اختلاف اور نزاع كا موضوع

اختلاف اور نزاع كا موضوع

جو لوگ اس بحث ميں وارد ہوئے ہيں اكثر نے صرف فدك كے اطراف ميں بحث كى ہے كہ گويا نزاع اور اختلاف كا موضوع صرف فدك ميں منحصر ہے اسى وجہ سے يہاں پر كافى اشكالات اور ابہام پيدا ہوگئے ہيں ليكن جب اصلى مدارك كا مطالعہ كيا جائے تو معلوم ہوگا كہ اختلاف كا موضوع صرف فدك ميں منحصر نہيں ہے بلكہ بعض دوسرے امور ميں بھى اختلاف اور نزاع موجود ہے _ مثلاً:

جناب عائشےہ نے نقل كيا ہے كہ فاطمہ (ع) نے كسى كو ابوبكر كے پاس بھيجا اور اپنے باپ كى ميراث كا مطالبہ كيا، جناب فاطمہ (ع) نے اس وقت كئي چيزوں كا مطالبہ كيا تھا_ اول: پيغمبر (ص) كے وہ اموال جو مدينہ ميں موجود تھے_ دوم: فدك_ سوم: خيبر كا باقيماندہ خمس_ جناب ابوبكر نے جناب فاطمہ (ع) كو جواب بھجوايا كہ پيغمبر (ص) نے فرمايا ہے كہ ہم ميراث نہيں چھوڑتے جو كچھ ہم سے باقى رہ جائے وہ صدقہ ہوگا اور آل محمد بھى اس سے ارتزاق كرسكيں گے_

خدا كى قسم ميں رسول خدا(ص) كے صدقات كو تغيير نہيں دوں گا اور اس كے مطابق_ عمل كروں گا_ جناب ابوبكر تيار نہ ہوئے كہ كوئي چيز جناب فاطمہ كو ديں اسى لئے جناب فاطمہ (ع) ان پر غضبناك ہوئيں اور آپ نے كنارہ كشى اختيار كرلى اور وفات تك ان سے گفتگو اور كلام نہ كيا (1)_
 

ابن ابى الحديد لكھتے ہيں كہ جناب فاطمہ (ع) نے جناب ابوبكر كو پيغام ديا كہ كيا تم رسول خدا (ص) كے وارث يا ان كے رشتہ دار اور اہل ہو؟ جناب ابوبكر نے جواب ديا كہ وارث ان كے اہل اور رشتہ دار ہيں جناب فاطمہ (ع) نے فرمايا كہ پس رسول خدا (ص) كا حصہ غنيمت سے كہاں گيا؟ جناب ابوبكر نے كہا كہ ميں نے آپ كے والد سے سنا ہے كہ آپ (ص) نے فرمايا ہے كہ خدا نے پيغمبر (ص) كے لئے طعمہ (خوارك) قرار ديا ہے اور جب اللہ ان كى روح قبض كرليتا ہے تو وہ مال ان كے خليفہ كے لئے قرار دے ديتا ہے ميں آپ كے والد كا خليفہ ہوں مجھے چاہيئے كہ اس مال كو مسلمانوں كى طرف لوٹا دوں (2)_

عروہ نے نقل كيا ہے كہ حضرت فاطمہ (ع) كا اختلاف اور نزاع جناب ابوبكر سے فدك اور ذوى القربى كے حصّے كے مطالبے كے سلسلے ميں تھا ليكن جناب ابوبكر نے انہيں كچھ بھى نہ ديا اور ان كو خدا كے اموال كا جز و قرار دے ديا (3)_

جناب حسن بن على بن ابى طالب فرماتے ہيں كہ جناب ابوبكر نے جناب فاطمہ (ع) اور بنى ہاشم كو ذوى القربى كے سہم اور حصے سے محروم كرديا اور اسے سبيل اللہ كا حصہ قرار دے كر ان سے جہاد كے لئے اسلحہ اور اونٹ اور خچر خريدتے تھے (4)_

ان مطالب سے معلوم ہوجائے گا كہ حضرت فاطمہ (ع) فدك كے علاوہ بعض دوسرے موضوعات ميں جيسے رسول خدا كے ان اموال ميں جو مدينے ميں تھے اور خبير كے خمس سے جو باقى رہ گيا تھا اور غنائم سے رسول خدا(ص) كے سہم اور ذوى القربى كے سہم ميں بھى جناب ابوبكر كے ساتھ نزاع ركھتى تھيں ليكن بعد ميں يہ مختلف موضوع خلط ملط كرديئے گئے كہ جن كى وجہ سے جناب فاطمہ (ع) كے اختلاف اور نزاع ميں ابہامات اور اشكالات رونما ہوگئے حقيقت اور اصل مذہب كے واضح اور روشن ہوجانے كے لئے ضرورى ہے كہ تمام موارد نزاع كو ايك دوسرے سے عليحدہ اور جدا كيا جائے اور ہر ايك ميں عليحدہ بحث اور تحقيق كى جائے_

 

1) شرح ابن ابى الحديد، ج 16 ص 217_
2) شرح ابن ابى الحديد، ج 16 ص 219_
3) شرح ابن ابى الحديد، ج 16 ص 231_
4) شرح ابن ابى الحديد، ج 16 ص 231_