں تا كہ اللہ تعالى نعمتوں كو اور زيادہ كرے_ خدا ہم سے چاہتا ہے كہ ہم اس كى نعمتوں كو جانيں اور ان كا شكرہ ادا كريں تا كہ اللہ تعالى مقامى نعمتوں كو اور زيادہ كرے_ خدا نے ہم سے حمد و ثنا كو طلب كيا ہے تا كہ وہ اپنى نعمتوں كو ہمارے لئے زيادہ كرے_

ميں خدا كى توحيد اور يگانگى گواہى ديتى ہوں توحيد كا وہ كلمہ كہ اخلاص كو اس كى روح اور حقيقت قرار ديا گيا ہے اور دل ميں اس كى گواہى دے تا كہ اس سے نظر و فكر روشن ہو، وہ خدا كہ جس كو آنكھ كے ذريعے ديكھا نہيں جاسكتا اور زبان كے ذريعے اس كى وصف اور توصيف نہيں كى جاسكتى وہ كس طرح كا ہے يہ وہم نہيں آسكتا_ عالم كو عدم سے پيدا كيا ہے اور اس كے پيدا كرنے ميں وہ محتاج نہ تھا اپنى مشيئت كے مطابق خلق كيا ہے_ جہان كے پيا كرنے ميں اسے اپنے كسى فائدے كے حاصل كرنے كا قصد نہ تھا_ جہان كو پيدا كيا تا كہ اپنى حكمت اور علم كو ثابت كرے اور اپنى اطاعت كى ياد دہانى كرے، اور اپنى قدرت كا اظہار كرے، اور بندوں كو عبادت كے لئے برانگيختہ كرے، اور اپنى دعوت كو وسعت دے، اپنى اطاعت كے لئے جزاء مقرر كى اور نافرمانى كے لئے سزا معين فرمائي_ تا كہ اپنے بندوں كو عذاب سے نجات دے اور بہشت كى طرف لے جائے_

ميں گواہى ديتى ہوں كہ ميرے والد محمد(ص) اللہ كے رسول اور اس كے بندے ہيں، پيغمبرى كے لئے بھيجنے سے پہلے اللہ نے ان كو چنا اور قبل اس كے كہ اسے پيدا كرے ان كا نام محمّد(ص) ركھا اور بعثت سے پہلے ان كا انتخاب اس وقت كيا جب كہ مخلوقات عالم غيب ميں پنہاں اور چھپى ہوئي تھى اور عدم كى سرحد سے ملى ہوئي تھي، چونكہ اللہ تعالى ہر شئي كے مستقبل سے باخبر ہے اور حوادث دہر سے مطلع ہے اور ان كے مقدرات كے موارد اور مواقع سے آگاہ ہے ، خدا نے محمّد(ص) كو مبعوث كيا تا كہ اپنے امر كو آخر تك پہنچائے اور اپنے حكم كو جارى كردے، اور اپنے مقصد كو عملى قرار دے_ لوگ دين ميں تفرق تھے اور كفر و جہالت كى آگ ميں جل رہے تھے، بتوں كى پرستش كرتے تھے اور خداوند عالم كے دستورات كى طرف توجہ نہيں كرتے تھے_

پس حضرت محمّد(ص) كے وجود مبارك سے تاريكياں چھٹ گئيں اور جہالت اور نادانى دلوں سے دور ہوگئي، سرگردانى اور تحير كے پردے آنكھوں سے ہٹا ديئے گئے ميرے باپ لوگوں كى ہدايت كے لئے كھڑے ہوئے اور ان كو گمراہى سے نجات دلائي اور نابينا كو بينا كيا اور دين اسلام كى طرف راہنمائي فرمائي اور سيدھے راستے كى طرف دعوت دي، اس وقت خداوند عالم نے اپنے پيغمبر كى مہربانى اور اس كے اختيار اور رغبت سے اس كى روح قبض فرمائي_ اب ميرے باپ اس دنيا كى سختيوں سے آرام ميں ہيں اور آخرت كے عالم ميں اللہ تعالى كے فرشتوں اور پروردگار كى رضايت كے ساتھ اللہ تعالى كے قرب ميں زندگى بسر كر رہے ہيں، امين اور وحى كے لئے چتے ہوئے پيغمبر پر درود ہو_

آپ نے اس كے بعد مجمع كو خطاب كيا اور فرمايا لوگو تم اللہ تعالى كے امر اور نہى كے نمائندے اور نبوت كے دين اور علوم كے حامل تمہيں اپنے اوپر امين ہونا چاہيئےم ہو جن كو باقى اقوام تك دين كى تبليغ كرنى ہے تم ميں پيغمبر(ص) كا حقيقى جانشين موجود ہے اللہ تعالى نے تم سے پہلے عہد و پيمان اور چمكنے والانور ہے اس كى چشم بصيرت روش اور رتبے كے آرزومند ہيں اس كى پيروى كرنا انسان كو بہشت رضوان كى طرف ہدايت كرتا ہے اس كى باتوں كو سننا نجات كا سبب ہوتا ہے اس كے وجود كى بركت سے اللہ تعالى كے نورانى دلائل اور حجت كو دريافت كيا جاسكتا ہے اس كے وسيلے سے واجبات و محرمات اور مستحبات و مباح اور شريعت كے قوانين كو حاصل كيا جاسكتا ہے_

اللہ تعالى نے ايمان كو شرك سے پاك ہونے كا وسيلہ قرار ديا ہے___ اللہ نے نماز واجب كى تا كہ تكبر سے روكاجائے_ زكوة كو وسعت رزق اور تہذيب نفس كے لئے واجب قرار ديا_ روزے كو بندے كے اخلاص كے اثبات كے لئے واجب كيا_ حج كو واجب كرنے سے دين كى بنياد كو استوار كيا، عدالت كو زندگى كے نظم اور دلوں كى نزديكى كے لئے ضرورى قرار ديا، اہلبيت كى اطاعت كو ملت اسلامى كے نظم كے لئے واجب قرار ديا اور امامت كے ذريعے اختلاف و افتراق كا سد باب كيا_ امر بالمعروف كو عمومى مصلحت كے ماتحت واجب قرار ديا، ماں باپ كے ساتھ نيكى كو ان كے غضب سے مانع قرار ديا، اجل كے موخر ہونے اور نفوس كى زيادتى كے لئے صلہ رحمى كا دستور ديا_

قتل نفس كو روكنے كے لئے قصاص كو واجب قرار ديا_ نذر كے پورا كرنے كو گناہوں گا آمرزش كا سبب بنايا_ پليدى سے محفوظ رہنے كى غرض سے شراب خورى پر پابندى لگائي، بہتان اور زنا كى نسبت دينے كى لغت سے روكا، چورى نہ كرنے كو پاكى اور عفت كا سبب بتايا_ اللہ تعالى كے ساتھ شرك، كو اخلاص كے ماتحت ممنوع قرار ديا_

لوگو تقوى اور پرہيزگارى كو اپناؤ اور اسلام كى حفاظت كرو اور اللہ تعالى كے اوامر و نواحى كى اطاعت كرو، صرف علماء اور دانشمندى خدا سے ڈرتے ہيں_

اس كے بعد آپ نے فرمايا، لوگو ميرے باپ محمد(ص) تھے اب ميں تمہيں ابتداء سے آخر تك كے واقعات اور امور سے آگاہ كرتى ہوں تمہيں علم ہونا چاہيئےہ ميں جھوٹ نہيں بولتى اور گناہ كا ارتكاب نہيں كرتي_

لوگو اللہ تعالى نے تمہارے لئے پيغمبر(ص) جو تم ميں سے تھا بھيجا ہے تمہارى تكليف سے اسے تكليف ہوتى تھى اور وہ تم سے محبت كرتے تھے اور مومنين كے حق ميں مہربان اور دل سوز تھے_

لوگو وہ پيغمبر ميرے باپ تھے نہ تمہارى عورت كے باپ، ميرے شوہر كے چچازاد بھائي تھے نہ تمہارے مردوں كے بھائي، كتنى عمدہ محمّد(ص) سے نسبت ہے_ جناب محمد(ص) نے اپنى رسالت كو انجام ديا اور مشركوں كى راہ و روش پر حملہ آور ہوئے اور ان كى پشت پر سخت ضرب وارد كى ان كا گلا پكڑا اور دانائي اور نصيحت سے خدا كى طرف دعوت دي، بتوں كو توڑا اور ان كے سروں كو سرنگوں كيا كفار نے شكست كھائي اور شكست كھا كر بھاگے تاريكياں دور ہوگئيں اور حق واضح ہوگيا، دين كے رہبر كى زبان گويا ہوئي اور شياطين خاموش ہوگئے، نفاق كے پيروكار ہلاك ہوئے كفر اور اختلاف كے رشتے ٹوٹ گئے گروہ اہلبيت كى وجہ سے شہادت كا كلمہ جارى كيا، جب كہ تم دوزخ كے كنارے كھڑے تھے اور وہ ظالموں كا تر اور لذيذ لقمہ بن چكے تھے اور آگ كى تلاش كرنے والوں كے لئے مناسب شعلہ تھے_ تم قبائل كے پاؤں كے نيچے ذليل تھے گندا پانى پيتے تھے اور حيوانات كے چمڑوں اور درختوں كے پتوں سے غذا كھاتے تھے دوسروں كے ہميشہ ذليل و خوار تھے اور اردگرد كے قبائل سے خوف و ہراس ميں زندگى بسر كرتے تھے_

ان تمام بدبختيوں كے بعد خدا نے محمد(ص) كے وجود كى بركت سے تمہيں نجات دى حالانكہ ميرے باپ كو عربوں ميں سے بہادر اور عرب كے بھيڑيوں اور اہل كتاب كے سركشوں سے واسطہ تھا ليكن جتنا وہ جنگ كى آگ كو بھڑكاتے تھے خدا سے خاموش كرديتا تھا، جب كوئي شياطين ميں سے سر اٹھاتا يا مشركوں ميں سے كوئي بھى كھولتا تو محمد(ص) اپنے بھائي على (ع) كو ان كے گلے ميں اتار ديتے اور حضرت على (ع) ان كے سر اور مغز كو اپنى طاقت سے پائمال كرديتے اور جب تك ان كى روشن كى ہوئي آگ كو اپنى تلوار سے خاموش نہ كرديتے جنگ كے ميدان سے واپس نہ لوٹتے اللہ كى رضا كے لئے ان تمام سختيوں كا تحمل كرتے تھے اور خدا كى راہ ميں جہاد كرتے تھے، اللہ كے رسول كے نزديك تھے_ على (ع) خدا دوست تھے، ہميشہ جہاد كے لئے آمادہ تھے، وہ تبليغ اور جہاد كرتے تھے اور تم اس حالت ميں آرام اور خوشى ميں خوش و خرم زندگى گزار رہے تھے اور كسى خبر كے منتظر اور فرصت ميں رہتے تھے دشمن كے ساتھ لڑائي لڑنے سے ا جتناب كرتے تھے اور جنگ كے وقت فرار كرجاتے تھے_

جب خدا نے اپنے پيغمبر كو دوسرے پيغمبروں كى جگہ كى طرف منتقل كيا تو تمہارے اندرونى كينے اور دوروئي ظاہر ہوگئي دين كا لباس كہنہ ہوگيا اور گمراہ لوگ باتيں كرنے لگے، پست لوگوں نے سر اٹھايا اور باطل كا اونٹ آواز ديتے لگا اور اپنى دم ہلانے لگا اور شيطان نے اپنا سركمين گاہ سے باہر نكالا اور تمہيں اس نے اپنى طرف دعوت دى اور تم نے بغير سوچے اس كى دعوت قبول كرلى اور اس كا احترام كيا تمہيں اس نے ابھارا اور تم حركت ميں آگئے اس نے تمہيں غضبناك ہونے كا حكم ديا اور تم غضبناك ہوگئے_

لوگو وہ اونٹ جو تم ميں سے نہيں تھا تم نے اسے با علامت بناكر اس جگہ بيٹھايا جو اس كى جگہ نہيں تھي، حالانكہ ابھى پيغمبر(ص) كى موت كو زيادہ وقت نہيں گزرا ہے ابھى تك ہمارے دل كے زخم بھرے نہيں تھے اور نہ شگاف پر ہوئے تھے، ابھى پيغمبر(ص) كو دفن بھى نہيں كيا تھا كہ تم نے فتنے كے خوف كے بہانے سے خلافت پر قبضہ كرليا، ليكن خبردار رہو كہ تم فتنے ميں داخل ہوچكے ہو اور دوزخ نے كافروں كا احاطہ كر ركھا ہے_ افسوس تمہيں كيا ہوگيا ہے اور كہاں چلے جارہے ہو؟ حالانكہ اللہ كى كتاب تمہارے درميان موجود ہے اور اس كے احكام واضح اور اس كے اوامر و نواہى ظاہر ہيں تم نے قرآن كى مخالفت كى اور اسے پس پشت ڈال ديا، كيا تمہارا ارادہ ہے كہ قرآن سے اعراض اور روگرداني كرلو؟ يا قرآن كے علاوہ كسى اور ذريعے سے قضاوت اور فيصلے كرتا چاہتے تو؟ ليكن تم كو علم ہونا چاہيئے كہ جو شخص بھى اسلام كے علاوہ كسى دوسرے دين كو اختيار كرے گا وہ قبول نہيں كيا جائے گا اور آخرت ميں وہ خسارہ اٹھانے والوں ميں سے ہوگا، اتنا صبر بھى نہ كرسكے كہ وہ فتنے كى آگ كو خاموش كرے اور اس كى قيادت آسان ہوجائے بلكہ آگ كو تم نے روشن كيا اور شيطان كى دعوت كو قبول كرليا اور دين كے چراغ اور سنت رسول خدا(ص) كے خاموش كرنے ميں مشغول ہوگئے ہو_ كام كو الٹا ظاہر كرتے ہو اور پيغمبر(ص) كے اہلبيت كے ساتھ مكر و فريب كرتے ہو، تمہارے كام اس چھرى كے زخم اور نيزے كے زخم كى مانند ہيں جو پيٹ كے اندر واقع ہوئے ہوں_

كيا تم يہ عقيدہ ركھتے ہو كہ ہم پيغمبر(ص) سے ميراث نہيں لے سكتے، كيا تم جاہليت كے قوانين كى طرف لوٹنا چاہتے ہو ؟ حالانكہ اسلام كے قانون تمام قوانين سے بہتر ہيں، كيا تمہيں علم نہيں كہ ميں رسول خدا(ص) كى بيٹى ہوں كيوں نہيں جانتے ہو اور تمہارے سامنے آفتاب كى طرح يہ روشن ہے_ مسلمانوں كيا يہ درست ہے كہ ميں اپنے باپ كى ميراث سے محروم ہوجاؤں؟ اے ابوبكر آيا خدا كى كتاب ميں تو لكھا ہے كہ تم اپنے باپ سے ميراث لو اور ميں اپنے باپ كى ميراث سے محروم رہوں؟ كيا خدا قرآن ميں نہيں كہتا كہ سليمان داود كے وارث ہوئے_

''ورث سليمان داؤد''

كيا قرآن ميں يحيى عليہ السلام كا قول نقل نہيں ہوا كہ خدا سے انہوں نے عرض كى پروردگار مجھے فرزند عنايت فرما تا كہ وہ ميرا وارث قرار پائے او آل يعقوب كا بھى وارث ہو_

كيا خدا قرآن ميں نہيں فرماتا كہ بعض رشتہ دار بعض دوسروں كے وارث ہوتے ہيں؟ كيا خدا قرآن ميں نہيں فرماتا كہ اللہ نے حكم ديا كہ لڑكے، لڑكيوں سے دوگنا ارث ليں؟ كيا خدا قرآن ميں نہيں فرماتا كہ تم پر مقرر كرديا كہ جب تمہارا كوئي موت كے نزديك ہو تو وہ ماں، باپ اور رشتہ داروں كے لئے وصيت كرے كيونكہ پرہيزگاروں كے لئے ايسا كرنا عدالت كا مقتضى ہے_

كيا تم گمان كرتے ہو كہ ميں باپ سے نسبت نہيں ركھتي؟ كيا ارث والى آيات تمہارے لئے مخصوص ہيں اور ميرے والد ان سے خارج ہيں يا اس دليل سے مجھے ميراث سے محروم كرتے ہو جو دو مذہب كے ايك دوسرے سے ميراث نہيں لے سكتے؟ كيا ميں اور ميرا باپ ايك دين پر نہ تھے؟ آيا تم ميرے باپ اور ميرے چچازاد على (ع) سے قرآن كو بہتر سمجھتے ہو؟

اے ابوبكر فدك اور خلافت تسليم شدہ تمہيں مبارك ہو، ليكن قيامت كے دن تم سے ملاقات كروں گى كہ جب حكم اور قضاوت كرنا خدا كے ہاتھ ميں ہوگا اور محمد(ص) بہترين پيشوا ہيں_

اے قحافہ كے بيٹھے، ميرا تيرے ساتھ وعدہ قيامت كا دن ہے كہ جس دن بيہودہ لوگوں كا نقصان واضح ہوجائے گا اور پھر پشيمان ہونا فائدہ نہ دے گا بہت جلد اللہ تعالى كے عذاب كو ديكھ لوگے آپ اس كے بعد انصار كى طرف متوجہ ہوئيں اور فرمايا:

اے ملت كے مددگار جوانو اور اسلام كى مدد كرنے والو كيوں حق كے ثابت كرنے ميں سستى كر رہے ہو اور جو ظلم مجھ پر ہوا ہے اس سے خواب غفلت ميں ہو؟ كيا ميرے والد نے نہيں فرمايا كہ كسى كا احترام اس كى اولاد ميں بھى محفوظ ہوتا ہے يعنى اس كے احترام كى وجہ سے اس كى اولاد كا احترام كيا كرو؟ كتنا جلدى فتنہ برپا كيا ہے تم نے؟ اور كتنى جلدى ہوى اور ہوس ميں مبتلا ہوگئے ہو؟ تم اس ظلم كے ہٹانے ميں جو مجھ پر ہوا ہے قدرت ركھتے ہو اور ميرے مدعا اور خواستہ كے برلانے پر طاقت ركھتے ہو_ كيا كہتے ہو كہ محمد(ص) مرگئے؟ جى ہاں ليكن يہ ايك بہت بڑى مصيبت ہے كہ ہر روز اس كا شگاف بڑھ رہا ہے اور اس كا خلل زيادہ ہو رہا ہے_ آنجناب(ص) كى غيبت سے زمين تاريك ہوگئي ہے سورج اور چاند بے رونق ہوگئے ہيں آپ كى مصيبت پر ستارے تتربتر ہوگئے ہيں، اميديں ٹوٹ گئيں، پہاڑ متزلزل اور ريزہ ريزہ ہوگئے ہيں پيغمبر(ص) كے احترام كى رعايت نہيں كى گئي، قسم خدا كى يہ ايك بہت بڑى مصيبت تھى كہ جس كى مثال ابھى تگ ديكھى نہيں گئي اللہ كى كتاب جو صبح اور شام كو پڑھى جا رہى ہے آپ كى اس مصيبت كى خبر ديتى ہے كہ پيغمبر(ص) بھى عام لوگوں كى طرح مريں گے، قرآن ميں ارشاد ہوتا ہے كہ محمد(ص) بھى گزشتہ پيغمبروں كى طرح ہيں، اگر آپ(ص) مرے يا قتل كئے گئے تو تم دين سے پھر جاوگے، جو بھى دين سے خارج ہوگا وہ اللہ پر كوئي نقصان وارد نہيں كرتا خدا شكر ادا كرنے والوں كو جزا عنايت كرتا ہے (9)_

اے فرزندان قبلہ: آيا يہ مناسب ہے كہ ميں باپ كى ميراث سے محروم رہوں جب كہ تم يہ ديكھ رہے ہو اور سن رہے ہو اور يہاں موجود ہو ميرى پكار تم تك پہنچ چكى ہے اور تمام واقعہ سے مطلع ہو، تمہارى تعداد زيادہ ہے اور تم طاقت ور اور اسلحہ بدست ہو، ميرے استغاثہ كى آواز تم تك پہنچتى ہے ليكن تم اس پر لبيك نہيں كہتے ميرى فرياد كو سنتے ہو ليكن ميرى فرياد رسى نہيں كرتے تم بہادرى ميں معروف اور نيكى اور خير سے موصوف ہو، خود نخبہ ہو اور نخبہ كى اولاد ہو تم ہم اہلبيت كے لئے منتخب ہوئے ہو، عربوں كے ساتھ تم نے جنگيں كيں سختيوں كو برداشت كيا، قبائل سے لڑے ہو، بہادروں سے پنجہ آزمائي كى ہے جب ہم اٹھ كھڑے ہوتے تھے تم بھى اٹھ كھڑے ہوتے تھے ہم حكم ديتے تھے تم اطاعت كرتے تھے اسلام نے رونق پائي اور غنائم زيادہ ہوئے اور مشركين تسليم ہوگئے اور ان كا جھوٹا وقار اور جوش ختم ہوگيا اور دين كا نظام مستحكم ہوگيا_

اے انصار متحير ہوكر كہاں جارہے ہو؟ حقائق كے معلوم ہو جانے كے بعد انہيں كيوں چھپانے ہو؟ كيوں ايمان لے آنے كے بعد مشرك ہوئے ہو؟ برا حال ہو ان لوگوں كا جنہوں نے اپنے ايمان اور عہد اور پيمان كو توڑا ڈالا ہو اور ارادہ كيا ہو كہ رسول خدا(ص) كو شہر _ بدر كريں اور ان سے جنگ كا آغاز كريں كيا منافقين سے ڈرتے ہو؟ حالانكہ تمہيں تو صرف خدا سے ڈرنا چاہيئے تھا_ لوگو ميں گويا ديكھ رہى كہ تم پستى كى طرف جارہے ہو، اس آدمى كو جو حكومت كرنے كا اہل ہے اسے دور ہٹا رہے ہو اور تم گوشہ ميں بيٹھ كر عيش اور نوش ميں مشغول ہوگئے ہو زندگى اور جہاد كے وسيع ميدان سے قرار كر كے راحت طلبى كے چھوٹے محيط ميں چلے گئے ہو، جو كچھ تمہارے اندر تھا اسے تم نے ظاہر كرديا ہے اور جو كچھ پى چكے تھے اسے اگل ديا ہے ليكن آگاہ رہو اگر تم اور تمام روئے زمين كے لوگ كافر ہوجائيں تو خدا تمہارا محتاج نہيں ہے_

اے لوگو جو كچھ مجھے كہنا چاہيئے تھا ميں نے كہہ ديا ہے حالانكہ ميں جانتى ہوں كہ تم ميرى مدد نہيں كروگے_ تمہارے منصوبے مجھ سے مخفى نہيں، ليكن كيا كروں دل ميں ايك درد تھا كہ جس كو ميں نے بہت ناراحتى كے باوجود ظاہر كرديا ہے تا كہ تم پر حجت تمام ہوجائے_ اب فدك اور خلافت كو خوب مضبوطى سے پكڑے ركھو ليكن تمہيں يہ معلوم ہونا چاہيئے كہ اس ميں مشكلات اور دشوارياں موجود ہيں اور اس كا ننگ و عار ہميشہ كے لئے تمہارے دامن پہ باقى رہ جائے گا، اللہ تعالى كا خشم اور غصہ اس پر مزيد ہوگا اور اس كى جزا جہنم كى آگ ہوگى اللہ تعالى تمہارے كردار سے آگاہ ہے، بہت جلد ستم گار اپنے اعمال كے نتائج ديكھ ليں گے_ لوگو ميں تمہارے اس نبى كى بيٹى ہوں كہ جو تمہيں اللہ كے عذاب سے ڈراتا تھا_ جو كچھ كرسكتے ہو اسے انجام دو ہم بھى تم سے انتقام ليں گے تم بھى انتظار كرو ہم بھى منتظر ہيں(10)_

 

 

خليفہ كا ردّ عمل

حضرت زہرا (ع) نے اپنے آتشين بيان كو ہزاروں كے مجمع ميں جناب ابوبكر كے سامنے كمال شجاعت سے بيان كيا اور اپنى مدلل اور مضبوط تقرير ميں جناب ابوبكر سے فدك لينے كى وضاحت طلب كى اور ان كے ناجائز قبضے كو ظاہر كيا اور جو حقيقى خليفہ تھے ان كے كمالات اور فضائل كو بيان فرمايا_

لوگ بہت سخت پريشان ہوئے اور اكثر لوگوں كے افكار جناب زہراء (ع) كے حق ميں ہوگئے_ جناب ابوبكر بہت كشمكش__ _ ميں گھر گئے تھے، اگر وہ عام لوگوں كے افكار كے مطابق فيصلہ ديں اور فدك جناب زہراء (ع) كو واپس لوٹا يں تو ان كے لئے دو مشكليں تھيں_

ايك: انہوں نے سوچاگہ اگر حضرت زہراء (ع) اس معاملے ميں كامياب ہوگئيں اور ان كى بات تسليم كرلى گئي تو ''انہيں اس كا ڈر ہوا كہ'' كل پھر آئيں گى اور خلافت اپنے شوہر كو دے دينے كا مطالبہ كريں گى اور پھر پر جوش تقرير سے اس كا آغاز كريں گے_

ابن ابى الحديد لكھتے ہيں كہ ميں نے على بن فاروقى سے جو مدرسہ غربيہ بغداد كے استاد تھے عرض كى آيا جناب فاطمہ (ع) اپنے دعوے ميں سچى تھيں يا نہ، انہوں نے كہا كہ اس كے باوجود كہ جناب ابوبكر انہيں سچا جانتے تھے ان كو فدك واپس كيوں نہ كيا؟ استاد ہنسے اور ايك عمدہ جواب ديا اور كہا اگر اس دن فدك فاطمہ (ع) كو واپس كرديتے تو دوسرے دن وہ واپس آتيں اور خلافت كا اپنے شوہر كے لئے مطالبہ كرديتيں اور جناب ابوبكر كو خلافت كے مقام سے معزول قرار دے ديتيں كيونكہ جب پہلے سچى قرار پاگئيں تو اب ان كے لئے كوئي عذر پيش كرنا ممكن نہ رہتا(11)_

دوسرے: اگر جناب ابوبكر جناب فاطمہ (ع) كى تصديق كرديتے تو انہيں اپنى غلطى كا اعتراف كرنا پڑتا اس طرح سے خلافت كے آغاز ميں ہى اعتراض كرنے والوں كا دروازہ كھل جاتا اور اس قسم كا خطرہ حكومت اور خلافت كے لئے قابل تحمل نہيں ہوا كرتا_

بہرحال جناب ابوبكر اس وقت ايسے نظر نہيں آرہے تھے كہ وہ اتنى جلدى ميدان چھوڑ جائيں گے البتہ انہوں نے اس قسم كے واقعات كے رونما ہونے كى پہلے سے پيشين گوئي كر ركھى تھى آپ نے سوچا اس وقت جب كہ موجودہ حالات ميں ملت كے عمومى افكار كو جناب زہراء (ع) نے اپنى تقرى سے مسخر كرليا ہے يہ مصلحت نہيں كہ اس كے ساتھ سختى سے پيش آيا جائے ليكن اس كے باوجود اس كا جواب ديا جانا چاہيئے اور عمومى افكار كو ٹھنڈا كيا جائے، بس كتنا___ اچھا ہے كہ وہى سابقہ پروگرام دھرايا جائے اور عوام كو غفلت ميں ركھا جائے اور دين اور قوانين كے اجراء كے نام سے جناب فاطمہ (ع) كو چپ كرايا جائے اور اپنى تقصير كو ثابت كيا جائے، جناب ابوبكر نے سوچا كہ دين كى حمايت اور ظاہرى دين سے دلسوزى كے اظہار سے لوگوں كے دلوں كو مسخر كيا جاسكتا ہے اور اس كے ذريعے ہر چيز كو يہاں تك كہ خود دين كو بھى نظرانداز كرايا جاسكتا ہے_ جى ہاں دين سے ہمدردى كے مظاہرے سے دين كے ساتھ دنيا ميں مقابلہ كيا جاتا ہے_

 

1) احتجاج طبرسي، ج 1 ص 121، اور كشف الغمہ ج 2 ص 104_ اور شرح ابن ابى الحديد، ج 16 ص 274_
2) احتجاج طبرسي، ج 1 ص 121_ كشف الغمہ ج 2 ص 104_
3) نہج البلاغہ، ج 3 ص 45_
4) سورہ نحل آيت 16_
5) سورہ مريم آيت 6_
6) سورہ نساء آيت 11_
7) كشف الغمہ، ج 2 س 104_
8) كشف الغمہ، ج 2 ص 105_
9) سورہ آل عمران_
10) احتجاج طبرسي، طبع نجف 1386 ھ ج 1 131_141 _ شرح ابن ابى الحديد، ج 16 ص 211_ كتاب بلاغات النسائ، تاليف احمد بن طاہر، متولد 204 ہجرى ص 12_ كشف الغمہ، ج 2 ص 106_
11) شرح ابن ابى الحديد، ج 16 ص 284_