فدك

فدك

مدينہ كے اطراف ميں ايك علاقہ ہے كہ جس كا نام فدك ہے مدينہ سے وہاں تك دودن كا راستہ ہے_ يہ علاقہ زمانہ قديم ميں بہت آباد اور سرسبز اور درختوں سے پر تھا_ معجم البلدان والے لكھتے ہيں كہ اس علاقہ ميں خرمے كے بہت درخت تھے اور اس ميں پانى كے چشمے تھے كہ جس سے پانى ابلتا تھا ہم نے پہلے بھى ثابت كيا ہے كہ فدك كوئي معمولى اور بے ارزش علاقہ نہ تھا بلكہ آباد اور قابل توجہ تھا_

يہ علاقہ يہوديوں كے ہاتھ ميں تھا جب 7 سنہ ہجرى كو خيبر كا علاقہ فتح ہوگيا تو فدك كے يہوديوں نے اس سے مرعوب ہوكر كسى آدمى كو پيغمبر(ص) كے پاس روانہ كيا اور آپ سے صلح كرنے كى خواہش كي_

ايك اور روايت ميں نقل ہوا ہے كہ پيغمبر اكرم(ص) نے محيصہ بن مسعود كو ان يہوديوں كے پاس بھيجا اور انہيں اسلام قبول كرنے كى دعوت دى ليكن انہوں نے اسلام قبول نہ كيا البتہ صلح كرنے كى خواہش كا اظہار كيا_ جناب رسول خدا(ص) نے ان كى خواہش كو قبول فرمايا اور ان سے ايك صلح نامہ تحرير كيا اس صلح كى وجہ سے فدك كے يہودى اسلام كى حفاظت اور حمايت ميں آگئے_

صاحب فتوح البلدان لكھتے ہيں كہ يہوديوں نے اس صلح ميں فدك كى آدھى زمين پيغمبر(ص) كے حوالے كردي، معجم البلدان ميں لكھتے ہيں كہ فدك كے تمام باغات اور اموال اور زمين كا نصف پيغمبر(ص) كو دے ديا_

تاريخ گواہ ہے كہ اس صلح كى قرارداد كى رو سے جو فدك كے يہوديوں اور پيغمبر(ص) كے درميان قرار پائي تھى تمام آراضى اور باغات اور اموال كا آدھا يہوديوں نے پيغمبر(ص) كو دے ديا، يعنى يہ مال خالص پيغمبر(ص) كى ذات كا ہوگيا كيونكہ جيسا كہ آپ ملاحظہ كرچكے ہيں يہ علاقہ بغير جنگ كئے پيغمبر(ص) كے ہاتھ آيا ہے اسلام كے قانون كى رو سے جو علاقہ بھى بغير جنگ كئے فتح ہوجائے وہ رسول(ص) كا خالص مال ہوا كرتا ہے_

يہ قانون اسلام كے مسلمہ قانون ميں سے ايك ہے اور قرآن مجيد بھى يہى حكم ديتا ہے_ جيسے خداوند عالم قرآن مجيد ميں فرماتا ہے:

" وما افاء اللہ على رسولہ منہم فما اوجفتم عليہ من خیل و لاركاب و لكن اللہ يسلط رسلہ على من يشاء و اللہ على كل شيء قدير، ما افاء اللہ على رسولہ من اہل القوى فللہ و للرسول " (1)_

يعنى وہ مال كہ جو خدا نے اپنے پيغمبر(ص) كے لئے عائد كرديا ہے اور تم نے اس پر گھوڑے اور اونٹ نہيں دوڑائے ليكن اللہ اپنے پيغمبروں كو جس پر چاہتا ہے مسلط كرديتا ہے او رخدا تمام چيزوں پر قادر ہے_ يہ اموال اللہ اور اس كے پيغمبر كے لئے مخصوص ہيں_

لہذا اس ميں كسى كو شك نہيں ہونا كہ فدك پيغمبر(ص) كے خالص اموال سے ايك تھا يہ بغير لڑائي كے پيغمبر(ص) كو ملا تھا اور پيغمبر(ص) اس كے خرچ كرنے ميں تمام اختيارات ركھتے تھے آپ حق ركھتے تھے كہ جس جگہ بھى مصلحت ديكھيں فدك كے مال كو خرچ كريں آپ اس مال سے حكومت كا ارادہ كرنے ميں بھى خرچ كرتے تھے اور اگر كبھى اسلام كے اعلى مصالح اور حكومت اسلامى كے مصالح اقتضا كرتے تو آپ كو حق تھا كہ فدك ميں سے كچھ حصہ كسى كو بخش ديں تا كہ وہ اس كے منافع اور آمدنى سے فائدہ اٹھاتا رہے، آپ كو حق تھا كہ فدك كے آباد كرنے كے عوض كسى كو بلاعوض يا معاوضہ پر بھى دے ديں اور آپ يہ بھى كرسكتے تھے كہ كسى كى اسلامى خدمات كے عوض اس سے كچھ مال اسے بخش ديں، اور يہ بھى كرسكتے تھے كہ فدك كى آمدنى سے كچھ حكومت اسلامى اور عمومى ضروريات پر خرچ كرديں اور يہ بھى حق ركھتے تھے كہ اپنى اور اپنے خاندان كى ضروريات كے لئے فدك كا كچھ حصہ مخصوص قرار دے ديں_ بعض روايات سے ظاہر ہوتا ہے كہ آپ نے فدك كو اپنے اور اپنے خاندان كے معاش اور ضروريات زندگى كے لئے مخصوص كر ركھا تھا آپ نے فدك كى بعض غير آباد زمين كو اپنے دست مبارك سے آباد كيا اور اس ميں خرمے كے درخت لگائے_

ابن ابى الحديد لكھتے ہيں كہ جب متوكل عباسى نے فدك عبداللہ بن عمر بازيار كو بخش ديا تو اس ميں اس وقت تك گيارہ خرمے كے وہ درخت موجود تھے جو جناب رسول خدا(ص) نے اپنے دست مبارك سے اس ميں لگائے تھے_ جب كبھى فدك جناب فاطمہ (ع) كى اولاد كے ہاتھ ميں آجاتا تھا تو وہ ان درختوں كے خرمے حاجيوں كو ہديہ ديا كرتے تھے اور حاجى حضرات تبرّك كے طور پر لے كر ان پر كافى احسان كيا كرتے تھے_ جب يہى عبداللہ فدك پر مسلط ہوا تو اس نے بشر ان بن اميہ كو حكم ديا كہ وہ تمام درخت كاٹ دے جب وہ درخت كاٹے گئے اور كاٹنے والا بصرہ لوٹ آيا تو اسے فالج ہوگيا تھا_ (2)

پيغمبر(ص) كى عادت يہ تھى كہ فدك كى آمدنى سے اپنى اور اپنے خاندان كى ضروريات كے مطابق لے ليتے تھے اور جو باقى بچ جاتا تھا وہ بنى ہا شم كے فقراء اور ابن سبيل كو دے ديا كرتے تھے اور بنى ہاشم كے فقراء كى شادى كرانے كے اسباب بھى اسى سے مہيا كرتے تھے_


فدك جناب فاطمہ (ع) كے پاس

سب سے زيادہ مہم نزاع اور اختلاف جو جناب فاطمہ (ع) او رجناب ابوبكر كے درميان پيا ہوا وہ فدك كا معاملہ تھا، حضرت فاطمہ (ع) مدعى تھيں كہ رسول خدا(ص) نے اپنى زندگى ميں فدك انہيں بخش ديا تھا ليكن جناب ابوبكر اس كا انكار كرتے تھے، ابتداء ميں تو جھگڑا ايك عادى امر شمار ہوتا تھا ليكن بعد ميں اس نے تاريخ كے ايك اہم واقعہ اور حساس حادثہ كى صورت اختيار كرلى كہ جس كے آثار اور تنائج جامعہ اسلامى كے سالوں تك دامن گير ہوگئے اور اب بھى ہيں اس نزاع ميں جو بھى حق ہے وہ اچھى طرح واضح اور روشن ہوجائے لہذا چند مطالب كى تحقيق ضرورى ہے_

پہلا مطلب: كيا پيغمبر(ص) :كو دولت او رحكومت كے اموال اپنى بيٹى كو بخش دينے كا حق تھا يا نہيں_ (واضح رہے كہ بعض علماء كا نظريہ يہ ہے كہ انفال اور فى اور خمس و غيرہ قسم كے اموال حكومت اسلامى كے مال شمار ہوتے ہيں اور حاكم اسلامى صرف اس پر كنٹرول كرتا ہے يہ اس كا ذاتى مال نہيں ہوتا، اسى نظريئے كے صاحب كتاب بھى معلوم ہوتے ہيں گرچہ يہ نظريہ شيعہ علماء كى اكثريت كے نزديك غلط ہے اور خود آئمہ طاہرين كے اقدام سے بھى يہ نظريہ غلط ثابت ہوتا ہے اور قرآن مجيد كے ظواہر سے بھى اسى نظريئے كى ترديد ہوتى ہے كيونكہ ان تمام سے ان اموال كا پيغمبر(ص) اور امام كا شخصى اور ذاتى مال ہونا معلوم ہوتا ہے نہ منصب اور حكومت كا ليكن صاحب كتاب اپنے نظريئے كے مطابق فدك كے قبضئے كو حل كر رہے ہيں ''مترجم''')

ممكن ہے كہ كوئي يہ كہے كہ غنائم اور دوسرے حكومت كے خزانے تمام مسلمانوں كے ہوتے ہيں اور حكومت كى زمين كو حكومت كى ملكيت ميں ہى رہنا چاہيئے، ليكن ان كى آمدنى كو عام ملت كے منافع اور مصالح پر خرچ كرنا چاہيئے لہذا پيغمبر(ص) كے لئے جوہر خطا اور لغزش سے معصوم تھے ممكن ہى نہ تھا كہ وہ فدك كو جو خالص آپ كا ملك تھا اپنى بيٹى زہراء كو بخش ديتے_

ليكن اس اعتراض كا جواب اس طر ح ديا جاسكتا ہے كہ انفال اور اموال حكومت كى بحث ايك بہت وسيع و عريض بحث ہے كہ جو ان اوراق ميں تفصيل كے ساتھ تو بيان نہيں كى جاسكتي، ليكن اسے مختصر اور نتيجہ اخذ كرنے كے لئے يہاں اس طرح بيان كيا جاسكتا ہے كہ اگر ہم يہ تسليم بھى كرليں كہ فدك بھى غنائم اور عمومى اموال ميں ايك تھا اور اس كا تعلق نبوت اور امامت كے منصب سے تھا يعنى اسلامى حاكم شرع سے تعلق ركھتا تھا ليكن پہلے بيان ہوچكا ہے كہ ان اموال ميں سے تھا جو بغير جنگ كے مسلمانوں كے ہاتھ آيا تھا اور نصوص اسلامى كے مطابق اور پيغمبر(ص) كى سيرت كے لحاظ سے اس قسم كے اموال جو بغير جنگ كے ہاتھ آئيں يہ پيغمبر(ص) كے خالص مال شمار ہوتے ہيں البتہ خالص اموال كو بھى يہ كہا جائے كہ آپ كا شخص مال نہيں ہوتا تھا بلكہ اس كا تعلق بھى حاكم اسلامى اور حكومت سے ہوتا ہے تب بھى اس قسم كے مال كا ان عمومى اموال سے جو دولت اور حكومت سے متعلق ہوتے ہيں بہت فرق ہوا كرتا ہے، كيونكہ اس قسم كے مال كا اختيار پيغمبر(ص) كے ہاتھ ميں ہے اور آپ اس قسم كے اموال ميں تصرف كرنے ميں محدود نہيں ہوا كرتے بلكہ آپ كو اس قم كے اموال ميں بہت وسيع اختيارات حاصل ہوا كرتے ہيں اور اس كے خرچ كرنے ميں آپ اپنى مصلحت انديى اور صواب ديد كے پابند اور مختار ہوتے ہيں يہاں تك كہ اگر عمومى مصلحت اس كا تقاضا كرے تو آپ اس كا كچھ حصہ ايك شخص كو يا كئي افراد كو دے بھى سكتے ہيں تا كہ وہ اس منافع سے بہرہ مند ہوں_ اس قسم كے تصرفات كرنا اسلام ميں كوئي اجنبى اور پہلا تصرف نہيں ہوگا بلكہ رسول خدا (ص) نے اپنى آراضى خالص سے كئي اشخاص كو چند زمين كے قطعات ديئے تھے كہ جس اصطلاح ميں اقطاع كہا جاتا ہے_

بلاذرى نے لكھا ہے كہ پيغمبر خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے زمين كے چند قطعات___ بنى نضير اور جناب ابوبكر اور جناب عبدالرحمان بن عوف اور جناب ابو دجانہ و غيرہ كو عنايت فرما ديئے تھے (3)_

ايك جگہ اور اسى بلاذرى نے لكھا ہے كہ رسول خدا (ص) نے بنى نضير كى زمينوں ميں سے ايك قطعہ زمين كا مع خرمے كے درخت كے زبير ابن عوام كو دے ديا تھا (4)_

بلاذرى لكھتے ہيں كہ رسول خدا(ص) نے زمين كا ايك قطعہ كہ جس ميں پہاڑ اور معدن تھا جناب بلال كو دے ديا (5) _

بلاذرى لكھتے ہيں كے رسول خدا(ص) نے زمين كے چار قطعے على ابن ابى طالب(ع) كو عنايت فرما ديا ديئے تھے (6)_

پس اس ميں كسى كو شك نہيں ہونا چاہيئے كہ حاكم شرع اسلامى كو حق پہنچتا ہے كہ زمين خالص سے كچھ مقدار كسى معين آدمى كو بخش دے تا كہ وہ اس كے منافع سے استفادہ كرسكے_ پيغمبر(ص) نے بھى بعض افراد كے حق ميں ايسا عمل انجام ديا ہے_ حضرت على (ع) او رجناب ابوبكر اور جناب عمر اور جناب عثمان اس قسم كى بخشش سے نوازے گئے تھے_

بنابرين قوانين شرع اور اسلام كے لحاظ سے كوئي مانع موجود نہيں كہ رسول خدا(ص) فدك كى آراضى كو جناب زہراء (ع) كو بخش ديں، صرف اتنا مطلب رہ جائے گا كہ آيا جناب رسول خدا(ص) نے فدك جناب فاطمہ (ع) كو بخشا بھى تھا يا نہيں، تو اس كے اثبات كے لئے وہ اخبار اور روايات جو ہم تك پيغمبر(ص) كى پہنچى ہيں كافى ہيں كہ آپ نے فدك جناب فاطمہ (ع) كو بخش ديا تھا، نمونے كے طور پر ابوسعيد خدرى روايت كرتے ہيں كہ جب يہ آيت ''وات ذالقربى حقہ'' نازل ہوئي تو رسول خدا(ص) نے جناب فاطمہ (ع) سے فرمايا كہ فدك تمہارا مال ہے (7)_

عطيہ نے روايت كى ہے كہ جب يہ آيت ''وات ذالقربى حقہ'' نازل ہوئي تو جناب رسول خدا(ص) نے جناب فاطمہ (ع) كو اپنے پاس بلايا اور فدك آپ كو دے ديا (8)_

على (ع) بن حسين (ع) بن على (ع) بن ابى طالب (ع) فرماتے ہيں كہ رسول خدا(ص) نے فدك جناب فاطمہ (ع) كو دے ديا تھا(9)_

جناب امام جعفر صادق (ع) نے فرمايا ہے كہ جب يہ آيت ''وَ ات ذالقربى حقہ'' نازل ہوئي تو پيغمبر(ص) نے فرمايا كہ مسكين تو ميں جانتا ہوں يہ ''ذالقربى '' كون ہيں؟ جبرئيل نے عرض كى يہ آپ كے اقرباء ہيں پس رسول خدا(ص) نے امام حسن (ع) اور امام حسين (ع) اور جناب فاطمہ (ع) كو اپنے پاس بلايا اور فرمايا كہ اللہ تعالى نے دستور اور حكم ديا ہے كہ ميں تمہارا حق دوں اسى لئے فدك تم كو ديتا ہوں (10)_

ابان بن تغلب نے كہا ہے كہ ميں نے امام جعفر صادق (ع) كى خدمت ميں عرض كى كہ آيا رسول خدا(ص) نے فدك جناب فاطمہ (ع) كو ديا تھا؟ آپ (ع) نے فرمايا كہ فدك تو خدا كى طرف سے جناب فاطمہ (ع) كے لئے معين ہوا تھا (11)_

امام جعفر صادق (ع) نے فرمايا كہ جناب فاطمہ (ع) حضرت ابوبكر كے پاس آئيں اور ان سے فدك كا مطالبہ كيا_

جناب ابوبكر نے كہا اپنے مدعا كے لئے گواہ لاؤ، جناب ام ايمن گواہى كے لئے حاضر ہوئيں تو ابوبكر نے ان سے كہا كہ كس چيز گواہى ديتى ہو انہوں نے كہا كہ ميں گواہى ديتى ہوں كہ جبرئيل جناب رسول خدا(ص) كے پاس آئے اور عرض كى كہ اللہ تعاليى فرماتا ہے ''وَ ات ذالقربى حقہ'' پيغمبر(ص) نے جبرئيل سے فرمايا كہ خدا سے سوال كرو كہ ذى القربى كون ہيں؟ جبرئيل نے عرض كى كہ فاطمہ (ع) ذوالقربى ہيں پس رسول خا(ص) نے فدك كو دے ديا (11)_

ابن عباس نے روايت كى ہے كہ جب آيت ''وَ ات ذالقربى حقہ'' نازل ہوئي، جناب رسول خدا(ص) نے فدك جناب فاطمہ (ع) كو دے ديا (12)_

اس قسم كى روايات سے جو اس آيت كى شان نزول ميں وارد ہوئي ہيں مستفاد ہوتا ہے كہ جناب رسول خدا(ص) اللہ تعالى كى طرف سے مامور تھے كہ فدك كو بعنوان ذوالقربى فاطمہ (ع) زہراء (ع) كے اختيار ميں دے ديں تا كہ اس ذريعے سے حضرت على (ع) كى اقتصادى حالت ''كہ جس نے اسلام كے راستے ميں _ جہاد اور فداكارى كى ہے '' مضبوط رہے _

ممكن ہے كہ كوئي يہ اعتراض كرے كہ ذالقربى والى آيت كہ جس كا ذكر ان احاديث ميں ہوا ہے سورہ اسراء كى آيت ہے اور سورہ اسراء كو مكّى سورہ ميں شمار كيا جاتا ہے حالانكہ فدك تو مدينے ميں اور خيبر كى فتح كے بعد ديا گيا تھا ليكن اس كے جواب ميں دو مطلب ميں سے ايك كو اختيار كيا جائے گا اور كہا جائے گا گر چہ سورہ اسرى مكّى ہے مگر پانچ آيتيں اس كى مدينہ ميں نازل ہوئي ہيں_

آيت ''و لا تقتلوا النفس'' اور آيت ''و لا تقربوا الزنا'' اور آيت '' اولئك الذين يدعون'' اور آيت ''اقم الصلوة'' اور آيت ''ذى القربى '' (13)_

دوسرا جواب يہ ہے كہ ذى القربى كا حق تو مكہ ميں تشريع ہوچكا تھا ليكن اس پر عمل ہجرت كے بعد كرايا گيا _


فدك كے دينے كا طريقہ

ممكن ہے كہ جناب رسول خدا (ص) نے فدك فاطمہ (ع) كو دو طريقوں ميں سے ايك سے ديا ہو_ پہلا فدك كى آراضى كو آپ كا شخصى مال قرار دے ديا ہو_ دوسرا يہ كہ اسے على (ع) اور فاطمہ (ع) كے___ خانوادے پر جو مسلمانوں كى رہبرى اور امامت كا__ _ گھر تھا وقف كرديا ہو كہ يہ بھى ايك دائمى صدقہ اور وقف ہوجو كہ ان كے اختيار ميں ___س دے ديا ہو_

اخبار اور احاديث كا ظاہر پہلے طريقے كى تائيد كرتا ہے، ليكن دوسرا طريقہ بھى بعيد قرار نہيں دياگيا بلكہ بعض روايات ميں اس پر نص بھى موجود ہے جيسے ابان بن تغلب كہتے ہيں كہ ميں نے امام جعفر صادق عليہ السلام سے سوال كيا كہ كيا رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ و سلم نے فدك جناب فاطمہ (ع) كو بخش ديا تھا آپ نے فرمايا كہ پيغمبر(ص) نے فدك وقف كيا اور پھر آپ ذى القربى كے مطابق وہ آپ(ع) كے اختيار ميں دے ديا ميں نے عرض كى كہ رسول خدا(ص) نے فدك فاطمہ (ع) كو دے ديا آپ نے فرمايا بلكہ خدا نے وہ فاطمہ (ع) كو ديا (14)_

امام زين العابدين عليہ السلام نے فرمايا كہ رسول(ص) نے فاطمہ (ع) كو فدك بطور قطعہ ديا (15) _

ام ہانى نے روايت كى ہے كہ جناب فاطمہ (ع) جناب ابوبكر كے پاس آئيں اور ان سے كہا كہ جب تو مرے گا تو تيرا وارث كون ہوگا؟ جناب ابوبكر نے كہا ميرى آل و اولاد، جناب فاطمہ (ع) نے فرمايا پس تم كس طرح رسول اللہ كے ہمارے سوا وارث ہوگئے ہو، جناب ابوبكر نے كہا، اے رسول كى بيٹى خدا كى قسم ميں رسول اللہ (ص) كا سونے، چاندى و غيرہ كا وارث نہيں ہوا ہوں_ جناب فاطمہ (ع) نے كہا ہمارا خيبر كا حصہ اور صدقہ فدك كہاں گيا؟ انہوں نے كہا اے بنت رسول (ص) ميں نے رسول اللہ سے سنا ہے كہ آپ نے فرمايا كہ يہ تو ايك طمعہ تھا جو اللہ نے مجھے ديا تھا جب ميرا انتقال ہوجائے تو يہ مسلمانوں كا ہوگا(16)_

جيسا كہ آپ ملاحظہ كر رہے ہيں كہ ايك حديث ميں امام جعفر صادق (ع) تصريح فرماتے ہيں كہ فدك وقف تھا، دوسرى حديث ميں امام زين العابدين نے اسے قطعہ سے تعبير كيا ہے كہ جس كے معنى صرف منافع كا اسلامى او رحكومتى زمين سے حاصل كرنا ہوتا ہے، احتجاج ميں حضرت زہراء (ع) نے ابوبكر سے بعنوان صدقہ كے تعبير كيا ہے_

ايك اور حديث ميں جو پہلے گزرچكى ہے امام جعفر صادق (ع) نے فرمايا ہے كہ رسول خدا (ص) نے حسن (ع) و حسين (ع) اور فاطمہ (ع) كو بلايا اور فدك انہيں دے ديا_ اس قسم كى احاديث سے مستفاد ہوتا ہے كہ رسول خدا(ص) نے فدك كو خانوادہ فاطمہ (ع) و على (ع) پر جو ولايت اور رہبرى كا خانوادہ تھا اور اس كے منافع كو انہيں كے ساتھ مخصوص كرديا تھا_

''ليكن جن روايات ميں وقف و غيرہ كى تعبير آئي ہے وہ ان روايات كے مقابل كہ جن ميں بخش دينا آيا ہے بہت معمولى بلكہ ضعيف بھى شمار كى جاتى ہيں لہذا صحيح نظريہ يہى ہے كہ فدك جناب فاطمہ (ع) كى شخصى اور ذاتى ملك تھا جو بعد ميں ان كى اولاد كا ارث تھا_ صاحب كتاب اس قسم كى كوشش صرف ايك غرض كے ماتحت فرما رہے ہيں اور يہ غرض اہل علم پر كہ جنہوں نے نہج البلاغہ كى موجودہ زمانے ميں جو شرح كى گئي ہے كا مطالعہ كيا ہے مخفى نہيں ہے ليكن شارح بھى حق پر نہيں ہے اور ان كى تصحيح كى كوشش بھى درست نہيں ہے '' مترجم


فدك كے واقعہ ميں قضاوت

ديكھنا يہ چاہيئے كہ اس واقعہ ميں حق جناب زہراء (ع) كے ساتھ ہے يا جناب ابوبكر كے ساتھ؟ مورخين اور محدثين نے لكھا ہے كہ جناب رسول خدا (ص) كى وفات كے دس دن بعد جناب ابوبكر نے اپنے آدمى بھيجے اور فدك پر قبضہ كرليا (17)_

جب اس كى اطلاع جناب فاطمہ (ع) كو ہوئي تو آپ جناب ابوبكر كے پاس آئيں اور فرمايا كہ كيوں تيرے آدميوں نے ميرے فدك پر قبضہ كيا ہے؟ حكم دو كہ وہ فدك مجھے واپس كرديں، جناب ابوبكر نے كہا_ اے پيغمبر(ص) كى بيٹى آپ كے والد نے درہم اور دينار ميراث ميں نہيں چھوڑٹے آپ نے خود فرمايا ہے كہ پيغمبر(ص) ارث نہيں چھوڑا كرتے، جناب فاطمہ (ع) نے كہا كہ ميرے بابا نے فدك اپنى زندگى ميں مجھے بحش ديا تھا_ جناب ابوبكر نے كہا كہ آپ كو اپنے اس مدعا پر گواہ لانے چاہئيں پس على (ع) ابن ابى طالب اور جناب امّ ايمن حاضر ہوء اور گواہى دى كہ رسول خدا(ص) نے فدك فاطمہ (ع) كو بخش ديا تھا، ليكن جناب عمر اور عبدالرحمن بن عوف نے كہا كہ ہم گواہى ديتے ہيں كہ رسول خدا (ص) فدك كى آمدنى كو مسلمانوں ميں تقسيم كرديا كرتے تھے پس ابوبكر نے كہا اے رسول(ص) كى بيٹى تم سچ كہتى ہو اور على (ع) اور امّ ايمن بھى سچ كہتے ہيں اور عمر اور عبدالرحمن بھى سچ كہتے ہيں اس واسطے كہ آپ كا مال آپ كے والد تھا_ رسول خدا (ص) آپ كا آذوقہ فدك كى آمدنى سے ديا كرتے تھے اور باقى كو تقسيم كرديتے تھے اور راہ خدا ميں صرف كيا كرتے تھے (18)_

بلاذرى كہتے ہيں كہ جناب فاطمہ (ع) جناب ابوبكر كے پا س گئيں اور فرمايا كہ فدك ميرے والد نے ميرے سپرد كيا تھا وہ كيوں نہيں؟ جناب ابوبكر سنے گواہوں كا مضالبہ كيا پس على ابن ابى طالب اور جناب ام ايمن حاضر ہوئے اور گواہى دى جناب ابوبكر نے كہا تمہارے گواہوں كا نصاب ناقص ہے چاہيئے كہ دو مرد گواہى يا ايك مرد اور دو عورتيں گواہى ديں (19)

على ابن ابى طالب (ع) فرماتے ہيں كہ فا طمہ (ع) ابوبكر كے پاس گئيں اور فرمايا كہ ميرے والد نے فدك ميرے سپرد كيا تھا على (ع) اور امّ ايمن نے گواہى بھى دى تم كيوں مجھے ميرے حق سے محروم كرتے ہو_

جناب ابوبكر نے فرمايا كہ آپ سوائے حق كے اور كچھ نہيں فرماتيں فدك آپ كو ديتا ہوں پس فدك كو جناب فاطمہ (ع) كے لئے تحرير كرديا اور قبالہ آپ كے ہاتھ ميں دے ديا جناب فاطمہ (ع) نے وہ خط ليا اور باہر آگئيں راستے ميں جناب عمر نے آپ كو ديكھا اور پوچھا كہ كہاں سے آرہى ہيں؟ آپ نے فرمايا كہ ابوبكر كے يہاں گئي تھى اور ميں نے كہا كہ ميرے والد نے فدك مجھے بخشا تھا اور ام ايمن نے گواہى دى تھى لہذا انہوں نے فدك مجھے واپس كرديا ہے اور يہ اس كى تحرير ہے جناب عمر نے وہ تحرير لى اور جناب ابوبكر كے پاس آئے اور كہا كہ تم نے فدك تحرير كركے فاطمہ (ع) كو واپس كرديا ہے؟ انہوں نے كہا ہان، عمر نے كہا كہ على (ع) نے اپنے نفع كے لئے گواہى دى ہے اور امّ ايمن ايك عورت ہے اس كے بعد اس تحرير كو پھاڑ ڈالا (20)_

جناب فاطمہ (ع) نے ابوبكر سے كہا كہ امّ ايمن گواہى ديتى ہے كہ رسول خدا(ص) نے فدك مجھے بخش ديا تھا_ ابوبكر نے كہا اے دختر رسول (ص) ، خدا كى قسم ميرے نزديك رسول خدا(ص) سے زيادہ محبوب كوئي بھى نہيں ہے جب آپ وفات پاگئے تو ميرا دل چاہتا تھا كہ آسمان زمين پر گرپڑے، خدا كى قسم عائشےہ فقير ہو تو بہتر ہے كہ تم محتاج ہو_ كيا آپ خيال كرتى ہيں كہ ميں سرخ و سفيد كا حق تو ادا كرتا ہوں ليكن آپ كو آپ كے حق سے محروم كرتا ہوں؟ فدك پيغمبر(ص) كا شخصى مال نہ تھا بلكہ مسلمانوں كا عمومى مال تھا آپ كے والد اس كى آمدنى سے فوج تيار كرتے تھے اور خدا كى راہ ميں خرچ كرتے تھے، جب آپ(ص) دنيا سے چلے گئے تو اس كى توليت اور سرپرستى ميرے ہاتھ ميں آئي ہے (21)_

اس قسم كى گفتگو جناب فاطمہ (ع) اور جناب ابوبكر كے درميان ہوئي ليكن جناب ابوبكر نے جناب فاطمہ (ع) كى بات تسليم نہيں كى اور جناب زہراء (ع) كو ان كے حق سے محروم كرديا_

اہل علم و دانش اور منصف مزاج لوگوں پر مخفى نہيں كہ جناب ابوبكر كا عمل اور كردار قضاوت اور شہادت كے قوانين كے خلاف تھا اور آپ پر كئي جہات سے اعتراض وارد كئے جاسكتے ہيں_


پہلا اعتراض:

فدك جناب زہراء (ع) كے قبضہ ميں تھا تصرف ميں تھا اس ميں آپ سے گواہوں كا مطالبہ شريعت اسلامى كے قانوں كے خلاف تھا اس قسم كے موضوع ميں جس كے قبضے ميں مال ہو اس كا قول بغير كسى گواہ اور بيّنہ كے قبول كرنا ہوتا ہے، اصل مطلب كى ذى اليد كا قول بغير گواہوں كے قبول ہوتا ہے، يہ فقہى كتب ميں مسلم اور قابل ترديد نہيں ہے باقى رہا كہ جناب فاطمہ (ع) ذى اليد اور فدك پر قابض تھيں يہ كئي طريقے سے ثابت كيا جاسكتا ہے_

اول: جيسا كہ پہلے نقل ہوچكا ہے ابوسعيد خدري، عطيہ اور كئي دوسرے افراد نے گواہى دى تھى كہ رسول خدا (ص) نے اس آيت كے مطابق ''وَ ات ذالقربى حقہ'' فدك جناب فاطمہ (ع) كو دے ديا تھا، روايت ميں اعطى كا لفظ وارد ہوا ہے بلكہ اس پر نص ہے كہ جناب رسول خدا(ص) نے اپنى زندگى ميں فدك حتمى طور پر جناب فاطمہ (ع) كو بخش ديا تھا اور وہ آپ كے قبضہ اور تصرف ميں تھا_ دوسرے: حضرت على (ع) نے تصريح فرمائي ہے كہ فدك جناب فاطمہ (ع) كے تصرف اور قبضے ميں تھا جيسا كہ آپ نے نہج البلاغہ ميں فرمايا ہے كہ ہاں ہمارے پاس اس ميں سے كہ جس پر آسمان سايہ فگن ہے صرف فدك تھا، ايك گروہ نے اس پر بخل كيا اور دوسرا گروہ راضى ہوگيا اور اللہ ہى بہترين قضاوت كرنے والا ہے (22)_

تيسرے: امام جعفر صادق (ع) نے فرمايا ہے كہ جب جناب ابوبكر نے حكم ديا كہ فدك سے جناب فاطمہ (ع) كے آدميوں اور كام كرنے والوں كو نكال ديا جائے تو حضرت على (ع) ان كے پا س گئے اور فرمايا اے ابوبكر، اس جائداد كو كہ جو رسول خدا (ص) نے فاطمہ (ع) كو بخش دى تھى اور ايك مدت تك جناب فاطمہ (ع) كا نمائندہ پر قابض رہا آپ نے كيوں لے لى ہے؟ (23)_

رسول خدا(ص) كا فدك جناب فاطمہ (ع) كو بخش دينا اور جناب فاطمہ (ع) كا اس پر قابض ہونا يہ ايك تسليم شدہ حقيقت ہے، اسى لئے جب عبداللہ بن ہارون الرشيد كو مامون كى طرف سے حكم ملا كہ فدك جناب فاطمہ (ع) كى اولاد كو واپس كرديا جائے تو اس نے ايك خط ميں مدينہ كے حاكم كو لكھا كہ رسول خدا (ص) نے فدك جناب فاطمہ (ع) كو ديا تھا اور يہ بات آل رسول (ص) ميں واضح اور معروف ہے اور كسى كو اس بارے ميں شك نہيں ہے اب اميرالمومنين (مامون) نے مصلحت اسى ميں ديكھى ہے كہ فدك فاطمہ (ع) كے وارثوں كو واپس كرديا جائے (24)_

ان شواہد اور قرائن سے معلوم ہوتا ہے كہ فدك جناب رسول خدا(ص) كے زمانے ميں حضرت على (ع) اور جناب فاطمہ (ع) كے قبضے ميں تھا اس قسم كے موضوع ميں گواہوں كا طلب كرنا اسلامى قضا اور شہادت كے قانوں كے خلاف ہے_


دوسرا اعتراض:

جناب ابوبكر اس نزاع ميں جانتے تھے كہ حق جناب فاطمہ (ع) كے ساتھ اور خود_ انہيں جناب زہراء (ع) كى صداقت اور راست گوئي كا نہ صرف____ اعتراف تھا بلكہ تمام مسلمان اس كا اعتراف كرتے تھے كوئي بھى مسلمان آپ كے بارے ميں جھوٹ اور افتراء كا احتمال نہ ديتا تھا كيوں كہ آپ اہل كساء ميں سے ايك فرد تھيں كہ جن كے حق ميں آيت تطہير نازل ہوئي ہے كہ جس ميں خداوند عالم نے آپ كى عصمت اور پاكيزگى كى تصديق كى ہے_

دوسرى طرف اگر ديكھا جائے تو يہ مطلب كتاب قضا اور شہادت ميں ثابت ہے كہ اموال اور ديوں كے معاملے ميں اگر قاضى كو واقعہ كا علم ہو تو وہ اپنے علم كے مطابق عمل كرسكتا ہے او روہ گواہ اور بينہ كا محتاج نہ ہوگا، بنابراين جناب ابوبكر جب جانتے تھے كہ حضرت زہراء (ع) ، سچى ہيں اور رسول خدا(ص) نے فدك انہيں عطا كيا ہے تو آپ كو چاہيئے تھا كہ فوراً جناب زہراء (ع) كى بات تسليم كرليتے اور آپ سے گواہوں كا مطالبہ نہ كرتے_

جى ہاں مطلب تو يوں ہى ہے كہ جناب ابوبكر جانتے تھے كہ حق حضرت زہراء (ع) كے ساتھ ہے اور رسول خدا(ص) نے فدك ميں انہيں دے ديا ہے شايد ابوبكر پيغمبر(ص) كے اس عمل سے ناراض تھے اسى لئے جناب فاطمہ (ع) كے جواب ميں كہا كہ يہ مال پيغمبر اسلام كا نہ تھا بلكہ يہ مسلمانوں كا مال تھا كہ جس سے پيغمبر (ص) فوج تيار كرتے تھے اور جب آپ فوت ہوگئے تو اب ميں اس مال كا متولى ہوں جيسے كہ پيغمبر(ص) متولى تھے (25)_

ايك اور جگہ جناب ابوبكر نے اپنے آپ كو دوبڑے خطروں ميں ديكھا ايك طرف جناب زہراء (ع) مدعى تھيں كہ رسول خدا(ص) نے فدك انہيں بخشا ہے اور اپنے اس مدعا كے لئے دو گواہ على (ع) اور ام ايمن كو حاضر كيا اور جناب ابوبكر جانتے تھے كہ حق جناب زہراء (ع) كے ساتھ ہے اور انہيں اور ان كے گواہوں كو نہيں چھٹلا سكتے تھے اور دوسرى طرف سياست وقت كے لحاظ سے جناب عمر اور عبدالرحمن كو بھى نہيں جھٹلاسكتے تھے تو آپ نے ايك عمدہ چال سے جناب عمر كے قول كو ترجيح دى اور تمام گواہوں كے اقوال كى تصديق كردى اور ان كے اقوال ميں جمع كى راہ نكالى اور فرمايا كہ اے دختر رسول (ص) آپ سچى ہيں على (ع) سچے ہيں اور ام ايمن سچى ہيں اور جناب عمر اور عبدالرحمن بھى سچے ہيں، اس لئے كہ جناب رسول خدا(ص) فدك سے آپ كے آذوقہ كى مقدار نكال كر باقى كو تقسيم كرديتے تھے اور اسے خدا كى راہ ميں خرچ كرتے تھے اور آپ اس مال ميں كيا كريں گي؟ جناب فاطمہ (ع) نے فرمايا كہ وہى كروں گى جو ميرے والد كرتے تھے، جناب ابوبكر نے كہا كہ ميں قسم كھا كر آپ سے وعدہ كرتا ہوں كہ ميں بھى وہى كروں گا جو آپ كے والد كيا كرتے تھے (26)_

ايك طرف تو جناب ابوبكر جناب زہراء (ع) كے اس ادعا ''كہ فدك ميرا مال ہے'' كى تصديق كرتے ہيں اور حضرت على (ع) اور ام ايمن كى گواہوں كى بھى تصديق كرتے ہيں اور دوسرى طرف جناب عمر اور عبدالرحمن كے قول كي بھى انہوں نے كہا كہ رسول خدا فدك كو مسلمانوں ميں تقسيم كرديتے تھے تصديق كرتے ہيں اور اس وقت اپنے اجتہاد كے مطابق ان اقوال (توافق) جمع كر ديتے ہيں اور فرماتے ہيں كہ اس كى وجہ يہ تھى كہ آپ كا مال آپ كے والد كا مال تھا كہ جس سے آپ كا آذوقہ لے ليتے تھے اور باقى كو مسلمانوں ميں تقسيم كرديتے تھے اور خدا كى راہ ميں خرچ كرديتے تھے اس كے بعد جناب ابوبكر جناب فاطمہ (ع) سے پوچھتے ہيں كہ اگر فدك آپ كو دے ديا جائے تو آپ كيا كريں گي، آپ نے فرمايا كہ ميں اپنے والد كى طرح خرچ كروں گى تو فوراً جناب ابوبكر نے قسم كھا كر جواب ديا كہ ميں بھى وہى كروں گا جو آپ كے والد كيا كرتے تھے اور ميں آپ(ص) كى سيرت سے تجاوز نہ كروں گا_

ليكن كوئي نہ تھا كہ جناب ابوبكر سے سوال كرتا كہ جب آپ مانتے ہيں كہ فدك جناب زہراء (ع) كى ملك ہے اور آپ جناب فاطمہ (ع) اور ان كے گواہوں كى تصديق بھى كر رہے ہيں تو پھر ان كى ملكيت ان كو واپس كيوں نہيں كرديتے؟ جناب عمر اور عبدالرحمن كى گواہوں صرف يہى بتلانى ہے كہ پيغمبر(ص) فدك كو مسلمانوں ميں تقسيم كرديتے تھے، اس سے جناب زہراء (ع) كى ملكيت كى نفى تو نہيں ہوتى كيونكہ پيغمبر(ص) جناب زہراء (ع) كى طرف سے ماذون تھے كہ فدك كى زائد آمدنى كو راہ خدا ميں خرچ كرديں، ليكن اس قسم كى اجازت جناب فاطمہ (ع) نے ابوبكر كو تو نہيں دے ركھى تھى بلكہ اس كى اجازت ہى نہيں دى تو پھر ابوبكر كو كيا حق پہنچتا ہے كہ وہ يہ فرمائيں كہ ميں بھى آپ كے والد كى سيرت سے تجاوز نہ كروں گا، مالك تو كہتا ہے كہ ميرى ملكيت مجھے واپس كردو اور آپ اس سے انكار كر كے وعدہ كرتے ہيں كہ ميں بھى آپ كے والد كى طرح عمل كروں گا، سبحان اللہ اور آفرين اس قضاوت اور فيصلے پر_

 

تيسرا اعتراض:

فرض كيجئے كہ جناب ابوبكر حضرت زہراء (ع) كے گواہوں كے نصاب كو ناقص سمجھتے تھے اور ان كى حقانيت پر يقين بھى نہيں ركھتے تھے تو پھر بھى ان كا وظيفہ تھا كہ حضرت زہراء (ع) سے قسم كھانے كا مطالبہ كرتے اور ايك گواہ اور قسم كے ساتھ قضاوت كرتے كيوں كہ كتاب قضا اور شہادت ميں يہ مطلب پايہ ثبوت كو پہنچ چكا ہے كہ ام وال اور ديون كے واقعات ميں قاضى ايك گواہ كے ساتھ مدعى سے قسم لے كر حكم لگا سكتا ہے، روايت ميں موجود ہے كہ رسول خدا (ص) ايك گواہ كے ساتھ قسم ملا كر قضاوت اور فيصلہ كرديا كرتے تھے (27)_


چوتھا اعتراض:

اگر ہم ان سابقہ تمام اعتراضات سے صرف نظر كرليں تو اس نزاع ميں جناب فاطمہ (ع) مدعى تھيں كہ رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ نے فدك انہيں بخش ديا ہے اور جناب ابوبكر منكر تھے اور كتب فقہى ميں يہ مطلب مسلم ہے كہ اگر مدعى كا ثبوت ناقص ہو تو قاضى كے لئے ضرورى ہوجاتا ہے كہ مدعى كو اطلاع دے كہ تمہارے گواہ ناقص ہيں اور تمہيں حق پہنچتا ہے كہ تم منكر سے قسم اٹھانے كا مطالبہ كرو، لہذا جناب ابوبكر پر لازم تھا كہ وہ جناب زہراء (ع) كو تذكر ديتے كہ چونكہ آپ كے گواہ ناقص ہيں اگر آپ چاہيں تو چونكہ ميں منكر ہوں آپ مجھ سے قسم اٹھوا سكتى ہيں، ليكن جناب ابوبكر نے قضاوت كے اس قانون كو بھى نظرانداز كيا اور صرف گواہ كے ناقص ہونے كے ادعا كو نزاع كے خاتمہ كا اعلان كر كے رد كرديا_

 

پانچواں اعتراض:

اگر فرض كرليں كہ جناب زہراء (ع) كى حقانيت اس جگھڑے ميں جناب ابوبكر كے نزديك ثابت نہيں ہوسكى تھى ليكن پھر بھى فدك كى آراضى حكومت اسلامى كے مال ميں تھي، مسلمانوں كے حاكم اور خليفہ كو حق پہنچتا تھا كہ وہ عمومى مصلحت كا خيال كرتے، جب كہ آپ اپنے كو مسلمانوں كا خليفہ تصور كرتے تھے، فدك كو بعنوان اقطاع جناب فاطمہ (ع) دختر پيغمبر(ص) كو دے ديتے اور اس عمل سے ايك بہت بڑا اختلاف جو سالہا سال تك مسلمانوں كے درميان چلنے والا تھا اس كے تلخ نتائج كا سد باب كرديتے_

كيا رسول خدا(ص) نے بنى نضير كى زمينيں جناب ابوبكر اور عبدالرحمن بن عوف اور ابو دجانہ كو نہيں دے دى تھيں (28) _

كيا بنى نضير كى زمين مع درختوں كے زبير بن عوام كو پيغمبر(ص) اسلام نے نہيں دے دى تھيں (29)_

كيا معاويہ نے اسى فدك كا تہائي حصہ كے عنوان سے مروان بن الحكم اور ايك تہائي جناب عمر بن عثمان كو اور ايك تہائي اپنے بيٹے يزيد كو نہيں دے ديا تھا (30)_

كيا يہ بہتر نہ تھا كہ جناب ابوبكر بھى اسى طرح دختر پيغمبر(ص) كو دے ديتے اور اتنے بڑے خطرے اور نزاع كو ختم كرديتے؟

 

چھٹا اعتراض:

اصلاً جناب ابوبكر كا اس نزاع ميں فيصلہ اور قضاوت كرنا ہى ازروئے قانون قضاء اسلام درست نہ تھا كيونكہ جناب زہراء (ع) اس واقعہ ميں مدعى تھيں اور جناب ابوبكر منكر تھے، اس قسم كے موارد ميں يہ فيصلہ كسى تيسر آدمى سے _ كرانا چاہيئے تھا، جيسے كہ پيغمبر(ص) اور حضرت على (ع) اپنے نزاعات ميں اپنے علاوہ كسى اور قاضى سے فيصلہ كرايا كرتے تھے يہ نہيں ہوسكتا تھا كہ جناب ابوبكر خود ہى منكر ہوں او رخود ہى قاضى بن كر اپنے مخالف سے گواہ طلب كريں اور اپنى پسند كا فيصلہ اور قضاوت خود ہى كرليں_

ان تمام مطالب سے يہ امر مستفاد ہوتا ہے كہ فدك كے معاملے ميں حق جناب زہراء (ع) كے ساتھ تھا اور جناب ابوبكر نے عدل اور انصاف كے راستے سے عدول كر كے ان كے حق ميں تعدى اور تجاوز سے كام ليا تھا_

 

1) سورہ حشر آيت 6_
2) شرح ابن ابى الحديد، ج 16 ص 217_
3) فتوح البلدان، ص 21_
4) فتوح البلدان، ص 34_
5، 6) فتوح البلدان، ص 27
7) كشف الغمہ، ج 2 ص 102_ در منثور، ج 4 ص 177_
8،9) كشف الغمہ ج 2 ص 102_
10، 11) تفسير عياشى ج 2 ص 270_
11) تفسير عياشي، ج 2 ص 287_
12) در منثور، ج 4 ص 177_
13) تفسير الميزان تاليف استاد بزرگ علامہ طباطبائي ج 13 ص 2_
14) بحار الانوار، ج 96 ص 213_
15) كشف الغمہ، ج 2 ص 102_
16) فتوح البلدان، ص 44_
17) شرح ابن ابى الحديد، ج 16 ص 263_
18) شرح ابن ابى الحديد، ج 16 ص 216_
19) فتوح البلدان، ص 44_
20) شرح ابن ابى الحديد، ص 16 ص 274_
21) شرح ابن ابى الحديد، ج 16 ص 214_
22) نہج البلاغہ باب المختار من الكتاب، كتاب 45_
23) نورالثقلين، ج 4 ص 272_
24) فتوح البلدان، ص 46_
25) شرح ابن ابى الحديد، ج 16 ص 214_
26) شرح ابن ابى الحديد، ج 16 ص 216_
27) مجمع الزوائد، ج 3 ص 202 _
28) فتوح البلدان، ص 31_
29) فتوح البلدان، ص 34_
30) شرح ابن ابى الحديد، ج 16 ص 216_