پيغمبر (ص) كے شخصى اموال

پيغمبر (ص) كے شخصى اموال

پيغمبر (ص) كى كچھ چيزيں اور مال ايسے تھے جو آپ كى ذات كے ساتھ مخصوص تھے اور آپ ہى اس كے مالك تھے جيسے مكان اور اس كا وہ كمرے كہ جس ميں آپ (ص) اور آپ(ص) كى ازواج رہتى تھيں آپ كى شخصى لباس اور گھر كے اسباب جيسے فرش اور برتن و غيرہ، تلوار، زرہ، نيزہ، سوارى كے حيوانات جيسے گھوڑا، اونٹ، خچر اور وہ حيوان جو دودھ ديتے تھے جيسے گوسفند اور گائے و غيرہ_ ان تمام چيزوں كے پيغمبر اسلام مالك تھے اور يہ چيزيں احاديث اور تاريخ كى كتابوں ميں تفصيل كے ساتھ درج ہيں (1)_

بظاہر اس ميں كوئي شك نہ ہوگا كہ يہ تمام چيزيں آپ كى ملك تھيں اور آپ كى وفا كے بعد يہ اموال آپ كے ورثا كى طرف منتقل ہوگئے_ حسن بن على و شاء كہتے ہيں كہ ميں نے امام رضا عليہ السلام كى خدمت ميں عرض كى كہ كيا رسول خدا(ص) نے فدك كے علاوہ بھى كوئي مال چھوڑ تھا؟ تو آپ نے فرمايا، ہاں، مدينہ ميں چند باغ تھے جو وقف تھے اور چھ گھوڑے تين عدد ناقہ كہ جن كے نام عضباء اور صہبا، اور ديباج تھے، دو عدد خچر جن كا نام شہبا، اور دلدل تھا، ايك عدد گدھا بنام يعفور، دو عدد دودھ دينے والى گوسفند، چاليس اونٹياں دودھ دينے والي، ايك تلوار ذوالفقار نامي، ايك زرہ بنا م ذات الفصول عمامہ بنام سحاب، دو عدد عبا، كئي چمڑے كے تكئے_ پيغمبر(ص) يہ چيزيں ركھتے تھے آپ كے بعد يہ تمام چيزيں جناب فاطمہ (ع) كى طرف سوائے زرہ، شمشير، عمامہ اور انگوٹھى كے منتقل ہوگئيں تلوار، زرہ، عمامہ اور انگوٹھى حضرت على (ع) كو ديئے گئے (2)_

پيغمبر(ص) كے وارث آپ كى ازواج او رجناب فاطمہ زہراء (ع) تھيں_ تاريخ ميں اس كا ذكر نہيں آيا كہ پيغمبر (ص) كے ان اموال كو ان كے ورثا ميں تقسيم كيا گيا تھا ليكن بظاہر اس ميں كوئي شك نہيں كہ آپ كے امكانات آپ كى ازواج ہى كو دے ديئے گئے تھے كہ جن ميں وہ آپ كے بعد رہتى رہيں، بعض نے يہ كہا ہے كہ پيغمبر اكرم (ص) نے اپنى زندگى ميں يہ مكانات اپنى ازواج كو بخش ديئے تھے اور اس مطلب كو ثابت كرنے كے لئے اس آيت سے استدلال كيا گيا ہے_

''و قرن فى بيوتكن وَلا تبرّجن تبرّج الجاہلية الاولى '' (3)

گہا گيا ہے كہ خداوند عالم نے اس آيت ميں حكم ديا ہے كہ اپنے گھروں ميں رہتى رہو اور جاہليت كے دور كى طرح باہر نہ نكلو_ اس سے معلوم ہوتا ہے كہ وہ گھر ان كے تھے تب تو اس ميں رہنے كا حكم ديا گيا ہے ورنہ حكم اس طرح ديا جاتا كہ تم پيغمبر(ص) كے گھروں ميں رہتى ہو، ليكن اہل تحقيق پر يہ امر پوشيدہ نہيں كہ يہ آيت اس مطلب كے ثابت كرنے كے لئے كافى نہيں ہے كيوں كہ اس طرح كى نسبت دے دينا عرفى گفتگو ميں زيادہ ہوا كرتى ہے اور صرف كسى چيز كا كسى طرف منسوب كردينا اس كے مالك ہونے كى دليل نہيں ہوا كرتا_ مرد كى ملك كو اس كى بيوى اور اولاد كى طرف منسوب كيا جاتا ہے اور كہا جاتا ہے تمہارا گھر، تمہارا باغ، تمہارا فرش، تمہارے برتن حالانكہ ان تمام كا اصلى مالك ان كا باپ يا شوہر مرد ہوا كرتا ہے_ كسى چيز كو منسوب كرنے كے لئے معمولى سى مناسبت بھى كافى ہوا كرتى ہے جيسے كرائے پر مكان لے لينا يا اس ميں رہ لينے سے بھى كہاجاتا ہے تمہارا گھر، چونكہ پيغمبر(ص) نے ہر ايك بيوى كے لئے ايك ايك كمرہ مخصوص كر ركھا تھا اس لئے كہا جاتا تھا جناب عائشےہ كا گھر يا جناب ام سلمہ كا گھر يا جناب زينب كا گھر يا جناب ام حبيبہ كا گھر لہذا اس آيت سے يہ مستفاد نہيں ہوگا كہ پيغمبر اكرم(ص) نے يہ مكانات ان كو بخش ديئے تھے_ اس كے علاوہ اور كوئي بھى دليل موجود نہيں جو يہ بتلائے كہ يہ مكان ان كى ملك ميں تھا، لہذا كہنا پڑے گا كہ ازدواج نے يا تو مكانات اپنے ارث كے حصے كے طور پر لے ركھے تھے يا اصحاب نے پيغمبر(ص) كے احترام ميں انہيں وہيں رہنے ديا جہاں وہ پيغمبر(ص) كى زندگى ميں رہ رہيں تھي_ جناب فاطمہ (ع) ان مكانوں كے ورثاء ميں سے ايك تھيں آپ نے بھى اسى لحاظ سے اپنے حق كا ان سے مطالبہ نہيں كيا اور انہى كو اپنا حصہ تا حيات ديئےكھا_ خلاصہ اس ميں كسى كو شك نہيں كرنا چاہيئے كہ رسول خدا(ص) نے اس قسم كے اموال بھى چھوڑے ہيں جو ور ثاء كى طرف منتقل ہوئے اور ان كو قانون وراثت اور آيات وراثت شامل ہوئيں_

1) مناقب شہر ابن آشوب، ج 1 ص 168 _ كشف الغمہ، ج 2 ص 122_
2) كشف الغمہ، ج 2 ص 122_
3) سورہ احزاب آيت 33_