تيرہواں سبق باغ جل گيا

تيرہواں سبق
باغ جل گيا ... اور كيوں جلا؟
چند بھائي ايك جگھ بيٹھے ہوے آپس ميں گفتگو كررہے تھے كہ كل صبح سويرے باغ جائيں گے تا كہ باغ سے ميوے لائيں اور اس ميں كسى كو كچھ بھى نہ ديں _ ان بھائيوں ميں ايك بھائي جو نيك تھا كہنے لگا : بھائيو اللہ كے حكم كو نہ بھولو اور محتاجوں كى مدد كرو_ دوسرا بھائي كہنے لگا _ پھر تم بول اٹھے اگر پھر تم بولو گے تو تمہيںماريں گے _ تم كيوں ان كاموں ميں دخل ديتے ہو؟ جب سب بھائي سوگئے تو آسمان سے يك بجلى چمكى اور آسمانى بجلى نے تمام ميوے اور درختوں كو جلا كر خاك كرديا _ جب صبح ہوئي اور وہ جاگے تو كہنے لگے كہ جلدى كروچل كر ميوہ چنيں اور آواز بلند نہ كرو كہ كہيں كوئي خبر دار ہوجائے _ وہ جب باغ تك پہنچے تو ايك كہنے لگا عجيب بات ہے يہ باغ ہمارا تو نہيں لگتا _ دوسرے نے كہا نہيں يہى ہمارا باغ ہے _ اس نيك آدمى نے كہا ميں نے نہيں كہا تھا كہ خدا كو نہ بھولو اوراس كے دستور پر عمل كرو _ يہ تمہارى سزا ہے اور آخرت كا عذاب تمہارے لئے اس سے سخت تر ہے _