جناب فاطمہ (ع) باپ كے بعد

پيغمبر اسلام(ص) نے سنہ ہجرى كو تمام مسلمانوں كو حج بجالانے كى دعوت دى اور آپ آخرى دفعہ مكہ مشرف ہوئے آپ نے مسلمانوں كو حج كے اعمال اور مراسم بتلائے اور واپسى پر جب آپ غدير خم پہنچے تو وہاں ٹھہرگئے اور مسلمانوں كو اكٹھا كيا اور اس كے بعد آپ منبر پر تشريف لے گئے اور على ابن ابيطالب (ع) كو اپنا جانشين اور خليفہ معين فرمايا اس كے بعد مسلمانوں نے حضرت على (ع) كى بيعت كى اور اپنے اپنے شہروں كو واپس چلے گئے اور رسول خدا(ص) بھى مدينہ واپس لوٹ آئے، آپ سفر كى مراجعت كے بعد مريض ہوگئے آپ كى حالت دگرگوںہوتى گئي، آپ كے احوال سے معلوم ہو رہا تھا كہ آپ كى وفات كا وقت آگيا ہے_ كبھى كبھار كسى مناسبت سے اپنے اہل بيت كى سفارش فرمايا كرتے تھے، كبھى جنت البقيع كے قبرستان جاتے اورمردوں كے لئے طلب مغفرت كرتے_

جناب فاطمہ (ع) نے حجة الوداع كے بعد خواب ديكھا كہ ان كے ہاتھ ميں قرآن ہے اور اچانك وہ ان كے ہاتھ سے گرا_ اورغائب ہوگيا_ آپ وحشت زدہ جاگ اٹھيں اور اپنے خواب كواپنے والد كے سامنے نقل كيا، جناب رسول خدا(ص) نے فرمايا،ميرى آنكھوں كى نور ہيں وہ قرآن ہوں كہ جس كو تم نے خواب ميںديكھا ہے، انہيں دنوں ميں نگاہوں سے غائب ہوجاؤں گا(1)_

آپ پر آہستہ آہستہ بيمارى كے آثار ظاہر ہونے لگے_ آپ نے ايك لشكر جناب اسامہ كى سپہ سالارى ميں مرتب كيا اورفرمايا كہ تم روم كى طرف روانہ ہوجاؤ، آپ نے چند آدميوںكے خصوصيت سے نام لئے اورفرمايا كہ يہ لوگ اس جنگ ميں ضرور شريك ہوں آپ كى اس سے غرض يہ تھى كہ مدينہ ميں كوئي منافق نہ رہے اور خلافت اعلى كا مسئلہ كسى كى مدافعت اور مخالفت كے بغير حضرت على (ع) كے حق ميں طے ہوجائے_ رسول خدا(ص) كى بيمارى ميں شدت آگئي اور گھر ميں صاحب فراش ہوگئے_ پيغمبر(ص) كى بيمارى نے جناب فاطمہ (ع) كو وحشت اور اضطراب ميں ڈال ديا، كبھى آپ باپ كے زرد چہرے اور ان كے اڑے ہوئے رنگ كو ديكھتيں اور روديتيں اور كبھى باپ كى صحت اور سلامتى كے لئے دعا كرتيں اور كہتيں خدايا ميرے والد نے ہزاروں رنج اور مشقت سے اسلام كے درخت كا پودا لگايا ہے اور ابھى ثمر آور ہوا ہى ہے اور فتح و نصرت كے آثار ظاہر ہوئے ہيں_

مجھے اميد ہوگئي تھى كہ ميرے والد كے واسطے سے دين اسلام غالب ہوجائے گا اور كفر اور بت پرستي، ظلم اور ستم ختم ہوجائيں گے ليكن صد افسوس كے ميرے باپ كى حالت اچھى نہيں_ خدايا تجھ سے ان كى شفا اور صحت چاہتى ہوں_

پيغمبر(ص) كى حالت شديدتر ہوگئي اور بيمارى كى شدت سے بيہوش ہوگئے جب ہوش ميں آئے اور ديكھا جناب ابوبكر اور عمر اور ايك گروہ كہ جن كو اسامہ كے لشكر ميں شريك ہوتا تھا شريك نہيں ہوئے اور مدينہ ميں رہ گئے ہيں آپ نے ان سے فرمايا كہ كيا ميں نے تم سے نہيں كہا تھا كہ اسامہ كے لشكر ميں شريك ہوجاؤ؟ ہر ايك نے اپنے جواب ميں كوئي عذر اور بہانہ تراشا، ليكن پيغمبر(ص) كو ان كے خطرناك عزائم اور ہدف كا علم ہوچكا تھا اور جانتے تھے كہ يہ حضرات خلافت كے حاصل كرنے كى غرض سے مدينہ ميں رہ گئے ہيں_

اس وقت پيغمبر صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فرمايا كہ كاغذ اور دوات لاؤ تا كہ ميں وصيت لكھ دوں حاضرين ميں سے بعض نے چاہا كہ آپ كے حكم پر عمل كيا جائے ليكن حضرت عمر نے كہا_ كہ آپ پر بيمارى كا غلبہ ہے، ہذيان كہہ رہے ہيں لہذا قلم و قرطاس دينے كى ضرورت نہيں ہے(2)_

جناب زہراء (ع) يہ واقعات ديكھ رہى تھيں آور آپ كا غم اور اندوہ زيادہ ہو رہا تھا اپنے آپ سے كہتى تھيں كہ ابھى سے لوگوں ميں اختلاف اور دوروئي كے آثار ظاہر ہونے لگے ہيں_ ميرے باپ كے كام اور حكم اللہ كى وحى سے سرچشمہ ليتے ہيں اور آپ ملت كے مصالح اور منافع كو مد نظر ركھتے ہيں پس كيوں لوگ آپ كے فرمان سے روگرانى كرنے لگے ہيں، گويا مستقبل بہت خطرناك نظر آرہا ہے گويا لوگوں نے مصمّم ارادہ كرليا ہے كہ ميرے والد كى زحمات كو پائمال كرديں_

1) رياحين الشريعة، ج 1 ص 239_
2) الكامل فى التاريخ، ج 2 ص 217 و صحيح بخاري، ج 3 ص 1259_