تيسرا سبق: داؤد اور سعيد سر كوگئے

تيسرا سبق
3 داؤد اور سعيد سير كو گئے


داؤد اور سعيد باپ كے ساتھ باغ ميں سير كرنے گئے _ باغ بہت خوبصورت تھا درخت سرسبز اور بلند تھے _ رنگارنگ عمدہ پھول تھے _ باغ كے وسط ميں ايك نہر گزرتى تھى كہ جس ميں بطخيں تير رہى تھيں _ بطخيں بہت آرام سے پانى ميں تير رہى تھيں وہ پانى ميں اپنا سرڈبوكركوئي چيز پكڑكركھارہى تھيں _ اچانك سعيد نے ايك چڑيا ديكھى كہ جس كے پر تر ہو چكے تھے اور وہ نہيں اڑ سكتى تھى اس نے داؤد سے كہا:
بھائي جان ديكھئے : اس بيچارى چڑيا كہ پر پھيگ چكے ہيں اور وہ نہيں اڑ سكتى داؤد نے ايك نگاہ چڑيا پر او دوسرى نگاہ بطخوں پر ڈالى اور تعجب سے كہا كہ بطخوں كے پر كيوں نہيں بھيگتے كتنى آرام سے پانى ميں تير رہى ہيں اور جب پانى سے باہر آتى ہيں تو اس كے پر اس طرح خشك ہوتے ہيں _ جيسے وہ پانى ميں گئي ہى نہيں _ سعيد نے ايك نظر بطخوں پر ڈالى اور كہا آپ سچ كہہ رہے ہيں _ ليكن مجھے يہ علم نہيں كہ ايسا كيوں ہے ؟ بہتر يہى ہے كہ يہ بات اپنے والد سے پوچھيں كہ بطخوں كے پر كيوں نہيں بھيگتے اور چھڑيوں كے پر كيوں بھيگ جاتے ہيں

بطخوں كے پر كيوں نہيں بھيگتے
سعيد اور داود ڈرتے ہوئے والد كے پاس گئے اور ان سے كہا _ ابا جان آيئےطخوں كو پانى ميں تيرتے ديكھئے كہ ان كے پر بالكل نہيں بھيگتے _ ابا جان بطخوں كے پر كيوں نہيں بھيگتے ؟ يہ سب نہر كے كنارے آئے _ والد نے كہا: شاباش ابھى سے ان چيزوں كو سمجھنے كى فكر ميں ہو انسان كو چاہيئے كہ وہ جس چيز كو ديكھے اس ميں غور و فكر كرے اور جسے نہيں جانتا وہ اس سے پوچھے كہ جواسے جانتا ہے _ تا كہ يہ بھى اس سے آگاہ ہوجائے _

خوبصورت بطخوں كو خدا نے پيدا كيا ہے
چونكہ بطخوں كے پر چكنے ہوتے ہيں اس لئے پانى كا ان پر اثر نہيں ہوتا ہے اگر بطخوں كے پر چكنے نہ ہوتے تو پانى ميں بھيگ جاتے اور بھارى ہوجاتے اور مرغابى پانى ميں نہ تير سكتى اور نہ ہوا ميں اڑسكتى _
سعيد نہ كہا: ابا جان يہ حكمت كس ذات كى تھي؟ بطخيں خود تو نہيں جانتى تھيں كہ كس طرح اور كس ذريعے سے وہ اپنے پروں كو چكنا بنائيں _ باپ نے جواب ديا : عالم اور مہربان خدا كہ جس نے تمام چيزوں كو پيدا كيا ہے _ وہ جانتا تھا كہ بطخوں كو پانى ميں تيرنا ہے انہيں اس طرح پيدا كيا كہ ان كے پر ہميشہ چكنے رہيں تا كہ وہ آسانى كے ساتھ پانى ميں تيرسكيں _ اور ہواميں اڑسكيں _

سوالات


1_ سعيد اور داؤد باغ ميں كس لئے گئے تھے؟
2_ انہوں نے باغ ميں كيا ديكھا؟
3_ نہر كے كنارے چڑيا كيوں گرى پڑى تھى اور اڑنہيں سكتى تھي؟
4_ سعيد كو كس چيز سے تعجب ہوا؟
5_ انسان كو جب كسى چيز كا علم نہ ہو تو كيا كرے ؟
6_ سوال كرنے كا كيا فائدہ ہے ؟
7_ جب كسى چيز كو نہ جانے تو كس سے پوچھے؟
8_ اگر بطخ كے پر چكنے نہ ہوتے تو كيا ہوتا؟
9_ كيا بطخيں جانتى تھيں كہ اس كے پروں كو چكنا ہونا چاہيئے؟
10_ كس نے بطخ كو اس طرح پيدا كيا ہے كہ اس كے پر ہميشہ كيلئے چكنے ہوتے ہيں؟
11_ ان چيزوں كو كس نے پيدا كيا ہے ؟

يہ جملے مكمل كيجئے


1_ خوبصورت بطخوں كو ... ... ... ... كسے پيدا كيا ہے
2_ شاباش ابھى سے تم ... ... ... ... كے سمجھنے كى فكر ميں ہو
3_ ہم جن چيزوں كو ديكھتے ہيں اس ميں ... ... ... ... كريں
4_ اور جسے نہيں جانتے وہ اس سے ... ... ... ... ... جو اسے جانتا ہے
5_ چونكہ بطخوں كے پر ... ... ... ... ... ... ... پانى كو وہاں تك نہيں پہونچنے ديتے
6_ اگر بطخوں كے پر چكنے نہ ہوتے تو ... ... ... ... ... ... جاتے
7_ اللہ تعالى كى ... ... ... ... ... ... مہربان ذات كہ جسے تمام چيزوں كو پيد اكيا ہے ... ... ... ... كہ بطخوں كو ... ... ميں تيرنا ہے انہيں ... ... ... ... كہ انكے پر ہميشہ چكنے رہيں
8_ تاكہ وہ آسانى ... ... ... پانى ميں ... ... ... اور ہوا ميں ... ... ... سكے
9_ اللہ تعالى كى ... ... ... ... ... مہربان ذات ... ... ... ... ... ... بطخوں كى فكر ميں بھى تھي