حصّہ دوم معاد

حصّہ دوم معاد


پہلا سبق
كيا اچھائي اور برائي برابر ہيں


آپ اچھے اور برے كے معنى سمجھتے ہيں اچھے اور برے انسان ميں فرق كرسكتے ہيں جو انسان عدل چاہنے والا سچا، نيك كردار، صحيح با ادب، اور امين ہوا سے اچھا انسان شمار كرتے ہيں، ليكن بد اخلاق، جھوٹا، بدكردار، ظالم بے ادب خائن انسان كو برا انسان سمجھتے ہيں كيا آپ كے نزديك برے اور اچھے انسان مساوى اور برابر ہيں_ كيا آپ اور تمام لوگ اچھے انسانوں كو دوست ركھتے ہيں اور برے آدميوں سے بيزار ہيں خدا بھى اچھے كردار والے آدميوں كو دوست ركھتا ہے اور برے انسانوں سے وہ بيزار ہے اسى لئے اللہ تعالى نے پيغمبر(ص) بھيجے ہيں تا كہ اچھے كاموں كى دعوت ديں اور برے كاموں سے روكيں
اب ان سوالوں كے جواب ديں_ كيا اچھے لوگوں كے لئے كوئي جزا ہوگى اور برے لوگ اپنے اعمال بد كى سزا پائيں گے؟
كيا اچھے اور برے لوگ اس جہاں ميں اپنے اعمال كى پورى اور كامل جزا اور سزا پاليتے ہيں؟
پس اچھے اور برے كہاں ايك دوسرے سے جدا ہوں گے اور كہاں اپنے اعمال كا پورا اور كامل نتيجہ ديكھ سكيں گے؟
اس دنيا كے بعد ايك اور دنيا ہے جسے آخرت كہا جاتا ہے كہ جہاں اچھے اور برے لوگ ايك دوسرے سے جدا ہوں گے اور اپنے اعمال كا ثمرہ پائيں گے اگر آخرت نہ ہو تو اچھے لوگ كس اميد ميں اچھا كام كريں اور كس لئے گناہ اور برائي سے دور ہيں_ اگر آخرت نہ ہو تو پيغمبروں كى دعوت بے مقصد اور بيہودہ ہوگى اچھائي اور برائي كے كوئي معنى نہ ہوں گے اگر آخرت ہمارے سامنے نہ ہو تو ہمارى زندگى بے نتيجہ اور ہمارى خلقت بھى بے معنى ہوگي_ كيا عليم و قادر خدا نے ا س لئے ہميں پيدا كيا ہے كہ چند دن اس دنيا ميں زندہ رہيں؟ يعنى كھائيں پئيں، پہنيں، سوئيں اور پھر مرجائيں اور اس كے بعد كچھ بھى نہيں يہ تو ايك بے نتيجہ اور بے معنى كام ہے اور اللہ تعالى بے معنى اور بے فائدہ كام انجام نہيں ديتا_ اللہ تعالى قرآن مجيد ميں ارشاد فرماتا ہے ''ہم نے تمہيں عبث خلق نہيں كيا ہم نے تم كو پيدا كيا ہے تا كہ اس دنيا ميں زندگى گزار و اچھے كام انجام دو اور لائق و كامل بن جاؤ اس كے بعد ہم تم كو اس دنيا سے ايك دوسرى دنيا كى طرف لے جائيں گے تا كہ اس دنيا ميں اپنے كاموں كا كامل نتيجہ پاؤ''
آخرت ميں اچھے بروں سے جدا ہوجائيں گے جو لوگ نيك كام انجام ديتے رہے اور دين دار تھے وہ بہشت ميں جائيں گے اور خوشى كى زندگى بسر كريں گے اللہ ان سے راضى ہے اور وہ بھى اپنى اچھى زندگى اور اللہ كى بے پاياں نعمتوں سے خوشنود اور راضى ہيں بے دين اور بد كردار لوگ دوزخ ميں جائيں گے اور اپنے برے كاموں كى سزا پائيں گے اللہ ان پر ناراض ہے اور وہ دردناك عذاب كى زندگى بسر كريں گے اور ان كے لئے بہت سخت زندگى ہوگي

غور كيجئے اور جواب ديجئے

1)___ كون لوگ اچھے ہيں او ركون لوگ برے، ان صفات كو شمار كيجئے
2)___ كيا برے اور اچھے لوگ آپ كے نزديك مساوى ہيں؟
3)___ كيا برے اور اچھے لوگ خدا كى نزديك برابر ہيں؟
4)___ پيغمبر(ص) لوگوں كو كن كاموں كى طرف دعوت ديتے ہيں اور كن كاموں سے روكتے ہيں؟
5)___ كيا لوگ اس دنيا ميں اپنے اعمال كى كامل جزاء پاتے ہيں؟
6)___ كہاں اپنے اعمال كا كامل نتيجہ ديكھيں گے؟
7)___ اگر آخرت نہ ہو تو اچھائي اور برائي كا كوئي معقول اور درست معنى ہوگا
8)___ اگر آخرت نہ ہو تو ہمارى زندگى كا كيا فائدہ ہوگا؟
9)___ جب ہم سمجھ گئے كہ اس دنيا كے علاوہ ايك اور دنيا ہے تو ہم كس طرح زندگى گزاريں؟
 

دوسرا سبق
پھول كى تلاش


ہمارے خاندان كے كچھ لوگ مرى كے اطراف ميں ايك ديہات ميں رہتے ہيں وہ ديہات بہت خوبصورت ہے وہاں كى آب و ہوا معتدل ہے اس كے نزديك ايك پہاڑ ہے كہ جس كا دامن سرخ اور زرد پھولوں سے بھرا ہوا ہے_
ايك دن ميرے رشتہ دار بچّے ميرے چچا كے گھر بيٹھے تھے عيد الاضحى كا دن تھا_ ہم چاہتے تھے كہ كمرے كو پھولوں سے سجائيں ميرے والد نے مجھ سے كہا كہ چليں پھول ڈھونڈ لائيں اور اس كام ميں ايك دوسرے كا مقابلہ كريں_
ميں نے پوچھا كس طرح؟
والد نے كہا كہ تم تمام كے تمام پہاڑ كے دامن ميں جاؤ وہاں بہت زيادہ پھول موجود ہيں پھول توڑو اور لوٹ آؤ ليكن خيال كرنا كہ پھولوں كى جڑوں كو ضرر نہ پہنچے مقابلہ كا وقت ايك گھنٹہ ہے تمام اس مقابلہ ميں شريك ہو جاؤ پھول توڑو اور لوٹ آو جو زيادہ پھول لائے گا وہ زيادہ انعام پائے گا تمام بچّے مقابلہ ميں شريك ہونے كے لئے آمادہ ہوگئے_
صبح كو ٹھيك سات بجے مقابلہ شروع ہوا كچھ بچے تو اس ديہات كے اطراف ميں ہى رہ گئے اور كہنے لگے كہ راستہ دور ہے اور ہم تھك جائيں گے تم بھى يہيں رك جاؤ اور ہم ہميں مل كر كھيليں ليكن ہم نے ان كى باتوں پر كان نہ دھرا اور چلے گئے راستے ميں دوڑتے اور ايك دوسرے سے آگے نكلتے تھے تا كہ پھولوں تك جلدى پہنچ جائيں راستہ دشوار آگيا بعض بچّے ٹھہر گئے آگے نہ بڑھے او ركہنے لگے كہ ہم يہيں سے پھول توڑيں گے_
ميں ميرا بھائي اور چچا كا بيٹا سب سے پہلے پہاڑ كے دامن ميں پہنچ گئے كتنى بہترين اور خوبصورت جگہ تھى زرد اور سرخ پھولوں سے بھرى پڑى تھي_ ہم تينوں نے فيصلہ كيا كہ ايك دوسرے كى مدد كريں اور اكھٹے پھول توڑيں ميں اور چچا كا لڑكا پھول توڑنے تھے اور اپنے بھائي كے دامن ميں ڈال ديتے تھے اس كا دامن پھولوں سے بھر گيا گھڑى ديكھى تو مقابلہ كا وقت ختم ہونے كے قريب تھا گھر كى طرف لوٹے دوسرے بچّے بھى لوٹ آئے تھے اور جانتے تھے كہ انہيں بہترين انعام ملے گا اور جو تھوڑے پھول توڑ لائے تھے خوش نہ تھے كيوں كہ جانتے تھے كہ مقابلہ ميں بہتر مقام نہيں لے سكيں گے اور بہترين انعام حاصل نہيں كرسكيں گے اور جو خالى ہاتھ لوٹ آئے تھے شرمسار اور سرجھكائے ہوئے تھے والد كے پاس پہنچے جس نے جتنے پھول توڑے تھے انہيں دے ديئے اور انعام ليا ليكن جنہوں نے سستى كى تھى اور والد كے فرمان پر عمل نہيں كيا تھا انہوں نے انعام حاصل نہيں كيا بلكہ شرمسار تھے ان سے والد صاحب بھى خوش نہيں ہوئے اور ان كى كوئي پرواہ نہ كى وہ سرجھكائے اپنے آپ كو كہہ رہے تھے كاش ہم بھى كوشش كرتے كاش دوبارہ مقابلہ شروع ہو ليكن مقابلہ ختم ہوچكا تھا

جزاء كا دن


مقابلہ كے ختم ہوجانے كے بعد ہمارے والد نے ہم سے گفتگو كرنا شروع كى او ركہا '' ميرے عزيز اور پيارے بچّو مقابلہ كے انعقاد كے لئے ميرا نظريہ كچھ اور تھا ميں اس سے تمہيں سمجھنا چاہتا تھا كہ يہ جہان مقابلہ كا جہان ہے_ ہم تمام اس جہان ميں مقابلہ كرنے آئے ہيں اور قيامت كے دن اس كا انعام اور جازء حاصل كريں گے ہمارا مقابلہ نيك كاموں اور اچھے اعمال ميں ہے_ اچھے اور برے كام كى جزاء اور سزا ہے اچھے اور برے لوگ اللہ كے نزديك برابر نہيں _ ہمارى خلقت اور كام و كوشش كرنا بے معنى اور بے فائدہ نہيں لوگوں كا ايك گروہ اللہ تعالى كے فرمان كا مطيع اور فرمانبردار ہے نيك كاموں كا بجالانے ميں كوشش كرتا ہے وہ ہميشہ اللہ كى ياد ميں ہے اچھے اور صالح لوگوں سے دوستى كرتا ہے ان كى راہنمائي ميں بہت زيادہ اچھے كام انجام ديتا ہے نيك كاموں ميں سبقت لے جاتا ہے اپنے دوستوں اور ہمسايوں كى مدد كرتا ہے مظلوموں كى حمايت كرتا ہے
يہ لوگ آخرت ميں بہترين انعام اور جزاء پائيں گے خدا ان سے خوش ہوگا اور وہ بھى خدا سے انعام لے كر خوش ہوں گے سب سے پہلے بہشت ميں جائيں گے اور بہشت كے بہترين باغ ميں اپنے دوستوں كے ساتھ خوش و خرّم زندگى بسر كرين گے ہميشہ اللہ تعالى كى تازہ نعمتوں اور اس كى پاك محبت سے مستفيد ہوں گے، اور لذت اٹھائيں گے_ ايك اور گروہ اس جہان ميں اچھے كام انجام ديتا ہے وہ اچھے كاموں ميں مدد بھى كرتا ہے اور اللہ كو ياد بھى كرتا ہے ليكن پہلے گروہ كى طرح كوشش نہيں كرتا اور سبقت لے جانے كے درپے نہيں ہوتا يہ بھى قيامت كے دن انعام او رجزاء پائيں گے اور بہشت ميں جائيں گے ليكن ان كا انعام او رجزاء پہلے گروہ كى طرح نہيں ہوگا_ تيسرا گروہ ظالم اور بے دنيوں كا ہے وہ اللہ اور اس كے پيغمبر(ص) كے فرمان كو قبول نہيں كرتا اور اس پر عمل نہيں كرتا_ وہ خدا كو بھول گيا ہے، اچھے كام انجام نہيں ديتا، گناہ گار اور بداخلاق، اور بدكردار ہے لوگوں پر ظلم كرتا ہے اور يہ گروہ خالى ہاتھ آخرت ميں سامنے آئے گا اچھے كام اپنے ساتھ نہيں لائے گا اپنے برے افعال اور ناپسنديدہ اعمال سے شرمندہ ہوگا_
جب اچھے لوگ انعام پائيں گے تو يہ افسوس كرے گا اور پشيمان ہوگا اور كہے گا_ كاش دنيا ميں پھر بھيجا جائے تا كہ وہ نيك كام بجالائے ليكن افسوس كہ دوبارہ لوٹ جانا ممكن نہيں ہوگا اس گروہ كے لوگ جہنم ميں جائيں گے اور اپنے برے كاموں كى سزا پائيں گے_


غور كيجئے اور جواب ديجئے


1)___ كيا ہمارى خلقت و كوشش بغير كسى غرض اور غايت كے ہے اور كيا ہم ان كاموں اور كوششوں سے كوئي نتيجہ بھى ليں گے؟
2)___ يہ جہان مقابلہ كى جگہ ہے، سے كيا مراد ہے؟
3)___ متوجہ اور آگاہ انسان اس دنيا ميں كن كاموں كى تلاش ميں اور كن كاموں ميں مقابلہ كر رہا ہے؟
4)___ كون لوگ آخرت ميں بہترين انعام پائيں گے؟
5)___ ان لوگوں نے دنيا ميں كيا كيا ہے؟
6)___ ان كے اعمال اور كردار كيسے تھے، ان كے دوست كيسے تھے كن كاموں ميں مقابلہ كرتے تھے؟
7)___ آپ كى رفتار اور آپ كا كردار كيسے ہے، آپ كے دوستوں كا كردار كيسا ہے، كن كاموں ميں ايك دوسرے سے آگے بڑھنے كى كوشش كرتے ہيں اگر آپ كا كوئي دوست آپكو كسى ناپسنديدہ كام كى دعوت دے تو پھر بھى اس سے دوستى ركھتے ہيں؟
8)___ كون لوگ قيامت كے دن شرمندہ ہوں گے كيوں افسوس كريں گے يہ لوگ اس دنيا ميں كيسا كردار تھے ہيں؟
9)___ دوسرے گروہ كا انعام اور جزاء كا پہلے گروہ كے انعام اور جزائ


سے كيا فرق ہے اور كيوں؟

ان سوالوں كے جواب خوش خط لكھيں

 

تيسرا سبق
جہان آخرت عالم برزخ اور قيامت


مرنے كے بعد فنا نہيں ہوتے بلكہ اس جہان سے دوسرى دنيا كى طرف جاتے ہيں كہ جس كا نام جہان آخرت ہے، آخرت سے پہلے عالم برزخ ہے اور اس كے بعد قيامت ہے عالم برزخ ايك دنيا ہے جو دنيا و آخرت كے درميان ميں واقع ہے_خداوند عالم قرآن مجيد ميں ارشاد فرماتا ہے كہ ان كے سامنے بزرخ ہے قيامت تك'' اور ايك جگہ فرماتا ہے ''گمان نہ كرو كہ وہ لوگ جو اللہ كے راستے ميں قتل ہوجاتے ہيں وہ مرگئے ہيں بلكہ وہ زندہ ہيں اور اپنے پروردگار سے روزى پاتے ہيں'' خداوند عالم نے ہميں پيغمبر(ص) اسلام كے ذريعہ خبر دى ہے كہ جب انسان مرجاتا ہے اور دنيا كو ترك كرتا ہے_ اور برزخ ميں جاتا ہے تو عالم برزخ ميں اس سے سوال كيا جاتا ہے كہ كتنے خدا كا عقيدہ ركھتے ہو_ كس كے فرمان كے مطيع تھے خدا كے يا غير خدا كے، تيرا پيغمبر كون ہے، تيرا دن كيا ہے، تيرا رہبر و امام كون ہے، جس نے دنيا ميں خداپرستى او رديندارى اور با ايمان زندگى گزارى ہوگى وہ آسانى سے جواب دے گا اور اس كا ايمان ظاہر ہوجائے گا اس مختصر سوال و جواب كے بعد برزخ ميں آرام سے اور خوشى سے قيامت تك زندگى گزاريں گے اور عمدہ نعمتيں جو بہشتى نعمتوں كا نمونہ ہوں گى اسے دى جائيگى ليكن وہ لوگ جو خدا اور اس كے پيغمبر(ص) كو قبول نہ كرتے تھے اور اس كے فرمان كے مطيع نہ تھے بے دين اور ظالم تھے برزخ ميں بھى خدا اور اس كے پيغمبر(ص) كا اقرار نہيں كريں گے ان كا كفر اور ان كے بے دينى ظاہر ہوگى اس قسم كے لوگ برزخ ميں سختى اور عذاب ميں مبتلا ہوں گے برزخ كا عذاب ان كے لئے جہنّم كے عذاب كا نمونہ ہوگا_ برزخ ميں انسان كى حقيقت ظاہر ہوجائے گى اور اس كا ايمان اور كفر واضح ہوجائے گا جو شخص دنيا ميں خدا و قيامت كے دن پيغمبروں(ص) پر واقعاً ايمان ركھتا تھا اور نيكوكار تھا برزخ ميں اس كا ايمان ظاہر ہوجائے گا_ وہ صحيح اور صاف صاف جواب دے گا ليكن جو شخص واقعى ايمان نہيں ركھتا تھا اور ظالم و بدكار تھا برزخ ميں اس كا كفر ظاہر ہوجائے گا اور وہ صحيح جواب نہيں دے سكے گا_
گناہ گار انسان جہنم كے عذاب كا نمونہ برزخ ميں ديكھے گا اور اس كے اعمال كى سزا يہيں سے شروع ہوجائے گى پيغمبر اسلام حضرت محمد ابن عبداللہ صل اللہ عليہ و آلہ و سلم فرماتے ہيں كہ جو لوگ گھر مين بداخلاقى كرتے ہيں برزخ ميں عذاب ميں مبتلا ہوں گے حضرت على عليہ السلام نے فرمايا كہ جو لوگ خچل خورى كرتے ہيں اور جو لوگ شراب سے پرہيز نہيں كرتے برزخ ميں عذاب ميں مبتلا ہوں گے_

 

برزخ ميں سوال و جواب


برزخ ميں سوال و جواب حقيقى ہوگا جو لوگ برزخ ميں جائيں گے ان سے حقيقتاً سوال ہوگا وہ يقينا ان سوال كا جواب ديں گے ليكن برزخ كا سوال و جواب دنيا كے سوال و جواب كى طرح نہيں_ جو لوگ برزخ ميں ہيں سوال كو سنتے ہيں اور جواب ديتے ہيں ليكن اس كان اور زبان سے نہيں جس كے ذريعہ دنيا ميں سنتے اور جواب ديتے تھے بلكہ برزخى زبان اور كان سے، ضرورى نہيں كو بولنا اور سنتا ہميشہ انہى لبوں، زبان اور انہى كانوں سے ہو_ مثلاً آپ خواب ميں اپنے دوست سے كلام كرتے ہيں اس كى باتيں سنتے ہيں اور اس سے گفتگو كرتے ہيں كيا اسى كان اور زبان سے؟ يقينا نہيں_ كبھى خواب ميں كسى ايسى جگہ جاتے ہيں كہ جہاں كبھى نہ گئے تھے ليكن بيدار ہونے كے بعد وہاں جائيں تو سمجھ جائيں گے كہ خواب ميں اس جگہ كو ديكھا تھا خواب ميں كس جسم كے ساتھ ادھر ادھر جاتے ہيں خواب ميں كس آنكھ سے ديكھتے ہيں اور كس كان سے سنتے ہيں كيا اسى كان اور آنكھ سے؟ كيا اسى جسم سے، يقينا نہيں كيوں كہ يہ جسم بستر پر پڑا آرام كر رہا ہے اور آنكھيں بند كى ہوئي ہيں_
اس قسم كے خواب ممكن ہے كہ آپ نے ديكھے ہوں يا آپ كے كسى دوست نے ديكھے ہوں، برزخ كى دنيا واقعى اور حقيقى دنيا ہے اور اس ميں سوال و جواب بھى حقيقى ہيں_ ہم نے خواب كو بطور مثال ذكر كيا ہے_

غور كيجئے او رجواب ديجئے

1)___ آيا ہمارى محنت اور كام بے فائدہ ہيں ہم اپنى كوشش كا نتيجہ كہاں ديكھيں گے؟
2)___ آخرت سے پہلے كس دنيا ميں جائيں گے؟
3)___ خدا نے برزخ كے متعلق كيا فرمايا ہے؟
4)___ جو شخص دنيا ميں خدا اور پيغمبروں پر واقعى ايمان ركھتا ہے برزخ ميں كيسى زندگى گذارے گا؟ اس دنيا كے سوالوں كا كس طرح جواب دے گا؟
5)___ برزخ ميں انسان سے كيا پوچھا جائے گا؟
6)___ برزخ ميں كن لوگوں كا ايمان ظاہر ہوگا؟
7)___ كفر ا ور برائي كسكى ظاہر ہوگي؟
8)___ آيا آخرت ميں جھوٹ بولا جاسكتا ہے؟ اور كيوں؟
9)___ كون سے لوگ برزخ ميں عذاب ميں مبتلا ہوں گے؟
10)___ آيا برزخ كا سوال اور جواب اسى دنياوى زبان اور كان سے ہوگا؟

 

چوتھا سبق
مردے كيسے زندہ ہونگے


حضرت ابراہيم عليہ السلام اللہ كے پيغمبر(ص) تھے وہ آخرت اور قيامت كے دن پر ايمان ركھتے تھے انہيں علم تھا كہ آخرت ميں مردے زندہ ہوں گے اور حساب و كتاب كے لئے حاضر ہوں گے ليكن اس غرض كے لئے كہ ان كا يقين كامل ہوجائے اللہ تعالى سے درخواست كى كہ مردوں كا زندہ كرنا انہيں دكھلائے انہوں نے خدا سے كہا معبود تو كس طرح مردوں كو زندہ كرتا ہے اللہ نے ان سے كہا كيا تم مردوں كو زندہ ہونے پر ايما نہيں ركھتے حضرت ابراہيم عليہ السلام نے جواب ديا كہ خدا يا ايمان ركھتا ہوں ليكن چاہتا ہوں كہ ميرا دل اطمينان حاصل كرے، اللہ تعالى نے حضرت ابراہيم عليہ السلام كى درخواست قبول كرلى اور حكم ديا كہ چار پرندے انتخاب كرو اور انكو ذبح كرو اور ان كو ٹكڑے ٹكڑے كردو اور انہيں اچھى طرح كوٹ دو پھر انكو قيمہ شدہ گوشت اور پروں اور ہڈيوں كو كئي حصّوں ميں تقسيم كردو اور ہر ايك حصّہ كو پہاڑ پر ركھ دو اسكے بعد پہاڑ كے وسط ميں كھڑے ہوجاؤ اور ہر ايك پرندے كو اس كے نام كے ساتھ پكارو و ہ اللہ كے حكم سے تيرے حكم پر زندہ ہوں گے اور تيرى طرف ڈورے آئيں گے اور تم جان لوگے كہ اللہ تعالى عالم و قادر ہے، حضرت ابراہيم عليہ السلام نے اللہ تعالى كے اس حكم پر عمل كيا چار پرندے لئے ايك كبوتر دوسرا كوّا تيسرا مرغ اور چوتھا مور تھا، ان كو ذبح كيا اور ٹكڑے ٹكڑے كر كے انہيں كوٹ كو قيمہ بناديا اور آپس ميں ملاديا پھر ان كاگوشت تقسيم كر كے ہر ايك حصّہ كو پہاڑ پر ركھا اور اس پہاڑ كے وسط ميں كھڑے ہوكر پہاڑ كى طرف ديكھا اور بلند آواز سے مور كو بلايا اور كہا اے مور ہمارى طرف آؤ: مور كے ٹكڑے پہاڑ سے آنحضرت كى طرف آئے اور آپس ميں ملتے گئے اور مور كى گردن، سر، پاؤں اور اس كے پرو ہيںبن گئے اور مور زندہ ہوگيا، اپنے پروں كو ہلايا اور حضرت ابراہيم كے سامنے چلنے لگا اسى طرح كبوتر، كوّا، اور مرغ بھى زندہ ہوگئے حضرت ابراہيم عليہ السلام نے مردہ پرندوں كا اپنے اپنے جسم كے ساتھ زندہ ہونا اپنى آنكھوں سے ديكھا_
آپ(ع) كا ايمان اور يقين كامل تر ہوگيا اور اللہ تعالى كى قدرت كا مشاہدہ كيا اور آپ كا دل مطمئن ہوگيا اور آپ نے سمجھ ليا كہ قيامت كے دن مردے كس طرح زندہ ہوں گے_


غور كيجئے اور جواب ديجئے

1)___ حضرت ابراہيم (ع) نے اللہ تعالى سے كونسى درخواست كى تھي
2)___ اس درخواست كى غرض كياتھي؟
3)___ اللہ تعالى نے حضرت ابراہيم (ع) كى درخواست كا كيا جواب ديا؟ اور انہيں كيا حكم ديا؟
4)___ حضرت ابراہيم (ع) نے اللہ تعالى كے فرمان پر كس طرح عمل كيا؟
5)___ كس طرح پرندوں كو زندہ كيا؟
6)___ كس ذات نے پرندوں كے زندہ كرنے كى قدرت حضرت ابراہيم (ع) كو دى تھي؟
7)___ حضرت ابراہيم (ع) نے اس تجربہ سے كيا نتيجہ ليا؟

 

پانچواں سبق
كس طرح


آپ كس طرح كام كو ياد كرتے ہيں؟ اور كس طرح كام كرنے كے عادى بنتے ہيں؟ ايك كام كا بار بار كرنا آپ كى جان اور روح پر كيا اثر كرتا ہے، جب ايك كام كو بار بار انجام ديں تو وہ آپ كى روح پر كيا اثر كرتا ہے آہستہ آہستہ آپ اس كے عادى ہوجاتے ہيں اور پھر اس كام كو ٹھيك بجالاسكتے ہيں مثلا جب كچھ لكھتے ہيں تو يہ لكھنا آپ پر اثرانداز ہوتا ہے اگر لكھنے ميں ذرا محنت كريں صاف اور اچھى طرح لكھيں تو يہ محنت كرنا آپ كى روح پر اثرانداز ہوگا كہ جس كے نتيجہ ميں آپ كا خط خوشنما اور خوبصورت ہوجائے گا ليكن اگر لكھنے ميں محنت نہ كريں تو يہ بے اعتنائي بر اثر چھوڑے گى جس كے نتيجے ميں آپ كاخط بدنما ہو جائے گا ہم جتنے كام كرتے ہيں وہ بھى اسى طرح ہمارى روح پر اثرانداز ہوتے ہيں اچھے كام اچھے اثر اور برے كام برا اثر چھوڑتے ہيں_

ہمارى زندگى كے كام


جب ہم اچھے كام كرتے ہيں تو وہ ہمارى روح پر اثرانداز ہوتے ہيں اور ہميں پاك اور نورانى كردتے ہيں ہم نيك كام بجالانے سے ہميشہ اللہ تعالى كى طرف متوجہ ہوتے ہيں اور اللہ تعالى سے انس و محبت كرتے ہيں اور نيك كام بجالانے كے انجام سے لذّت اٹھاتے ہيں صحيح عقيدہ ہے اور ہميں نورانى اور خوش رو كرديتا ہے_ برے كردار اور ناپسنديدہ اطوار بھى انسان پر اثر چھوڑتے ہيں انسان كى روح كى پليد اور مردہ كرديتے ہيں پليد روح خدا كى ياد سے غافل ہوا كرتى ہے وہ برے كاموں كى عادى ہونے كى وجہ سے سياہ اور مردہ ہوجاتى ہے اور انسان كو ترقى سے روك ديتى ہے ہمارى خلقت بيكار نہيں ہے اور ہمارے كام بھى بيہودہ اور بے فائدہ نہيں ہيں ہمارے تمام كام خواہ اچھے ہوں يا برے ہم پر اثر انداز ہوتے ہيں اور يہ اثر باقى رہتا ہے ہم اپنے تمام كاموں كے اثرات آخرت ميں ديكھيں گے بہشت اور اس كى عمدہ نعمتيں صحيح عقيدہ ركھنے اور اچھے كاموں كے كرنے سے ملتي ہيں اور جہنّم اور اس كے سخت عذاب باطل عقيدہ اور ناپسنديدہ كاموں كے نتيجے ميں ہمارے تمام كام خواہ اچھے ہوں يا برے ہوں ہمارى زندگى كے حساب ميں لكھے جاتے ہيں اور وہ ہميشہ باقى رہتے ہيں ممكن ہے كہ ہم اپنے كاموں سے غافل ہوجائيں ليكن وہ ہرگز فنا نہيں ہوتے اور تمام كے تمام علم خدا ميں محفوظ ہيں آخرت ميں ہم جب كہ غفلت كے پردے ہت چكے ہوں گے اپنے كاموں كا مشاہدہ كريں گے_
خدا قرآن ميں فرماتا ہے_ كہ جب انسان كو حساب كے لئے لايا جائے گا اور وہ نامہ اعمال كو ديكھے گا اور اپنے اعمال كا مشاہدہ كرے گا تو تعجب سے كہے گا يہ كيسا نامہ اعمال ہے كہ جس ميں ميرے تمام كام درج ہيں كس طرح ميرا كوئي بھى كام قلم سے نہيں چھوٹا_ اللہ تعالى كى طرف سے خطاب ہوگا تيرے كام دنيا ميں تيرے ساتھ تھے ليكن تو ان سے غافل تھا اب جب كہ تيرى روح بينا ہوئي ہے تو تو اس كو ديكھ رہا ہے ''دوسرى جگہ ارشاد الہى ہوتا ہے''
جو شخص اچھے كام انجام ديتا ہے قيامت كے دن اسے ديكھے گا'' اور جو شخص برے كام انجام ديتا ہے معدہ ان كو قيامت كے دن مشاہدہ كرے گا_
اب جب كہ معلوم ہوگيا ہمارے تمام كام خواہ اچھے يا برے فنا نہيں ہوتے بلكہ وہ تمام كے تمام ہمارى زندگى كے نامہ اعمال ميں درج ہوجاتے ہيں اور آخرت ميں ان كا كامل نتيجہ ہميں ملے گا تو كيا ہميں اپنے اخلاق اور كردار سے بے پرواہ ہونا چاہيئے؟


كيا ہمارى عقل نہيں كہتي؟ كہ خداوند عالم كى اطاعت كريں اور اس كے فرمان او رحكم پر عمل كريں؟

غور كيجئے اور جواب ديجئے

1)___ اچھے كام اور اچھا اخلاق ہمارى روح پر كيا اثر چھوڑتے ہيں؟
2)___ برے كام اور برے اخلاق كيا اثر چھوڑتے ہيں؟
3)___ كيا ہمارے برے اور اچھے كام فنا ہوجاتے ہيں؟
4)___ كن چيزوں كے ذريعہ سعادت اور كمال حاصل ہوتا ہے؟
5)___ بہشت كى نعمتيں كن چيزوں سے ملتى ہيں؟
6)___ جہنم كا عذاب كن چيزوں سے ملتا ہے؟
7)___ ہمارے كام كہاں درج كئے جاتے ہيں؟
8)___ كيا ہم اپنے كاموں كو ديكھ سكيں گے؟
9)___ خداوند عالم ہمارے اعمال كے بارے ميں كيا فرماتا ہے؟
10)___ اب جب كہ سمجھ ليا ہے كہ ہمارے تمام كام محفوظ كر لئے جاتے ہيں تو ہميں كون سے كام انجام ديتے چاہيئےور كسى طرح زندگى بسر كرنى چاہيئے